سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

خدا کا خوف کرو اور سودی کاروبار چھوڑدو

’’اے لوگو! جو ایمان لائے ہو۔ خدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر واقعی تم ایمان لائے ہو لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اب بھی توبہ کرلو تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو نہ تم پر ظلم کیا جائے۔(سورۃ البقرہ آیات 278 تا 280)

تمہارا قرض دار تنگ دست ہو ، تو ہاتھ کھلنے تک اسے مہلت دو اور جو صدقہ کردو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم سمجھو۔اللہ تبارک تعالیٰ مذکورہ آیات کے ذریعہ اہل ایمان کو سود کی لعنت سے محفوظ رہنے کی تعلیم دے رہے ہیں کیونکہ سودی نظام معاشرتی زندگی کیلئے نقصان دہ ہے۔

سودی نظام اور اولاد آدم:سودی نظام ایک ایسا قبیح طریقہ ہے جس کے ذریعہ سے اولاد آدم میں خود غرضی خود پسندی و زر پرستی کی بیماری پھیلتی ہے تو دوسری جانب نفرت و عداوت ، غصہ و بغض پروان چڑھتا ہے جس کی وجہ سے انسانی معاشرے سے ہمدردی اور آدمیت ختم ہوجاتی ہے اور ہر طرف بدامنی بے چینی کا دور چل پڑتا ہے آخر کار اس کا انجام قتل و خون غارت گری کی شکل میں ہمارے سامنے آتا ہے۔

خدا کا خوف:خدا کا خوف ہی ایک ایسی بلند ترین چیز ہے جس سے زندگی کنٹرول میںرکھی جاسکتی ہے کیونکہ اہل ایمان توحید و رسالت کے ساتھ ساتھ آخرت پر یقین رکھتے ہیں، یعنی ایک دن مرنا ہے اور اپنی قبروں سے اٹھنا ہے اور اپنی زندگی کا حساب دینا ہے اور نیکی کا بدل جنت بدی کا ٹھکانہ جہنم ہے، مضمون کے ابتداء میں جو آیات پیش کی گئی ہیں ان کا آغاز بھی یوں ہورہا ہے کہ اے ایمان والو خدا سے ڈرو ، ڈرنا اس بات پر کہ آگے جو احکام بیان کئے جارہے ہیں اس پر کامل طور پر عامل ہوجائو اور آخرت میں نافرمانوں کو جو سزا ہوگی اس سے اپنے آپ کو محفوظ کرلو۔

’’احکام الٰہی کی پابندی‘‘:اللہ تبارک تعالیٰ اپنے احکام کو بتدریج نازل فرماتے رہے جس میں ایک حکم سودی کاروبار سے متعلق ہے، اللہ تعالیٰ فکر آخرت کو اہل ایمان کے ذہنوں میں تازہ فرماتے ہوئے احکام نازل فرماتے ہیں کہ اے میرے پیارے بندوں دیکھو تم ایمان لائے ہو لہذا اس کا عین تقاضہ یہ ہے کہ میرے نازل کردہ احکام کی پابندی کرو۔

اس طرح میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں کہ تمہارا جو کچھ سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو ، اگر تم واقعی مجھ پر ایمان لائے ہو، آیت مبارکہ کہ اس فقرے سے یہ بات واضح ہوکر ہمارے سامنے آرہی ہے کہ سودی کاروبار اور ایمان ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے جو شخص ایمان کا دعویٰ کرتا اور سود بھی کھاتا ہے تو قرآن کی تعلیمات کی رو سے وہ شخص اپنے دعوائے ایمان میں جھوٹا ہے۔

اے مسلمانو اب سود کے متعلق تمہیں حکم دیا جارہا ہے کہ اب تک جو کچھ ہوا سو ہوا لیکن آئندہ کبھی سود نہ کھانا جو کچھ سود میرے احکام نازل ہونے کے بعد لوگوں پر رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو کیونکہ یہ تمہارے لئے حرام ہے۔

نافرمانوں سے متعلق اعلان جنگ:جو لوگ اللہ کے احکام واضح طور پر آجانے کے بعد بھی سودی کاروبار جاری رکھتے ہیں یعنی سود کھانے سے اجتناب نہیں کرتے ایسے لوگوں کو وارننگ دی جارہی ہے کہ آگاہ ہوجائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے لئے اعلان جنگ ہے۔ کیا دنیا میں کوئی ایسی طاقت ہے جو خدا اور رسول کے مد مقابل ٹہرسکے؟ حضرت مولانا سید ابوالاعلی مودودی علیہ الرحمہ اس سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ

