قتل سے بھی بدتر جرم ہے ریپ، روح مر جاتی ہے عدالت نے 28 سالہ نوجوان کو سنا دی10 سال قید کی سزا
ممبئی،10؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی کی ایک عدالت نے ذہنی طور پر مریض لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ قتل انسانی جسم کو تباہ کر دیتا ہے لیکن عصمت دری انسان کی روح کو تباہ کر دیتی ہے۔ ایک 28 سالہ نوجوان نے اپنے ایک ساتھی کے ساتھ مل کر 15 سالہ ذہنی طورپرمریض لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی تھی جس میں عدالت نے ملزم کو 2012 میں مجرم قرار دیا تھا۔
کیس میں جاری سماعت کے دوران ایک ملزم کی موت ہو گئی ہے، جبکہ دوسرے ملزم کو خصوصی POCSO عدالت نے 10 سال کی سزا سنائی ہے۔ معلومات کے مطابق متاثرہ نے عدالت کے سامنے ملزم کے خلاف بیان دیا۔
نیز جج ایچ سی شندے نے کہا کہ متاثرہ کا بیان قبول کیا جا سکتا ہے۔ متاثرہ لڑکی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم نے اسے دھمکی دی تھی کہ اگر اس نے یہ بات کسی کو بتائی تو اس کے بہت برے نتائج ہوں گے۔نیزعدالت نے دفاع کی اس دلیل کو مسترد کر دیا کہ یہ غلط شناخت کا معاملہ ہے۔ عدالت نے کہا کہ متاثرہ نے ملزم کی شناخت حملہ آور کے طور پر کی ہے۔
معلومات کے مطابق متاثرہ کی ماں نے پولیس کو ریپ کی اطلاع دی تھی۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی کو یہ ملزمان 10 روپئے دینے کا وعدہ کرکے لے گئے اور اس کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی۔



