سرورقگوشہ خواتین و اطفال

نو عمر لڑکیوں میں عشق کا مرض – وجوہات، نقصانات اور اسلامی تربیتی رہنمائی

✍️ڈاکٹر نازنین سعادت

نوعمری میں جذبات کا یہ سیلاب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی حکمت کی نشانی ہے۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں بچہ زندگی کے اگلے مرحلوں کے لئے تیار ہورہا ہوتا ہے۔ ایک لڑکی جو ابھی تک اپنی ماں کی نگرانی اور سائے میں پرورش پارہی تھی، اسے اب زندگی کے اگلے مرحلوں کے لئے تیار ہونا ہے تاکہ وہ سماج میں ایک ذمے دار خاتون کا کردار ادا کرسکے۔

🌸 حقیقی منظر نامہ

شہر کے مسلم علاقے کی ایک پندرہ سولہ سالہ لڑکی برقع پوش ہوکر تقریباً اسی عمر کے ایک لڑکے کے ساتھ پارک میں داخل ہوتی ہے۔ ڈری سہمی مگر اپنی مرضی سے آئی ہے۔ یہ منظر آج کل بڑے شہروں میں عام ہیں — پارکوں، تفریحی مراکز اور تعلیمی اداروں میں برقع پوش لڑکیاں لڑکوں کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں۔

مسلم معاشرہ بھی اب اس لہر سے محفوظ نہیں رہا۔ بوائے فرینڈ-گرل فرینڈ کلچر نے مسلم نوجوانوں میں بھی جڑ پکڑ لی ہے۔

🧠 نوعمری میں نفسیاتی و جسمانی تبدیلیاں

اس عمر میں لڑکے اور لڑکیاں جسمانی، جذباتی اور نفسیاتی تبدیلیوں سے گزرتے ہیں۔ جنسی ہارمونز کے بڑھنے سے جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں مگر جذباتی پختگی اکثر ساتھ نہیں آتی۔
دماغ کا "پری فرنٹل کارٹیکس” حصہ — جو اچھے برے کا فیصلہ کرنے کے لیے ذمے دار ہوتا ہے — بیس سال کی عمر تک مکمل نہیں بنتا۔ اسی وجہ سے نوعمروں کے فیصلے اکثر جذباتی اور غیر منطقی ہوتے ہیں۔

❤️ ہارمونز اور جذباتی ہیجان

ایڈرینالائن اور ڈوپامائن جیسے ہارمونز نوعمروں میں دل کی دھڑکن تیز، پسینہ اور وقتی خوشی پیدا کرتے ہیں۔ یہ کیفیت بالکل اس نشے جیسی ہے جو عارضی خوشی دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ لڑکے لڑکیاں ان احساسات کو "محبت” سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ وہ صرف وقتی کیمیائی ردعمل ہوتے ہیں۔

🕋 اسلام کا فطری زاویہ

اسلام اس فطری جذبے کو نکاح کے ذریعہ منضبط کرتا ہے تاکہ یہ جذبہ پاکیزہ انداز میں خاندان، نسل اور تربیت کے تسلسل کا ذریعہ بنے۔
لیکن جب یہ جذبہ وقت سے پہلے اور غلط سمت میں بہک جاتا ہے تو تباہی یقینی ہوجاتی ہے — فرد، خاندان، حتیٰ کہ پورا سماج متاثر ہوتا ہے۔


⚠️ کم عمری کے عشق کے نقصانات

  • لڑکوں میں جارحیت اور زبردستی کے رجحانات بڑھ جاتے ہیں۔

  • لڑکیاں جذباتی بلیک میلنگ کا شکار بنتی ہیں۔

  • تعلیم، مشاغل اور خاندانی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔

  • رشتے جلد ٹوٹ جاتے ہیں، مایوسی اور ڈپریشن بڑھتا ہے۔

  • شادی کے بعد بھی احساس جرم اور عدم اطمینان لاحق رہتا ہے۔

تحقیقات کے مطابق نوعمری کے 80 فیصد رشتے چند مہینوں میں ختم ہوجاتے ہیں۔ نتیجتاً لڑکیاں نفسیاتی دباؤ، خودکشی کے خیالات، یا ازدواجی مسائل میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔


🌷 لڑکیوں کی تربیت: والدین کے لیے رہنمائی

۱۔ حیا کا تصور

اسلام کا بنیادی وصف حیا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا:

"إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ”
حیا، عورت کی عزت اور سب سے طاقتور محافظ ہے۔ والدین کو بچیوں میں حیا کا شعور اور اس کی قدر پیدا کرنی چاہیے۔

۲۔ خاندانی محبت

ماہرین کے مطابق اگر والدین بچیوں کے جذباتی خلا کو محبت سے پُر کر دیں تو وہ باہر محبت ڈھونڈنے نہیں جاتیں۔
مائیں اپنی بیٹیوں کی بہترین دوست بنیں تاکہ وہ دل کی باتیں چھپا کر غلط راستے پر نہ جائیں۔

۳۔ اسلامی آداب کی پابندی

بلوغت کے فوراً بعد شرعی احکام لاگو ہوتے ہیں۔

  • حجاب کی پابندی

  • غیر محرم سے فاصلہ

  • تنہائی میں ملاقات سے پرہیز

  • غیر ضروری گفتگو یا دوستی سے اجتناب

۴۔ سوشل میڈیا کا استعمال

سوشل میڈیا پر غیر محرم کے ساتھ بے تکلف گفتگو، تصاویر پر تبصرے یا نجی چیٹ شرعاً ناجائز ہیں۔
والدین کو اپنی بچیوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے۔

۵۔ صحت مند مشاغل

لڑکیوں کو بامقصد تنظیموں اور سرگرمیوں سے جوڑیں جیسے جی آئی او یا ایس آئی او تاکہ ان کی توانائیاں مثبت سمت میں استعمال ہوں۔

۶۔ آزادی اور کنٹرول کا توازن

نہ ضرورت سے زیادہ سختی کریں نہ مکمل آزادی دیں۔
والدین کا متوازن رویہ ہی بچوں میں ذمہ داری اور خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔

۷۔ مسلسل واقفیت

دوستانہ ماحول میں بیٹیوں کی سرگرمیوں سے باخبر رہیں۔
ان کے دوستوں اور سوشل میڈیا رابطوں پر نگاہ رکھیں۔ جو مائیں اپنی بیٹیوں کی دوست بنتی ہیں، ان کی بچیاں کم غلط راستے پر جاتی ہیں۔


نوعمری کا عشق دراصل غلط سمت میں بہنے والا فطری جذبہ ہے۔
اگر والدین بچپن ہی سے حیا، اسلامی آداب، جذباتی توازن اور سوشل میڈیا کی تربیت دیں تو بچیاں اپنے مستقبل کو برباد ہونے سے بچا سکتی ہیں۔

اسلامی تربیت، خاندانی محبت اور مثبت ماحول ہی اس "مرضِ عشق” کا علاج ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button