سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

اپنا محاسبہ کریں،کیوں ہم پر ظالم حکمراں مسلط ہیں✍️حافظ محمد الیاس

ماہ رمضان المبارک کا پہلا عشرہ  ہو گیا ہے ۔ یہ بابرکت اور مقدس مہینہ اپنی تمام رحمتوں برکتوں اور عظمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہو گیا ہے ساری دنیا کےمسلمان اس مہینے میں رجوع الی اللہ ہوتے ہیں اور اپنے گناہوں سے دوری اختیار کر تے ہیں ۔ گناہوں سے توبہ کرتے ہیں اور اللہ رب العزت کی بارگاہ میں توبہ واستغفار کرتے ہوۓ اس کی رحمت اور اس کے فضل وکرم کے طلبگار ہوتے ہیں۔

ویسے تو ہر سال ماہ رمضان المبارک اپنی رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ آتا ہے اور اپنی نعمتیں لٹاتا ہے ہر سال کی طرح اس سال بھی رمضان ہم پر سایہ فگن ہو گیا ہے تاہم ہمیں اپنے آپ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہےہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے اس ماہ مبارک کا استقبال اس کے شایان شان کیا ہے یا نہیں کیا ہم نے اپنے آپ کو اپنے نفس کی غلامی سے پاک کر کے رمضان کی تیاری کی ہے کہ نہیں ہمیں اپنے آپ میں تقوی پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنے ظاہر کی طرح اپنے باطن کو بھی پاک کرتے ہوۓ خالص للہیت کے ساتھ اللہ تبارک و تعالی کی بارگاہ میں رجوع ہونے کیضرورت ہے ماہ رمضان ہمیں جو پیام دیتا ہے اس کوسمجھنے کی ضرورت ہے۔

یہ مقدس مہینہ صرف بھوکے یا پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے۔ اس ماہ میں خودکو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالنے کی سعی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم سال بھر اللہ تبارک وتعالی کے احکامات اور پیارے آقا حضرت محمد مصطفی کی تعلیمات کے مطابق عمل کرتے رہیں۔

ہمیں اپنے باطن کو پاک کرتے ہوئے تقوی والی زندگی کو محسوس کرنے اور اسے گذارنے کی ضرورت ہے صرف بھوک پیاس پر اکتفا نہیں کرنا بلکہ زندگی کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے ہوۓ خود کواحکام خداوندی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم حقیقی معنوں میں اس ماہ مبارک کے پیام کو سمجھ سکیں اور اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں جاری کر سکیں۔

یہ ماہ مبارک ہمیں دوسروں کی تکلیف، پریشانیوں کو سمجھنے کا بھی موقع فراہم کرتا ہےدوسروں کی غمخواری و مددکرنے کی ترغیب دیتا ہے اور اس کا ہمیں بار بارحکم بھی دیا گیا ہے۔اسلام نے جواحکام دیے ہیں ان پر پوری طرح عمل کرتے ہوئے ہمیں اپنے عزیز واقارب رشتہ داروں اور پاس پڑوس کے لوگوں کی بھی دل کھول کر مدد کرنے کیضرورت ہے۔ صرف ضابطہ کی تکمیل سے اسلام کے احکام کی تعمیل نہیں ہوسکتی۔

عزیز واقارب اور پڑوسیوں کی مدد کی ہمیں بارہا تلقین کی گئی ہے اور اس کو صدق دل کے ساتھ پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔ پیواؤں اور یتیموں کی مدد میں ہمیں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت ہے یہ مقدس مہینہ احکام خداوندی پرعمل کرتے ہوئے آخرت کی کمائی کرنے کا مہینہ ہے دلوں کو کدورتوں سے پاک کرنے اور ایک دوسرے سے میل جول اور محبت واخوت کو فروغ دینے کا مہینہ ہے۔ دل کو حسد اور جلن سے پاک کرنے کا مہینہ ہے ۔

دنیاوی طلب کی خاطر نیک اعمال کرنے اور دکھاوا کرنے سے ہمیں بچنا چاہئےریا کاری ایک انتہائی کریہہ گناہ ہے اور اس کی سخت ترین وعیدہےہمیں دوسروں کی مدد کرتے ہوئے ان پر احسان کرنے کاجذبہ نہیں رکھنا چاہئےبلکہ خداوند تعالی کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے کہ رب تبارک وتعالی نے ہمیں دینے والا بنایا ہے۔ کسی کی مدد کرتے ہوئے تصویرکشی کرنےسےگریز کرنا چاہئے ۔

یتیموں اور غریبوں کی دادرسی کرتے ہوئے ان کے ساتھ نازیبا سلوک نہیں کیا جاناچاہئے۔ ہمیں بھی اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں میں حصہ دار بنانے کا جذبہ اپنے آپ میں پیدا کرنا چاہئے۔اپنے آپ کومثبت انداز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔اللہ رب العزت نے اس ماہ مبارک میں جو عبادات کا حکم دیا ہے ان کو بجالانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھنی چاہئےساتھ ہی ہمیں اپنے اعمال اور اپنے کردار کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج دنیا بھر میں ہم ذلیل و رسوا کیوں کئےجارہے ہیں ۔ ہم پر ظالم حکمراں کیوں مسلط کر دئے گئے ہیں ہمارے اعمال میں کیا کچھ کوتاہیاں ہیں جس کی ہمیں سزامل رہی ہے اجتماعی اور انفرادی سطح پر اعمال کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں خود میں اور اپنے کردار میں تبدیلی لانے اور اسلامی تعلیمات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہو جانے کی ضرورت ہےجب ہم اسلامی تعلیمات پر کامل عمل پیرا ہو جائیں گے تب ہی ہم رمضان کی رحمتوں و برکتوں کے حقیقی حقدار کہلائیں گے۔

٭٭٭٭

متعلقہ خبریں

Back to top button