یوگی حکومت کا بڑا فیصلہ، یوپی میں بغیر اجازت نہیں کرسکیں گے مذہبی جلوس یا ’شوبھا یاترا‘
لکھنو،19؍اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)حال ہی میں رام نومی اور ہنومان جینتی کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں نکالے گئے جلوس کے دوران تشدد کی خبریں آئی ہیں۔ اس پر کافی سیاست چل رہی ہے۔ اس سب کے درمیان اتر پردیش کی یوگی حکومت نے ایک بڑا فیصلہ لیا ہے، یوگی حکومت کے فیصلے کے مطابق اتر پردیش میں بغیر اجازت کوئی شوبھا یاترا یا مذہبی جلوس نہیں نکال سکیں گے ۔
اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے حکم نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ نیز شوبھا یاترا نکالنے سے پہلے امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے منتظمین سے حلف نامہ بھی طلب کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ آفس سے جاری بیان کے مطابق بغیر اجازت کے کوئی شوبھا یاترا یا مذہبی جلوس نہیں نکالا جائیگا۔
اجازت دینے سے پہلے منتظم سے امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کے حوالے سے حلف نامہ لیا جائے۔ اجازت صرف ان مذہبی جلوسوں کو دی جائے جو روایتی ہوں، نئی تقریبات کی غیر ضروری اجازت نہ دی جائے۔ حالیہ تشدد کے پیش نظر یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی ریاست میں مذہبی تقریبات کے حوالے سے بیدار رہنے کو کہا ہے۔
نیز انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ سڑک پر کوئی مذہبی تقریب نہیں ہونی چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں کئی اہم مذہبی تہوار ہیں۔ رمضان کا مہینہ چل رہا ہے اور عید اور اکشے ترتیا کا تہوار ایک ہی دن ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں موجودہ ماحول کو دیکھتے ہوئے پولیس کو کافی بیدار رہنا ہوگا۔



