سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

بیبرس ۔ مسلم تاریخ کا ایک گمشدہ کردار

✍️ ممتازمیر

الملک الظاہر سلطان رکن الدین بیبرس اس مصر کا سلطان تھا جسے سلطان صلاح الدین ایوبی فلسطین دے کر ۱۱۹۳ میں انتقال کر گئے تھے۔ ہمارے نزدیک رکن الدین بیبرس ، طارق بن زیاد ،قتیبہ بن مسلم باہلی ،صلاح الدین ایوبی کی سطح کا جرنیل تھا ۔اس کے باوجود تاریخ کی اس سے بے حسی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔

بیبرس سلطان صلاح الدین ایوبی کے ہی خاندان کا ایک مملوک تھا۔جس طرح ہندوستان میں خاندان غلامان نے حکومت کی بالکل اسی طرح مصر میں بھی مملوکوں نے قریب تین صدی حکومت کی ۔ان مملوک سلطانوں کی خاص بات یہ تھی کہ تین سو سالوں میں کبھی ایسا نہیں ہوپایا کہ بادشاہ کے بعد اس کا بیٹا یا بھائی جا نشین ہوا ہو بلکہ سلطنت ہمیشہ قابل اور طاقتور دوسرے غلام کے ہی ہاتھ آئی۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے اچانک ہمیں تاریخ کے اس گمشدہ کردار کی یاد کیوں آئی؟ہم کیوں اس کی بازیافت چاہتے ہیں؟ویسے تو یہ اچھا ہوتا ہے کہ گاہے گاہے بازخواں ایں قصہء پارینہ را۔مگرہمارے نزدیک ہندوستان کے مسلمان اس وقت جن حالات سے دوچار ہیں اس سے بدتر حالات سے ۱۳ویں صدی کا عالم اسلام دوچار تھا ۔ہلاکو خان نے ۱۲۵۸ میں خلافت بغداد کو صفحہء ہستی سے مٹادیا تھا۔جسے بعد میں دوبارہ قائم کرنے والا یہی بیبرس تھا ۔

بغداد کے ساتھ ہلاکو کے ہاتھوں موصل حلب اور دمشق بھی مفتوح ہوئے۔اس طرح منگول مصر کے دروازے تک پہنچ گئے۔جیسا خوف آج سنگھ کا بی جے پی کا مسلمانوں پر چھایا ہوا ہے ویسا ہی بلکہ اس سے زیادہ خوف اس وقت منگولوں کا عالم اسلام پر چھایا ہوا تھا۔ محاورتا نہیں عملاً ایک نہتی عورت تیس تیس مسلح مسلمان سپاہیوں کوگرفتار کر لیتی تھی ۔

ان حالات میں ، اس خوف میں بیبرس نے کہا کہ منگولوں کو بھی شکست دی جا سکتی ہے اور میں منگولوں کو شکست دے کر بتاؤں گا ۔بیبرس کی یہ باتیں سن کر عالم اسلام کے بڑے بڑے جرنیل اس پر ہنسا کرتے تھے۔اس کی باتوں کو بچے کی لاف و گزاف سمجھتے تھے۔

آجکل ہم مولانا مودودی کی ’’تحریک آزادیء ہند اور مسلمان‘‘ تیسری بار پڑھ رہے ہیں۔پڑھتے جاتے ہیں اور دل خون ٹپکاتا جاتا ہے ۔بالکل ایسے ہی اس وقت کے جید علما نے بھی ۔ امام الہند اور شیخ الاسلام بھی مولانا مودودی کی باتوں پر ہنسا کرتے تھے۔مولانا کے انتباہات ہم آج اپنی آنکھوں سے سچ ہوتے دیکھ رہے ہیں مگر،مگر ہولناک بات یہ ہے کہ امام الہند اور شیخ الاسلام کی ذریت آج بھی ان ہی عطار کے لونڈوں سے دوا لے رہی ہے۔

مگر صرف یہ وہ بات نہیں جس کی وجہ سے ہمیں بیبرس یاد آگیا ۔اللہ نے بیبرس کو غیر معمولی شخصیت عطا کی تھی۔ہمارا خیال ہے کہ ابن صفی کا کردار عمران بیبرس ہی سے مستعار ہے۔بیبرس عمران ہی کی طرح مسخرہ تھا۔مسخرے کے بھیس میں یا جدید اصطلاح میں میک اپ میں اکثر منگولوں کے لشکر میں گھس جاتااور لشکر کی خامیوں اورخوبیوں کا بنظر غائر جائزہ لیتا۔

