سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

گل بنفشہ بلڈ پریشر اور شگر میں عظیم نعمت

حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحبزادہ ماہر نباض مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی رحیمی شفا خانہ بنگلور

ذیابیطس کی وجہ سے دل بہت ہی بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں کو بغیر کسی علامت کے ہارٹ اٹیک (قلب کا دورہ) پڑسکتا ہے۔ اس کو سائلنٹ ہارٹ اٹیک (SILENTHEARTATTACK) کہا جاتا ہے۔ یعنی عام طور پر ہارٹ اٹیک آنے سے پہلے مریضوں کو چند علامتیں ظاہر ہوتی ہیں۔ مثلاً دل کے مقام پر درد۔ پسینہ زیادہ آنا، قئے یا متلی کی شکایت، بلڈ پریشر کا زیادہ ہوجانا۔

ان علامتوں کو دیکھ کر دل کے دورہ کی تشخیص ہوجاتی ہے مگر ذیابیطس کے مریضوں کو ہارٹ اٹیک کے دوران یا اس سے پہلے کوئی بھی علامت ظاہر نہیں ہوتی ہے۔ جو بہت ہی خطرناک ہے۔ اس لئے ذیابیطس کے مریضوں کو بہت احتیاط سے رہنا چاہئے۔

ذیابیطس اور خون کا زیادہ دباؤ: طب میں یہ مشہور کہاوت ہے کہ ذیابیطس اور دوران خون بہت ہی گہرے دوست ہیں۔ کیونکہ جب کسی کو ذیابیطس ہوجاتا ہے تو اسکے ساتھ خون کا دباؤ بھی بڑھ جاتا ہے۔ یہ حالت بہت ہی خطرناک ہوتی ہے۔ 50% ذیابیطس کے مریضوں میں خون کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔

اس طرح جب دونوں بیماریاں ایک ساتھ رہتی ہیں تو مریض بہت ہی کمزور اور نڈھال ہوجاتا ہے۔ خون کے زیادہ دباؤ کی وجہ سے دل بھی دھیرے دھیرے کمزور ہوجاتا ہے۔

علامات: چکر، کان میں آواز پیدا ہونا، بدن میں سوجن، قئے اور متلی، ٹخنوں میں سوجن اور دل کا زور سے دھڑکنا جیسی علامتیں ظاہر ہوتی ہیں ۔ اگر کسی کا 180/100mHg.B.P ہوجائے تو ایسے شخص کو ہائپرٹینسیو کہا جاتا ہے ۔ اس کا علاج صحیح طور پر کرنا ضروری ہے ۔ ایسے مریض کو نمک کم مقدار میں لینا چاہئے۔

ذیابیطس کے مریضوں کو سائیلنٹ ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، اس معاملہ میں تحقیقات کے بعد یہ بات معلوم ہوئی کہ ذیابیطس کے مریضوں کے خون میں شکر کی مقدار زیادہ ہوجانے کی وجہ سے دل کو سپلائی ہونے والے اعصاب متاثر ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے درد ہونے کا احساس نہیں ہوتا۔

شگر کے مریض کو کڈنی فیلر کا خطرہ: ذیابیطس کے مریضوں کو خاص طور پر ایسی دوائیں دی جاتی ہیں، جن کے استعمال سے بدن کے تمام اعصاب خاص طور پر دل کو سپلائی ہونے والے اعصاب طاقتور ہوجاتے ہیں تاکہ دل میں اگر تھوڑی سی بھی خرابی پیدا ہو تو مریض کو فوراً اس کا احساس ہو اور اس کا علاج فوراً کردیا جائے اس طرح کرنے سے مریض کی جان بچائی جاسکتی ہے۔

یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اکثر لاپرواہ ذیابیطس کے مریضوں کی موت کڈنی فیلیر سے ہوتی ہے۔ کیونکہ شکر کی بیماری گردوں کے نفرانس کو کھوکھلا کر کے ناکارہ کردیتی ہے جس کو کڈنی فیلیر کہتے ہیں۔ اس مرض میں گردے جسم کی گندگی کو خون سے الگ کرکے پیشاب کے راستے سے باہر نکالنے کی بجائے خون میں جمع ہونے لگتے ہیں، جس کو یوریا، کریاٹینن، پوٹاشیم، سوڈیم وغیرہ کہتے ہیں۔

