ہیملٹن ،05؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) راس ٹیلر نے نیوزی لینڈ کے لیے اپنا آخری میچ نیدرلینڈز کے خلاف تیسرے ون ڈے میں کھیلا جس میں انہوں نے 14 رنز بنائے ، شائقین ان کا استقبال کرنے کے لیے کھڑے ہوگئے ۔ یہ ٹیلر کا نیوزی لینڈ کے لیے 450 واں اور آخری میچ تھا، جس نے ان کے 16 سالہ بین الاقوامی کریئر کا اختتام بھی کیا۔
38 سالہ بلے باز نے اپنا آخری ٹیسٹ میچ اس سال کے شروع میں جنوبی افریقہ کے خلاف کھیلا لیکن وہ اپنے ہوم گراؤنڈ سیڈن پارک میں آخری میچ کھیل کر کرکٹ کو خیرباد کہنا چاہتے تھے۔ قومی ترانے کے دوران ٹیلر کے بچے میکنزی، جونٹی اور ایڈیلیڈ ان کے ساتھ کھڑے تھے۔جب وہ میدان میں اترے اور واپس آئے تو ہالینڈ کے کھلاڑیوں نے ان کے دونوں طرف کھڑے ہو کر ان کا احترام کیا۔
ٹیلر نے اپنا پہلا ون ڈے 2006 میں نیوزی لینڈ کے لیے کھیلا۔اس کے اگلے سال انہوں نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ انہوں نے 112 ٹیسٹ میچوں میں 19 سنچریوں کی مدد سے 7,683 رنز بنائے۔ ٹیلر نے 236 ایک روزہ بین الاقوامی میچوں میں 8,593 اور 102 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 1,909 رنز بنائے۔
ٹیلر دنیا کے واحد کھلاڑی ہیں جنہوں نے تینوں فارمیٹس میں 100 سے زیادہ بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں۔ انہیں اپنے آخری میچ میں کریز پر آنے کے لیے کافی انتظار کرنا پڑا۔ مارٹن گپٹل اور ول ینگ کی دوسری وکٹ کے لیے 203 رنز کی شراکت کی ہوئی ، جس کی وجہ سے انہیں39ویں اوور میں موقع ملا ۔
جیسے ہی وہ گراؤنڈ پر آئے شائقین نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔جب وہ 14 رنز بنا کر آؤٹ ہو کر پویلین واپس لوٹ رہے تھے تو ان کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ ٹیلر نے بعد میں ریڈیو نیوزی لینڈ کو بتایاکہ میں ہمیشہ حالات کے مطابق اور چہرے پر مسکراہٹ کے ساتھ کھیلتا تھا۔
میں نے پورے فخر اور عزت کے ساتھ اپنے ملک کی نمائندگی کی۔ میں شروع سے ہی ملک کے لیے کھیلنا چاہتا تھا۔



