بین ریاستی خبریں

دوتین منٹ کی اذان سے پریشانی،24 گھنٹے کے ’اکھنڈپاٹھ‘ پرچپی کیوں؟سنی علماء پریشد

بنگلورو7اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) کرناٹک پولیس نے اپنے آمرانہ نوٹس میں مساجد سے کہاہے کہ وہ مقررہ لیول کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر استعمال کریں۔ کرناٹک میں 300 سے زیادہ مساجد کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی کے میئر نے نوراتری کے دوران گوشت کی دکانیں بند رکھنے کی بات کی تھی۔

ان تمام پیش رفت کے درمیان سنی علما پریشد کے جنرل سکریٹری حاجی محمدسالم نے کہاہے کہ اذان 2-3 منٹ میں مکمل ہو جاتی ہے اور انہیں اس میں مسئلہ ہے۔

انہوں نے کہاہے کہ انہیں اپنے 24 گھنٹے کے ’اکھنڈپاٹھ‘ میں (شور) آلودگی نظر نہیں آتی۔انہوں نے کہاہے کہ ماحول ایسا بن گیا ہے کہ اگر ہم ٹوپی پہنتے ہیں، داڑھی رکھتے ہیں یا حجاب پہنتے ہیں تو کوئی مسئلہ ہوتا ہے، ہجومی تشدد ہوتا ہے۔ وہ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ ہم کیا کھاتے ہیں۔

انہوں نے کہاہے کہ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ ایسی باتیں کیوں کی جا رہی ہیں، ہندوستان میں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہ رہے ہیں، لیکن اب ماحول خراب ہوتا جا رہا ہے، ایسی طاقتوں کے خلاف لوگوں کو ہی آنا پڑے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button