وقیع الزماں
دنیا کی بڑی قوتوں کے مابین یورپ کے ایک بڑے خطے میں لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم کو ایک سو برس سے زائد کا عرصہ مکمل ہو چکا ہے جب کہ بہ ظاہر جنگ عظیم اول کی وجہ بننے والے ہنگری کے شاہی جوڑے کے قتل کو بھی ایک صدی سے زائد ہو چکا ہے۔یہ 28 جون 1914ء کا واقعہ ہے ۔ جب ایک سربیا کے باشندے نے آسٹریا کے شہزادے "ھبزبرگ آرکڈیوک ٖفرانز فرڈنینڈ Assassination Of Archduke Franz Ferdinand, "کو گولی مار کر قتل کردیا۔ اسی واقعہ کی بنیاد پر 28 جولائی 1914ء کو آسٹریا نے سربیا کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ پہلی عالمی جنگ WWI بیسویں صدی کا پہلا بڑا عالمی تنازعہ تھا۔ جو اس قتل کی وجہ سے شروع ہوا۔ اور اگلی چار دہائیوں تک مختلف محاذوں پر جاری رہا۔
آسڑیاکے اتحادی جرمنی نے بھی آسٹریا کا فوری ساتھ دیا۔ ادھر سربیا کی حفاظت کے لئے ہالینڈ بیلجیم فرانس اور انگلینڈ کی فوجیں بھی تیا ر ہوگئی۔ اس طرح یہ واقعہ ایک عظیم جنگ کی شکل اختیار کرگیا۔اگست15 کو آسٹریا کے رفیق جرمنی کی فوجیں ہالینڈ ، بیلجیم کے ممالک کو روندتی ہوئی فرانس کی سرزمین تک پہنچنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
جرمنوں نے فرانس پر حملہ آور ہونے کے لیے جو منصوبہ تیار کیا تھا۔ اس میں یہ قرار پایا تھا کہ فرانس کے شمالی ساحل کے ساتھ ساتھ ہو کر فرانس کے دارلخلافہ پیرس پر اس طرح حملہ کیا جائے جیسے پھیلے ہوئے بازو کی درانتی وار کرتی ہے۔ فرانسیسی فوج کا اعلی کمان اس منصوبے کو بھانپ نہ سکا اور اس نے اپنی مشرقی سرحد پر سے جرمنوں پر 14 اگست کو حملہ کر دیا۔
یہ حملہ تدبیر و منصوبہ کے تحت نہیں ہوا تھا- لہٰذا جرمنوں نے جو پہلے ہی گھات لگائے بیٹھے تھے، ایک بھرپور وار کیا اور فرانسیسی واپس ہٹنے پر مجبور ہوگئے۔اس کے بعد جرمنوں نے اپنے حملے کی اسکیم کو ، جسے شلفن منصوبہ کہتے ہیں اور جو 1905ء سے پہلے ہی تیار پڑا تھا ۔ عملی جامہ پہنانا شروع کر دیا۔
جلد ہی فرانس کے دارالحکومت کو خطرہ لاحق ہوگیا۔ فرانس کی بدقسمتی کہ اس وقت اس کی بے نظیر افواج کی قیادت "جافرے "کے ہاتھوں میں تھی۔ جو مدبر سپہ سالار ثابت نہ ہوا۔ انگریزوں کا جرنیل ہیگ بھی جرمنوں کے جرنیلوں کا مقابلہ نہیں کر سکا تھا۔ لہذا ایسا معلوم ہونے لگا کہ پیرس چند دنوں میں ہی ہار جائے گا۔
مگر عین اس وقت ایک ہوشمند فرانسیسی جرنیل "گلینی” نمودار ہوا۔ جس نے جرمنوں پر وہ کاری وار کیا کہ انھیں پریشانی کے عالم میں پیچھے ہٹتے ہی بنی۔ اس کے بعد جرمنوں کی پیش قدمی رک گئی اور آئندہ چار برسوں تک بھی تھوڑا جرمن بڑھ آتے تو کبھی فرانسیسی ۔
پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی قوتوں۔برطانیہ، فرانس، سربیا اور روسی بادشاہت (بعد میں اٹلی، یونان، پرتگال، رومانیہ اور ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہو گئے)۔۔جرمنی اور آسٹریہ۔ہنگری پر مشتمل مرکزی قوتوں کے خلاف لڑیں جن کے ساتھ بعد میں سلطنت عثمانیہ کا مرکز ترکی اور بلغاریہ بھی شامل ہو گئے۔