اسیلئے تاریخ میں رکن الدین بیبرس وہ پہلا شخص ہے جس نے منگولوں کو شکست دی اور ان کا ناقابل شکست ہونے کا طلسم توڑا۔اور ایسا اسلئے ہوا کہ اس نے ان کے درمیان رہ کر ان کا طریقہء جنگ سیکھااور اسی پر عمل کرکے انھیں شکست دی۔جب منگولوں کے سپہ سالار قط بوغا کو گرفتار کرکے اس کے سامنے لایا گیا تو اس نے دیکھا کہ یہ تو وہی مسخرہ ہے جو اس کے لشکر میں اکثر دیکھا جاتا تھا۔یہ جنگ تاریخ میں عین جالوت کی جنگ کے نام سے مشہور ہے۔

پھر بیبرس نے برکہ خان (چنگیز خان کا پوتا)جو کہ مسلمان ہو گیا تھا کے ساتھ مل کر منگول یلغار پر بند باندھ دیا تھا۔عین جالوت میں المک الظاہر سلطان رکن الدین بیبرس(اس وقت سپہ سالار)کی اس فتح نے تاریخ کا رخ موڑ کر رکھ دیا ورنہ شاید حجاز مقدس بھی منگولوں کی تگ و تاز کا نشانہ بنتا۔جبکہ ہلاکو کی عیسائی بیوی یہ چاہتی بھی تھی۔

رکن الدین بیبرس خوارزم شاہ کے ایک درباری کے گھر پیدا ہوا تھا ۔اسی زمانے میں خوارزم شاہ کی حکومت چنگیزی حملوں کے زد میں آکر تباہ وبربادہو گئی ۔خوارزم شاہ کے درباری اور ان کی آل اولاد غلام بنا کر فروخت کر دئے گئے۔بیبرس جس کا پہلا اور اصل نام محمود تھا مصر کے بازار میں لاکر فروخت کر دیا گیا جسے فاطمہ نامی ایک نیک خاتون نے خریدا۔

اس خاتون کا ایک لڑکا جس کا نام بیبرس تھا انتقال کر چکا تھا اس کے نام پر خاتون نے محمود کا نام بیبرس کردیا۔اس خاتون فاطمہ کا ایک بھائی سلطان مصر کے دربار سے وابستہ تھا۔سلطان اکثر غریب لاوارث بچوں کو اپنی کفالت میں لے کران کی پرورش و تربیت کیا کرتا تھا ۔

بیبرس بھی سلطان کے زیر کفالت آگیا اور سخت جنگی تربیت حاصل کرکے فوج میں شامل ہوگیا ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس پر بعد میں چل کر عثمانی سلاطین نے اپنی مشہور زمانہ فوج ’’ینی چری‘‘ بنائی تھی۔

ہلاکو خاقان کے مرنے کی بنا پرفوج کا ایک بڑا حصہ لے کر قراقرم واپس چلا گیا اور اپنے سپہ سالار قط بوغا کو مصر کی فتح کے لئے چھوڑ گیا ۔اس وقت مصر پر مملوک سلطان سیف الدین قطز کی حکومت تھی جس کا سپہ سالار رکن الدین بیبرس تھا۔ہلاکو خان کی واپسی کا علم ہوتے ہی بیبرس نے آگے بڑھ کر منگولوں پر حملہ کر دیا اور میدان جنگ میں انھیں ان ہی کے طریقے سے لڑ کر شکست دی۔

اس فتح کے بعد سلطان قطز اور بیبرس میں کچھ وجوہات کی بنا پر رنجشیں پیدا ہوئیں جس کا انجام بیبرس کے خود سلطان بننے پر ہوا۔بہرحال معرکہء عین جالوت کے نتائج یہ نکلے کہ جگہ جگہ مسلمانوں نے اپنے کھوئے ہوئے شہر منگولوں سے واپس لینا شروع کر دئے۔

اس طرح منگولوں کی ہوا اکھڑ گئی اور ۱۲۶۰ کی اس شکست سے منگول آندھی کے واپسی کا سفر شروع ہوگیا۔یہی وہ عین جالوت ہے جہاں حضرت داؤد علیہ السلام نے ظالم و جابر بادشاہ جالوت کو شکست دی تھی۔