یہ آیت فتح مکہ کے بعد نازل ہوئی اور مضمون کی مناسبت سے اس سلسلہ کلام میں داخل کردی گئی۔ اس سے پہلے سود ایک نا پسندیدہ چیز سمجھا جاتا تھا۔ اس آیت کے نزول کے بعد اسلامی حکومت کے دائرے میں سودی کاروبار ایک فوج داری جرم بن گیا، عرب کے جو قبیلے سود کھاتے تھے ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمال کے ذریعہ آگاہ فرمادیا کہ اگر اب وہ اس لین دین سے باز نہ آئیں تو ان کے خلاف جنگ کی جائے گی۔

نجران کے عیسائیوں کو جب اسلامی حکومت کے تحت اندرونی خود محتاری دی گئی تو معاہدے میں یہ تصریح کردی گئی کہ اگر تم سودی کاروبار کرو گے تو معاہدہ فسخ ہوجائے گا اور ہمارے تمہارے درمیان حالت جنگ قائم ہوجائے گی۔

آیت کے آخری الفاظ کی بناء پر ابن عباس، حسن بصری ، ابن سیرین اور ربیع بن انس کی رائے یہ ہے کہ جو شخص دارالسلام میںسود کھائے اسے توبہ پر مجبور کیا جائے اور اگر باز نہ آئے تو اسے قتل کردیا جائے۔ دوسرے فقہا کی رائے میں ایسے شخص کو قید کردینا کافی ہے جب تک وہ سود خواری چھوڑ دینے کا عہد نہ کرے، اسے نہ چھوڑا جائے۔( حوالہ تفہیم القرآن جلد اول صفحہ نمبر 218 حاشیہ 232)

اب بھی توبہ کرلو:سودی کاروبار کرنے والوں کے خلاف اعلان جنگ کے اظہار کے بعد اللہ تعالیٰ پھر ایک بار موقع فراہم کررہے ہیں کہ اب بھی توبہ کرلو سودی کاروبار بند کردو۔ توبہ ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعہ سے بندہ اللہ کی طرف رجوع ہوتا ہے جس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ اس بندے کی تمام خطائوں کو درگزر فرمادیتے ہیں سچی توبہ یہ ہے کہ بندہ جس گناہ سے تائب ہوا ہے وہ اس کا اہتمام رکھے کہ اس کے شب و روز میں اس گناہ کا اعادہ نہ ہونے پائے۔ ٹھیک اسی طرح یہاں پر بھی یہی فرمایا جارہا ہے کہ اب بھی توجہ کرلو اور سود چھوڑ دو تو میں درگزر کا معاملہ تمہارے ساتھ کروں گا۔

اللہ کا بہترین انصاف:اللہ تبارک و تعالیٰ سودی کاروبار پر امتناع عائد کرنے کے بعد سابقہ تمام سودی معاملتوںکی یکسوئی یوں فرما رہے ہیں کہ دیکھو جو رقم (تم نے سود پر دی تھی) صرف اصل رقم کے تم حق دار ہو یعنی سودی رقم کا ہر گز مطالبہ نہ کرنا اور دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ جو لوگ سود پر رقم حاصل کرچکے انہیں چاہئے کہ اصل رقم کی حد تک بغیر کسی کمی کے واپس لوٹا دیں۔

یعنی فریقین کو یہ تعلیم دی جارہی ہے کہ نہ تم ظلم کرو اور نہ ہی تم پر ظلم کیا جائے یعنی امتناعی احکام آنے کے باوجود اصل رقم کے ساتھ سود کا مطالبہ کرنا ظلم ہے اور دوسری جانب یہ فرمایا جارہا ہے کہ سودی کاروبار پر امتناع عائد کرنے کا نا جائز فائدہ مت اٹھائو یعنی سرمایہ دار سے یہ مت کہو کہ ہم نے تمہیں اب تک بہت کچھ سود کی شکل میںادا کردیاہے لہذا اب تمہیں اصل رقم نہیں لوٹائیں گے یا اس میں کچھ کمی کردیں گے وغیرہ اس طرح کا عمل بھی ظلم ہے۔

