بین ریاستی خبریںسرورق

لاؤڈ اسپیکر پر حکومت سخت مہاراشٹر میں مذہبی مقامات پر اسپیکر لگانے سے پہلے لینی ہوگی اجازت: ذرائع

ممبئی،18؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مہاراشٹر حکومت لاؤڈ اسپیکر کے معاملے پر سخت ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مہاراشٹر کے تمام مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر لگانے سے پہلے اب حکومت کی اجازت درکار ہوگی۔ بغیر اجازت لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ مہاراشٹر کے وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل لاؤڈ اسپیکر کے معاملے پر مہاراشٹر کے ڈی جی پی کے ساتھ میٹنگ کریں گے۔

تمام پولس کمشنروں اور افسروں سے میٹنگ کر کے انہیں موقع دیا جاسکتا ہے۔ وزیر داخلہ دلیپ والسے پاٹل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ریاست کے ڈی جی پی تمام پولس کمشنروں کے ساتھ لاؤڈ اسپیکر کے معاملے پر بات کریں گے اور ایک گائیڈ لائن تیار کرکے سب کو دی جائے گی۔ کسی کو بھی ریاست میں امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ایک حکم دیتے ہوئے ناسک پولس کمشنر نے کہا ہے کہ 3 مئی تک تمام مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر لگانے سے پہلے اجازت لینی ہوگی۔ تمام مذہبی مقامات میں مندر، گرودوارے، مساجد، چرچ وغیرہ شامل ہیں۔ لاؤڈ اسپیکر لگانے کے لیے ہر کسی کو تحریری اجازت لینا ہوگی۔ پولیس کمشنر آفس سے تحریری اجازت لینے کے بعد ہی مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر لگائے جاسکتے ہیں۔

3 مئی کے بعد کسی بھی مذہبی مقام پر بغیر اجازت لاؤڈ اسپیکر لگانے پر پولیس کی جانب سے کارروائی کی جائے گی ۔واضح رہے کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے نے ریاستی حکومت کو مساجد سے لاؤڈ اسپیکر ہٹانے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ راج ٹھاکرے نے حکومت کو 3 مئی تک کا الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر مساجد سے لاؤڈ اسپیکر نہیں ہٹائے گئے تو ملک بھر کی مساجد کے سامنے ہنومان چالیسہ بجے گا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button