بین ریاستی خبریں

گجرات:10 ہزار ڈاکٹروں کی غیر معینہ ہڑتال ،صحت خدمات درہم برہم

احمدآباد، 4 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)گجرات میں ڈاکٹروں کی غیر معینہ مدت کی ہڑتال کے باعث صحت کی خدمات درہم برہم ہو گئی ہیں۔ یہاں کے سرکاری اسپتالوں میں طبی خدمات بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہیں۔ دراصل گجرات کے سرکاری میڈیکل کالجوں اور ہسپتالوں کے کم از کم 10000 سرکاری ڈاکٹروں نے پیر کو اپنے زیر التواء مطالبات کو لے کر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی۔

ڈاکٹرز اپنے کئی زیر التواء مطالبات سمیت کانٹریکٹ سروسز کو ریگولرائز کرنے، سرکاری ہسپتالوں اور پی ایچ سیز میں طبی خدمات کی بہتری کے لیے غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے تمام مطالبات 31 مارچ 2022 تک پورے کئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی کے بعد ہم نے اپنی ہڑتال ختم کر دی تھی لیکن ایسا کوئی حکم نامہ جاری نہیں کیا گیا۔ جی ایم ٹی اے کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر جیندر مکوانہ نے کہا کہ ہمیں جلد ہی کسی بھی وقت آرڈر کے بارے میں کوئی امید نظر نہیں آتی۔ اس لیے ہمارے پاس ہڑتال کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

ہڑتال کے پہلے دن سرکاری اسپتالوں، پرائمری اور کمیونٹی ہیلتھ سینٹرز اور ریاست کے محکمہ صحت کی گجرات میڈیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سوسائٹی کے زیر انتظام اسپتالوں میں خدمات ٹھپ ہوگئیں۔ ہڑتال کے باعث ان ڈاکٹروں نے مریضوں کو دیکھنے سے انکار کر دیا۔گجرات میڈیکل ٹیچرس ایسوسی ایشن (جی ایم ٹی اے) کے صدر ڈاکٹر رجنیش پٹیل نے کہا کہ ریاست بھر میں تقریبا 10000 سرکاری ڈاکٹر پیر سے مطالبات کے حل کے انتظار میں غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر چلے گئے ہیں ، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا۔

اس میں سی ایچ سی، پی ایچ سی، ڈسٹرکٹ ہسپتالوں، 6 میڈیکل کالجوں اور نو جی ایم ای آرایس کالج وغیرہ میں تعینات سرکاری ملازمین شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button