کشمیری گل بنفشہ: یونانی طرزِ علاج میں تقریباً دنیا کا ہر حکیم اس بوٹی کو جانتا ہے اور صدیوں سے استعمال کرتا آرہا ہے۔ کشمیر میں اسکی کھیتی کی جاتی ہے۔ یہ بوٹی زمین پر پھیلتی ہے۔ اسکی شاخیں آسمانی رنگ کی اور پھول بنفشی ان کے پھول میں بہت خوشبو ہوتی ہے۔ پتے خوبصورت اور گول ہوتے ہیں۔ اسکے پتے ایک انچ سے 11/2انچ تک لمبے انار کے پتوں سے مشابہہ ہوتے ہیں۔

روغن بنفشہ کیسے تیار کریں؟: بخار نزلہ،زکام کھانسی، سردی ، حلق کی خراش پھیپھڑوں میں بلغم زیادہ جمع ہوجانے کے امراض میں استعمال کرتے ہیں۔ میرے والد محترم بڑے حکیم حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی حفظہ اللہ گل بنفشہ کو بلڈپریشر کو قابو میں رکھنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

5 گرام بنفشہ کے پھول اور پتوں کے ساتھ ایک کپ پانی میں رات میں بھگو کر صبح میں اس کا پانی پلاتے ہیں۔ بادام کے تیل یا تل کے تیل میں پھولوں کو پکا کر کر روغن بنفشہ تیار کیا جاتاہے۔ اسے سرپر لگانے سے خوب نیند آنے لگتی ہے اور مریض دماغی تناؤ اور الجھنوں سے نجات پالیتا ہے۔ ساتھ میں بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں آجاتی ہے۔

گردوں کے علاج کے ماہر اطباء گل بنفشہ کا بہت استعمال کرتے ہیں۔ کیوں کہ گل بنفشہ ملین ہے، اسلئے گاڑھے خلط کو پتلا کر کے خون کو معتدل کرتی ہے۔ خون کو صاف کرتی ہے۔ ہیموگلوبن کو بڑھاتی ہے۔ غلط مواد کو اپنے خانے کی راہ آسانی سے نکالتی ہے۔

پیاس اور خون کی حدت اور تیزی مٹ جاتی ہے۔ معدے جگر، تلی، گردے اور پیشاب کی رکاوٹ میں گل بنفشہ کا عرق بہت مفید ہے۔ اس کے پھول اور پتوں کو سونگھنے سے سر کا درد جاتا رہتا ہے۔ دماغ میں خون کا زیادہ دباؤ نارمل کنڈیشن میں آجاتا ہے۔

شربت بنفشہ کے فائدے: شربت بنفشہ گردے، سر اور آنکھ کے دردوں میں مفید ہے۔ پیشاب کھل کر لاتی ہے۔ پیشاب کی جلن کو دفع کرتا ہے۔ مثانے کی گرمی کو دور کرتا ہے۔ خون میں جمع شدہ یوریا، کریاٹینن جیسی گندیوں کو باہر نکالتی ہے، بنفشہ کے ساتھ مصفیات اور جڑی بوٹیاں ملاکر مریضوں کو کھلایا جاتا ہے۔جڑی بوٹیوں کی دکانوں میں گل بنفشہ آسانی سے دستیاب ہوجاتے ہیں۔

نوٹ: رحیمی شفاخانہ میں الحمد للہ بلڈپریشر، شگر، امراض گردوں کا علاج کیا جاتا ہے، ای میل کے ذریعے اپنی رپورٹس بھیج کر حکیم صاحب کی تشخیص کردہ دوائیں بذریعہ ڈاک وکورئیر بھیجی جاتی ہیں۔

عام استعمال: عام شخص بھی روزانہ 5 گرام گل بنفشہ، 150 گرام پانی میں پکاکر استعمال کرسکتا ہے جو فائدہ سے پر ہے۔

اپنا اشتہار دینے کے لیے رابطہ کریں urduduniyanews@gmail.com

 

Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039

Phone : 080-23180000/23397836

Mobile no 9343712908 

متعلقہ خبریں

Back to top button