جنگ کا ابتدائی جوش و جذبہ اس وقت ماند پڑ گیا جب لڑائی ایک انتہائی مہنگی اور خندقوں کی جنگ جیسی شکل اختیار کر گئی۔ مغربی محاذ پر خندقوں اور قلعہ بندیوں کا سلسلہ 475 میل تک پھیل گیا۔ مشرقی محاذ پر وسیع تر علاقے کی وجہ سے بڑے پیمانے کی خندقوں کی لڑائی ممکن نہ رہی لیکن تنازعے کی سطح مغربی محاذ کے برابر ہی تھی۔ شمالی اٹلی، بالکن علاقے اور سلطنت عثمانیہ کے ترکی میں بھی شدید لڑائی ہوئی۔ لڑائی سمندر کے علاوہ پہلی مرتبہ ہوا میں بھی لڑی گئی۔
پہلی عالمی جنگ جدید تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن لڑائی تھی۔ اس جنگ میں تقریباً 60 لاکھ فوجی مارے گئے جبکہ بعض کے نزدیک ایک کروڑ فوجی ہلاک ہو ئے اور بعض کے نزدیک کل ہلاکتوں کی تعداد تقریبا 2کروڑ تھی۔بہرحال یہ تعداد اس سے پہلے کے ایک سو برس میں ہونے والی لڑائیوں کی مجموعی ہلاکتوں سے بھی زیادہ ہے۔
اس جنگ میں دو کروڑ دس لاکھ کے لگھ بھگ افراد زخمی بھی ہوئے۔ ہلاکتوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجہ مشین گن جیسے نئے ہتھیاروں کو متعارف کرانا اور گیس کے ذریعے کی گئی ہلاکتیں تھی۔ جنگ کے دوران یکم جولائی 1916 کو ایک دن کے اندر سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں جب سومے میں موجود برطانوی فوج کے 57 ہزار فوجی مارے گئے۔
سب سے زیادہ جانی نقصان جرمنی اور روس کو اُٹھانا پڑا جب جرمنی کے 17 لاکھ 73 ہزار 7 سو اور روس کے 17 لاکھ فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ فرانس کو اپنی متحرک فوج کے 16 فیصد حصے سے محروم ہونا پڑا۔ محققین کے اندازے کے مطابق اس جنگ میں براہ راست یا بالواسطہ طور ہلاک ہونے والے غیر فوجی افراد کی تعداد ایک کروڑ تیس لاکھ ہے۔
اتنی بڑی ہلاکتوں کی وجہ سے "اسپینش فلو” پھیل گیا جو تاریخ کی سب سے موذی انفلوئنزا کی وباء ہے۔ لاکھوں کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے یا اپنے گھروں سے بے دخل ہو گئے۔ جائیداد اور صنعتوں کا نقصان بہت خطیر تھا، خاص طور پر فرانس اور بیلجیم میں، جہاں لڑائی خاص طور پر شدید تھی۔
نومبر 11, 1918 کو صبح کے 11 بجے مغربی محاذ پر جنگ بند ہو گئی۔ اُس زمانے کے لوگ اس جنگ کو "جنگ عظیم” کے نام سے منصوب کرتے تھے۔ یہ بند ہو گئی لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی حلقوں میں آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے۔
۔۔نتائج۔۔
اس جنگ میں ایک طرف جرمنی ، آسٹریا ، ہنگری سلطنت ، ترکی اور بلغاریہ ، اور دوسری طرف برطانیہ ، فرانس ،
روس ، اٹلی ، رومانیہ ، پرتگال ، جاپان اور امریکہ تھے۔ 11 نومبر 1918ء کو جرمنی نے جنگ بند کردی ۔ اور صلح کی درخواست کی ۔28 جون 1919 کو فریقین کے مابین معاہدہ ورسائی ہوا۔ مسلمان دنیا پر اس کا بہت برا اثر پڑا۔چونکہ ترکی جرمنی کا اتحادی رہا اس لیے اسے اس جنگ کی بڑی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔
انگریزوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف جنگ پر اکسایا اس طرح مسلمانوں میں قومیت کی بنیاد پر جنگ لڑی گئی۔ اور ترکی کے بہت سے عرب مقبوضات ترکی سلطان کے ہاتھ سے چلے گئے۔ بعد میں انگریزوں نے ترکی پر بھی قبضہ کر لیا اور ترکی تقسیم کا فیصلہ کیا۔ لیکن کمال اتاترک نے برطانیہ اور یونان کو ایسا کرنے سے باز رکھا۔
اسی جنگ کے نتیجے میں مسلمانوں کی عظیم خلافت کا خاتمہ ہوگیا۔ جنگ عظیم میں دونوں فریقوں کے تقریباً ایک کروڑ آدمی کام آئے اور دو کروڑ کے لگ بھگ ناکارہ ہوگئے۔یہ جنگ آج بھی ظلم و برداشت کے داستانوں اور برداشت و رواداری کے جذبوں کو مزید کم سے کم تر کرتی چلی گئی۔
دنیا کے بیشتر اقوام اس جنگ میں آہستہ آہستہ حصہ بنتے گئے۔ اور یوں پوری دنیا اس جنگ کی آگ میں جھلستی چلی گئی۔ دنیا میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ پہلی بار دنیا نے کیمیائی اور زہریلی گیس کا استعمال دیکھا۔ یہ انسانی تاریخ کی تباہ کن جنگ تھی۔
جس میں تقریباً 1 کروڑ تیس لاکھ اور بعض کے نزدیک تقریبا 2 کروڑ لوگ ہلاک ہوئے۔ اور اتنے ہی افراد غربت ، بھوک اور بیماری کی نذر ھوگئے۔ تاریخ کے مطابق 19 ویں صدی کے آواخر میں یورپ میں اتحاد بننے لگے تھے۔
1904 میں فرانس اور برطانیہ نے ایک معاہدہ کیا جو باقاعدہ اتحاد تو نہیں تھا۔ تاہم قریبی تعلقات کے لیے بے حد اہمیت کا حامل تھا۔ اسی طرح ایک معاہدہ برطانیہ اور روس کے مابین 1907 میں (TRIPLE ENTENTE) کے نام سے ایک معاہدہ ھوا تھا۔ جس میں روس ، فرانس اور برطانیہ شامل تھے۔
اب یورپ تقسیم ہوگیا۔ ایک طرف جرمنی ، آسٹریا ، ہنگری ، سربیا اور اٹلی جبکہ دوسری طرف روس ، فرانس اور برطانیہ تھے۔ جاپان بھی 1902 میں برطانیہ سے معاہدہ کر چکا تھا۔ اس لیے اس نے برطانیہ کی طرفداری کرتے ہوئے اعلان جنگ کیا۔ اسی خوف اور طاقت کے نشے میں دنیا کے بیشتر ممالک اس جنگ کا حصہ بنتے چلے گئے۔
پہلی عالمی جنگ بیسویں صدی کا پہلا بڑا تنازعہ تھا۔ اس تنازعے کی بظاہر ابتدا ایک قتل سے ہوئی۔ لیکن جنگ کے سائے کافی عرصے سے ان علاقوں پر منڈلا رھے تھے۔ لیکن اس کا باقاعدہ آغاز 1914 میں قتل کے بعد ہوا۔ پہلی جنگ عظیم جدید تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن لڑائی تھی۔ اس جنگ میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ ایک کروڑ فوجی بھی ہلاک ہوئے۔ ہلاکتوں کی اتنی تعداد اس وجہ سے تھی کیونکہ بری ، بحری اور فضائی لحاظ سے جدید سے جدید تر ہتھیاروں کا آزادانہ استعمال ہوا۔
اس جنگ میں ایک طرف برطانیہ اوور اس کے حواری تھے۔ جبکہ دوسری طرف جرمنی اور ترکی کے آخری سلطان کی فوجیں صف آرا تھیں۔ اس جنگ میں جانی اور مالی لحاظ سے اتنا نقصان ہوا۔ کہ دنیا کی تاریخ میں اسکی مثال مشکل سے ملے گی۔



