بین ریاستی خبریں

اکھلیش یادو سے مسلمانوں کی ناراضگی بڑھنے لگی

لکھنؤ13اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مسلم مسائل پر اکھلیش یادو کی چپی سماجوادی پارٹی کے لیے پریشان کن ہوسکتی ہے۔اعظم خان  Azam Khan ہوں یامسلمانوں سے متعلق کوئی مسئلہ ہو،اکھلیش یادو  Akhilesh Yadav نہ تو سڑک پر ہوتے ہیں اور نہ آواز اٹھاتے ہیں۔جب کہ مسلمانوں نے انھیں جم کرووٹ دیا۔ان کی پارٹی کے ایم پی شفیق الرحمن برق ناراضگی کااظہارکرچکے ہیں۔

اب اعظم خان کے قریبی افرادنے اکھلیش یادوکے خلاف مورچہ کھول دیاہے۔اترپردیش اسمبلی انتخابات کے نتائج کے بعد سماج وادی پارٹی کے سپریمو اکھلیش یادو کو لے کر مسلم لیڈروں میں ناراضگی بڑھتی نظر آرہی ہے۔

آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے قومی جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین رضوی نے ریاست کے مسلمانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ایس پی کے علاوہ کسی اور متبادل پر غور کریں۔ انہوں نے کہاہے کہ ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کے ایس پی میں بڑا فرق ہے۔

اس کے ساتھ انہوں نے الزام لگایاہے کہ اکھلیش یادو نہ صرف ٹالتے ہیں بلکہ داڑھی اور ٹوپی والے مسلمانوں سے بھی نفرت کرتے ہیں۔ مولانا شہاب الدین رضوی نے کہاہے کہ مسلمانوں کو اب سیکولرازم کا ٹھیکہ لینا چھوڑ دینا چاہیے اور اپنی سیاست اور اپنی شمولیت کے بارے میں نئے سرے سے بات کرنی چاہیے۔

جب تک وہ ایک مخصوص پارٹی کی حمایت کے ساتھ زندہ رہیں گے، انہیں کچھ نہیں ملے گا۔ مسلمانوں کو اب نئی حکمت عملی بنانی چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے الیکشن کے دوران مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ اکھلیش یادو مسلمانوں کے دوست نہیں ہیں۔

اس نے ہر جگہ بڑے مسلم چہروں کو پیچھے رکھنے کی کوشش کی اور تنہا انتخابی مہم چلاتے رہے۔ ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو متبادل پر بحث کرنی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button