قومی خبریں
سپریم کورٹ نے ہریدوار دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں ہماچل حکومت کو نوٹس جاری کیا
نئی دہلی،13؍اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہریدوار دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں سپریم کورٹ نے ہماچل حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کو ہماچل پردیش میں منعقد ہونے والی دھرم سنسد پر روک لگانے کے لیے مقامی کلکٹر سے رجوع کرنے کی آزادی دی۔
اتراکھنڈ حکومت کو بھی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اب سماعت 22 اپریل کو ہوگی۔ درخواست گزار کی طرف سے کپل سبل نے کہا کہ دھرم سنسد اتوار کو ہماچل میں ہونے والی ہے۔ اس پر بھی پابندی لگنی چاہئے، لیکن جسٹس اے ایم کھانولکر نے کہا کہ اس سے پہلے ہماچل حکومت کی بات سننی ہوگی ۔
درخواست گزار مقامی کلکٹر سے رجوع کر سکتے ہیں، اتراکھنڈ حکومت کی طرف سے بتایا گیا کہ اس معاملے میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہیں، جن میں سے تین چارج شیٹ داخل کی گئی ہیں۔ ہم اس معاملے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں گے۔
دراصل صحافی قربان علی اور پٹنہ ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس انجنا پرکاش کی طرف سے دائر ایک رٹ پٹیشن میں چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس ہیما کوہلی کی بنچ نے مرکز، دہلی پولیس اور اتراکھنڈ حکومت کو 12 جنوری کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔اس کے بعد اتراکھنڈ پولس نے یتی نرسمہانند اور جتیندر نارائن تیاگی (سابق وسیم رضوی) کو دھرم سنسدمیں نفرت انگیز تقریر کے سلسلے میں گرفتار کیا۔
ہریدوار میں منعقد دھرم سنسد کے معاملے میں اب ہندو سینا بھی سپریم کورٹ پہنچ گئی ہے اور دھرم سنسد میں نفرت انگیز تقاریر کی کارروائی کی مخالفت کی ہے۔ یہ بھی کہا کہ اگر دھرم سنسد معاملے میں کارروائی کی جاتی ہے تو نفرت انگیز تقریر پر مسلم لیڈروں کو بھی گرفتار کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ درخواست میں ہندو سینا کو بھی فریق بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔



