کیا 2024 کیلئے ’دہلی کی راہ‘ بلڈوزر سے تیار ہوگی ؟ یوپی کا بلڈوزر کھرگون سے ہوتے ہوئے جہانگیر پوری تک پہنچا
نئی دہلی ، 20اپریل :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) اتر پردیش میں غنڈوں، نام نہاد مافیاؤں پر بلڈوزر چلانے کا رجحان دیگر ریاستوں میں بھی پہنچ گیا ہے۔ یوپی سے چلائے جانے والے بلڈوزر اب تک ملک کی پانچ ریاستوں میں پہنچ چکا ہے ۔ ایم پی کے کھرگون ، گجرات کا کھمبات ، دہلی کے کھرگون تک پہنچ گیا ہے ۔
اب سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا 2024 کیلئے دہلی کی راہ بلڈوزر سے تیار کے جائے گی ؟اگر ہم اتر پردیش کی بات کریں تو یہاں پچھلے تین سالوں سے مجرموں کے گھروں اور جائیدادوں پر بلڈوزر چلا ہوا ہے۔ ایک اعداد و شمار کے مطابق اب تک 20 ہزار کروڑ سے زیادہ کے اثاثوں پر یوگی کا بلڈوزر چل چکا ہے، خیال رہے کہ یہ وہ لوگ ہیں ،جو سرکار کی نظر میں مافیا ہیں۔
سابق ایم پی عتیق احمد کے پاس 325 کروڑ روپے کے اثاثے تھے، جسے یوگی کے بلڈوزر نے زمین دوز کردیا۔دو سالوں میں 15 ہزار ایکڑ اراضی غنڈوں اور لینڈ مافیاؤں سے چھڑوائی گئی ہے۔ اس کی لاگت 12 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ بلڈوزر چلانے کے ساتھ ساتھ شیوراج سرکار نے 188 لینڈ مافیا پر راسوکا مسلط کیا، جب کہ 498 مارے بھی گئے۔
کھرگون کے حالیہ تشدد کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان کی حکومت نے 45 مکانات اور دکانیں منہدم کر دیں۔ ملزمان کی گرفتاری سے قبل ہی بلڈوزر چلا دیے گئے۔گزشتہ ہفتے سی ایم بھوپیندر بھائی پٹیل نے گجرات کے کھمبات میں رام نومی تشدد کے مبینہ ملزمین کی جائیدادوں پر بلڈوزر چلا دیے تھے۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملزمان کی جانب سے کی گئی تجاوزات کو مسمار کر دیا گیا ہے۔ رام نومی پر گجرات کے ہمت نگر اور آنند ضلع میں تشدد ہوا، جس پر قابو پانے کے لیے پولیس کو کارروائی کرنی پڑی۔ اس میں ایک کی موت بھی ہوئی تھی۔16 اپریل کو جہانگیر پوری میں ہنومان کی جینتی کے موقع پر ایک جلوس نکالا گیا۔
اِس جلوس پر پتھراؤ ہواتھا۔جس میں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز نعرے بازی کی گئی تھی ۔وہیں آج بدھ کو دہلی میونسپل کارپوریشن نے اس علاقے میں غیر قانونی تجاوزات پر بلڈوزر چلایاگیا ،بلڈوزر مسجد کے اس حصہ کو بھی مسمار کیا، جہاں فسادیوں اور ہندوؤں کی بھیڑ نے بھگوا پرچم لہرائے تھے ۔
تاہم ایم سی ڈی کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی 11 اپریل کو ہونی تھی لیکن پولیس فورس کی کمی کی وجہ سے اس میں وقت لگا۔ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی 2024 کے لیے بلڈوزر کی مدد سے ہی دہلی کیلئے راستہ ہموار کرے گی؟
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ اب باقی ریاستیں جرائم پر قابو پانے کے لیے اپنا رہی ہیں۔ ایسا کرنے سے ریاستی حکومتیں براہ راست لوگوں کے درمیان بحث میں آ رہی ہیں۔ عام لوگ جنہیں حکومت نواز کہنا درست ہوگا، مبینہ غنڈوں اور بدمعاشوں پر اس قسم کی کارروائی کو پسند کرتے ہیں۔
ایسے میں یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 2024 کے انتخابات کے پیش نظر بی جے پی کی حکومت والی باقی ریاستوں میں بھی بلڈوزر کی رفتار بڑھے گی۔
خیال رہے کہ2022 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی کارکنان بلڈوزر لے کر وزیر اعلی یوگی کی ریلیوں میں پہنچتے تھے، جیت کے بعد بلڈوزر کے ساتھ جشن بھی منایا گیا تھا، حتیٰ کہ خود بی جے پی نے بلڈوزر کے نام پر ووٹ بھی مانگے تھے،نیز بلڈوزر کو لا اینڈ آرڈر سے جوڑنے سے بی جے پی کو سیاسی فائدہ بھی ہوا ہے۔