انسانی ہمدردی:مہلت دو۔ اسلامی تعلیمات یہ ہیں کہ اہل ایمان بندوں کے درمیان انسانی ہمدردی رواج پائے۔ اہل ایمان کی حیثیت ایک جسم واحد کی ہے جس طرح جسم کے کسی حصہ کو کچھ تکلیف پہنچتی ہے تو آنکھ اس کا اثر قبول کرتے ہوئے آنسوں کے ذریعہ اس کا اظہار کرتی ہے لیکن بحیثیت مجموعی اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ مسلمان سارے انسانوں کے ساتھ ہمدردی رکھیں اسی ہمدردی کے تحت یہ بات کہی جاری ہے کہ اگر تمہاراقرض دار تنگ دست ہے تو اسے اس کا ہاتھ کھلنے اور اور تنگ دستی ختم ہونے تک مناسب مہلت دو تا کہ وہ بندوبست کرتے ہوئے تمہاری رقم لوٹانے کا متحمل ہوسکے۔

وعدہ کی پابندی:یہاں اس بات کی تذکیر بے محل نہ ہوگی کہ جو شخص کسی کا مقروض ہو اسے چاہئے کہ اس کی ادائیگی کی سبیل تلاش کرے اپنے فاضل اخراجات پر روک لگائے اور ممکن حد تک یہ کوشش کرے کہ بہر حال قرض ادا ہوجائے، اگر مقروض کی نیت قرض ادا کرنے کی ہوتو انشا اللہ ، اللہ تعالیٰ بھی اس کی ادائیگی کے راستے ہموار کردیتے ہیں کیونکہ اعمال کا سارا دارومدار نیت پر منحصر ہے۔

لوگ قرض کی ادائیگی میں وعدہ خلافی کرنا چھوڑ دیں تو معاشرے کیلئے دو فائدے ہوں گے پہلا یہ کہ لوگ وعدہ کے پابند ہوجائیں تو سرمایہ دار لوگ اپنے بھائیوں کو قرض بڑی آسانی سے دینے لگیں گے اور اس طرح لوگوں کی ضروریات پوری ہوتی رہیں گی دوسری چیز یہ کہ جب قرض آسانی سے دستیاب ہونے لگیں گے تو سودی کاروبار کے دروازہ بند ہوتے چلے جائیں گے اس طرح وعدہ کی پابندی معاشرتی زندگی میں بہت بڑا انقلاب برپا کرتی ہے۔

صدقہ کی ترغیب:آیات مبارکہ کے آخر میں ایک خاص بات بتائی گئی ہے، اہل ایمان کو نیکی کمانے اور آخرت کو بنانے کیلئے یہ فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم قرض کو معاف کردو تو یہ آخرت میںتمہاری سرخروئی و کامرانی کیلئے بہترین ذریعہ ہے۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث یوں آئی ہے کہ ’’سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے تنگ دست کو مہلت دی یا اس کا قرض معاف کیا، اللہ تعالیٰ اس کو اپنا سایہ رحمت عطا فرمائے گا جس روز اس کے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔

صدقات کے متعلق ایک اور جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان یوں آیا ہے کہ ’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو نشونما دیتا ہے‘‘۔

حاصل کلام:حقیقت تو یہ ہے کہ اصل تجارت وہ ہے جس میں نفع کی امید ہو اور نقصان کا اندیشہ بھی رہے۔ اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کی رقم کسی کاروبار میں مشغول رہے اور اس کے ذریعہ سے نفع حاصل ہو تو اسے چاہئے کہ نفع نقصان کی اساس پر معاہدہ کرتے ہوئے اپنے سرمایہ کو مشغول کرے لیکن جو سود خور ہوتا ہے اسکی نظر صرف نفع پر ہوتی ہے اور نقصان کے تصور سے اس کا جی کانپ اٹھتا ہے۔

اس کی یہ بزدلی حرام خوری کی عادت کی بنا پر ہوتی ہے، سود خوار آدمی خلق خدا کیلئے کسی بھی طرح فائدہ مند نہیں ہوتا کیونکہ زر پرستی جس آدمی میں سماجاتی ہے تو پھر کسی شعبہ میں بھی اس شخص سے خیر کی امید نہیں رکھی جاسکتی۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں سودی لعنت سے بچائے رکھے آمین۔

متعلقہ خبریں

Back to top button