نئی دہلی،11؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے پیر کو کانگریس کے سینئر لیڈر ملکارجن کھڑگے سے نیشنل ہیرالڈ کیس سے متعلق منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔ افسران نے یہ معلومات فراہم کیں۔
حکام نے بتایا کہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر کھڑگے کو تحقیقات کے سلسلے میں وفاقی ایجنسی کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ایجنسی تحقیقات سے متعلق کچھ پہلوئوں کو سمجھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھڑگے کا بیان منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت ریکارڈ کیا جائے گا۔
انکم ٹیکس نے اپنے نوٹس میں کہاکہ راہل گاندھی نے 27 جولائی 2011 کو 2011-12 کواپنی آمدنی کاریٹرن داخل کیا، جس میںگھریلو جائیدادوں سے آمدنی اور دیگر ذرائع سے آمدنی کے تحت 68لاکھ سے زائد کی آمدنی کا اعلان کیاہے۔
محکمہ انکم ٹیکس کی تحقیقات نے 2015 میں ایسوسی ایٹ جرنلز لمیٹڈ کی 99.1 فیصد ایکویٹی میسرز ینگ انڈیا کو منتقل کرنے کے لیے راہل گاندھی سمیت بعض افراد کے خلاف ٹیکس چوری کی ایک تفصیلی درخواست جمع کرائی اور راہل گاندھی اس میں موجود ڈائریکٹرز میں سے ایک تھے ۔
آئی ٹی ڈپارٹمنٹ نے کہاکہ تاہم راہل گاندھی کے پاس ینگ انڈیا کے حصص تھے اور وہ اس کے ڈائریکٹرز میں سے ایک تھے جب انہوں نے 31 مارچ 2011 کو آئی ٹی ریٹرن میں اپنے اثاثوں اور واجبات کا انکشاف کیا تھا۔راہل گاندھی نے جان بوجھ کر اس معلومات کو چھپایا کہ انہوں نے ینگ انڈیا کے حصص میں سرمایہ کاری کی تھی اور وہ اس کے ڈائریکٹرز میں سے ایک تھے۔
انکم ٹیکس نے مزید کہا کہ اے آئی سی سی کی طرف سے 90.21 کروڑ روپئے کا ’فرضی قرض‘ ایسوسی ایٹڈ جرنلز کو دیا گیا تھا، جسے بعد میں ینگ انڈیا کو 50 لاکھ روپئے کی معمولی رقم میں منتقل کر دیا گیا، جو کہ مکمل ٹیکس چوری ہے۔ تحقیقات میں مزید انکشاف ہوا کہ اے جے ایل کے 9,02,168,980 شیئرز، جن میں سے ایک شیئر کی قیمت 10 روپئے تھی، ینگ انڈیا کو الاٹ کیے گئے تھے۔



