بین ریاستی خبریں

کریڈیٹ کی جنگ  ✍️محمد شارب ضیاء رحمانی 

نئی دہلی:(محمد شارب ضیاء رحمانی ) مارکیٹ میں دونوں جمیعۃ کا کریڈیٹ نامہ چل رہاہے، کہ ہمارے وکلاء نے، دوسرے نے کہا،نہیں  ہمارے وکلاء نے سپریم کورٹ سے جہانگیر پوری میں بلڈوزر رکوایا، حد ہے، قوم کس حال میں ہے، انھیں کریڈیٹ کی پڑی ہے،کریڈیٹ جیوی لگ ہی جاتے ہیں، یہ حقیقت ہے کہ سی پی ایم نے کافی محنت کی ہے اور کل اس کی تحقیقاتی رپورٹ بھی آئی ہے، ہمارے یہاں کام کم کرنا ہے، ہنگامہ زیادہ کرنا ہے،پھر کریڈیٹ کے لیے دوڑ پڑنا ہے،ویسے چچا جان تو کہہ چکے ہیں کہ آرایس ایس درست راستے پر ہے، پھر شکایت کیسی؟
 قیادت یہ نہیں کہہ سکتی کہ آپ ہماری  سستی، کاہلی پر کیوں انگشت نمائی کررہے ہیں، سوال آپ سے ہی ہوگا، عنداللہ بھی اور عندالناس بھی، کیوں کہ امیر الہند، امیر شریعت ،مفکر ملت، قائد ملت، امیر جماعت آپ ہیں یا پھر کہہ دیجیے کہ آپ سے کچھ نہیں ہوسکتا، پھر قومی سرمائے پر مہنگے ہوٹلوں میں قیام، میٹنگ اور جہازی اخراجات کا جواز کیسے ڈھونڈیں گے؟
اردودنیا میں شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں۔ مضمون نگار کے خیالات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

متعلقہ خبریں

Back to top button