میدان جنگ کے بعد بیبرس نے منگولوں کو میدان سیاست میں بھی شکست دی ۔بیبرس نے چنگیز خان کے ایک دوسرے پوتے برکہ خان سے جو مسلمان ہوگیا تھا دفاعی معاہدہ کر لیا۔ جب ہلاکو قراقرم سے واپس آیا تو فطری طور پر اسے بیبرس سے انتقام لینے کی فکر لاحق ہوئی۔مگر اس سے پہلے کہ وہ بیبرس تک پہونچتااس کے سامنے برکہ خان آگیا۔

دونوں میں جنگ ہوئی اور برکہ خان نے اسے زبردست شکست دی۔ یوں ہلاکو اپنے انجام کو پہونچا۔یہی واقعہ علامہ اقبال کے اس شعر کی بنیاد بنا۔

ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے

پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے  

سلطان رکن الدین بیبرس کو نویں اور اس زمانے کی آخری صلیبی جنگ (اب اکتوبر۲۰۰۱ سے پھر صلیبی جنگیں شروع ہوچکی ہیں)کا ہیرو بھی سمجھا جاتا ہے ۔۱۲۷۰ میں فرانس کا بادشاہ لوئی نہم یورپی صلیبی افواج کو لے کر بیت المقدس حاصل کرنے مصر پر حملہ آور ہوگیا تھا مگر بیبرس نے ان افواج کو شکست فاش دی ۔بادشاہ بھی گرفتار ہوا۔مگر اسے کثیر رقم لے کر رہا کر دیا گیا۔

الملک الظاہر سلطان رکن الدین بیبرس کا ایک کارنامہ اور ہے ۔وہ اچھا ہے یا برا ۔صحیح تھا یا غلط یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔مگر سلطان کی نیت بہرحال اچھی تھی۔ہم اس سے پہلے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھ چکے ہیں کہ مسلمانوں میں آپس میں مسالک کی بنیاد پر با قاعدہ جنگیں بھی ہوئیں ہیں اور ۱۳ویں صدی کا یہی وہ پر آشوب دور تھا جب مسلکی اختلافات مسلمانوں کی طاقت کی طرح طاقتور تھے۔

آج ہم اپنی کمزوری کی انتہا پر ہیں اور مسلکی اختلافات بے انتہا طاقتور۔ایک طرف سلطان منگولوں اور صلیبیوں سے نبرد آزما تھا اور دوسری طرف مسلکی جنگجو بھی آپس میں زور آزمائی کر رہے تھے۔ایسے حالات میں داخلی مسائل سے چھٹکارا پانے کے لئے بیبرس جیسے جرنیل کو اپنوں کے سامنے ہتھیار ڈالنے پڑے (اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم صحیح الفاظ کا استعمال کر رہے ہیں یا نہیں؟)

بیبرس سے پہلے ہر بادشاہ کا اپنا مسلک ہوتا اور حکومت اسی طریقے پر چلتی ۔مگر بیبرس نے تنگ آکر چاروں مسالک کے قاضی مقرر کر دیئے۔اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے فقہ حکومتوں اور عوام کی آسانی کے لئے وجود میں لائے گئے تھے مگر ہم میں موجود منافقین نے انھیں ہماری تقسیم کا ذریعہ بنا دیا۔

بیبرس کے بعد آنے والے نے اس سے آگے بڑھ کرخانہء کعبہ میں صدیوں سے چلے آرہے واحد مصلے ابراہیمی کے ساتھ ساتھ چاروں مسالک کے مصلے بھی قائم کردئے۔اس طرح ایک دین کے چار ٹکڑے ہو گئے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ بیبرس کی اس کہانی میں ہمارے لئے بھی بڑے سبق ہیں ۔سب سے اہم تو یہ فکر کہ ہماری مائیں بانجھ کیوں ہو گئی ہیں۔وہ بیبرسوں کو پیدا کیوں نہیں کر پارہی ہیں؟اور اس کی سب سے زیادہ فکر ہمارے ارباب حل وعقد کو ہونا چاہئے۔جتنے جلسے ،تقریریں ،خطبے، وعظ مسلمانوں میں ہوتے ہیں ناممکن ہے کہ دنیا کی کسی قوم میں ہوتے ہوں۔مگر صدیاں گزر گئیں فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔کیوں؟
                                           ٭٭٭٭

متعلقہ خبریں

Back to top button