ممبئی ،4اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ ایک طرف سے شیوسینا، این سی پی اور کانگریس اتحاد میں دراڑ کی خبریں آرہی ہیں تو دوسری طرف بی جے پی سرگرم ہوگئی ہے۔ مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما نتن گڈکری نے مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے سے ملاقات کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی آزاد اور چھوٹی پارٹیاں بھی بی جے پی لیڈروں سے رابطے میں بتائی جا رہی ہیں۔ ایک وزیر نے تو یہاں تک دعویٰ کردیا کہ کانگریس کے 25 ایم ایل اے بی جے پی کے رابطے میں ہیں۔
مرکزی وزیر اور بی جے پی کے سینئر رہنما نتن گڈکری نے مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے سے ملاقات کی۔ راج ٹھاکرے کی پارٹی کا مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی میں صرف ایک ایم ایل اے ہے۔ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ شیوسینا اور این سی پی کے کچھ ایم ایل اے راج ٹھاکرے کے رابطے میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے کزن راج ٹھاکرے اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف شیو سینا کے ساتھ بی جے پی کا 25 سال سے زیادہ پرانا اتحاد دو سال پہلے ٹوٹ گیا تھا۔ایسے میں بی جے پی مہاراشٹر کی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا سکتی ہے۔
اس میں راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا بڑا رول ادا کر سکتی ہے۔ایک طرف بی جے پی نئے حلیفوں کی تلاش میں ہے اور دوسری طرف کانگریس کے 25 ایم ایل اے مخلوط حکومت سے ناراض بتائے جاتے ہیں۔
ان ایم ایل اے نے پارٹی کی قومی صدر سونیا گاندھی کو خط لکھا ہے۔ کانگریس کے ایک لیڈر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ اگر وزرا اپنے حلقوں میں کام کو نافذ کرنے کے لیے قانون سازوں کی درخواستوں کو نظر انداز کر دیں گے تو پارٹی انتخابات میں کیسے اچھا کام کرے گی۔دریں اثنا، مرکزی وزیر مملکت راؤ صاحب دانوے نے دعویٰ کیا کہ مہاوی کاس اگھاڑی (ایم وی اے) کے 25 ایم ایل اے بی جے پی کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ پارٹی کے کن لیڈروں نے ان سے رابطہ کیا تھا، لیکن دانوے نے دعویٰ کیا کہ ایم وی اے حکومت میں نظر انداز کیے جانے کی وجہ سے یہ سبھی لیڈر ناراض تھے۔بی جے پی مہاراشٹر میں اکثریت سے بہت پیچھے ہے۔
اس وقت بی جے پی کے پاس 105 ایم ایل اے ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ کانگریس کے 25 ایم ایل اے ان کے رابطے میں ہیں۔ اس کے علاوہ شیو سینا اور این سی پی کے کچھ ایم ایل اے پر بھی بی جے پی کی نظر ہے۔ اگر کانگریس کے 25 ایم ایل اے بھی اپنا رخ بدل لیتے ہیں تو بی جے پی کے پاس 130 ایم ایل اے ہوں گے۔
دوسری طرف، چھوٹی پارٹیوں کے 25 آزاد اور ایم ایل اے ہیں (اس میں ایس پی اور اے آئی ایم آئی ایم کے ایم ایل اے شامل نہیں ہیں)۔اگر بی جے پی انہیں بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو این ڈی اے کے پاس کل 155 ارکان ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی شیوسینا اتحاد کے ساتھ صرف 134 ایم ایل اے رہ جائیں گے۔ یعنی بی جے پی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ اس ریاضی کا چرچا بھی پچھلے کچھ دنوں سے جاری ہے۔



