زمانہ قدیم سے معاشرے میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لئے حکومتوں کا نظام عمل پزیر ہوتا رہا ہے، ہزاروں سالوں سے زمین پر یہی کچھ ہوتا رہا قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے، کس طرح نمرود نے جابرانہ حکومت کی، فرعون نے خدائی دعویٰ کیا، ان کے دور حکومت میں رعایا پر انتہائی مظالم ڈھاۓ گئے رعایا پر یہ لازم تھا بادشاہ کا جو مذہب ہوتا اسی مذہب پر رعایا کو بلا عزر کے تقلید کرنا پڑتا، نہ کوئی آزادانہ سوچ نہ کوئی ایک اللہ کا تصور اس رعایا یا عوام پر گزرتا اندھی تقلید جابرانہ نظام کی مرہون منت رہی۔
ظلم کے شکار بے بس عوام کے لیے رحمت الٰہی اس قوم میں اپنا رسول بتدریج بھیجتا رہا، مقصد عدل و انصاف کا نفاذ مزید ایک اللہ کو ماننے والے پیغامات نیز احکامات رسول ء وقت کے ذریعے قوم کو پہنچاۓ جاتے تھے، خدائی احکام کو بادشاہ انکار کر دیتا، ظلم مزید بڑھتا حتیٰ کہ نمرود نے ابراہیم علیہ السلام کو دہکتی آگ کے سپرد کیا تاہم رحمت الٰہی نے آگ کو سلامتی کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈا کردیا حق کے روبرو باطل مبحوط ہو کر رہ گیا۔
فرعون نے موسیٰ علیہ السلام کا تعاقب کیا دریائے نیل نے اسے نگل لیا نیز اللہ نےموسیٰ علیہ السلام و قوم کو دریا پار کرادیا، عیسی علیہ السلام کے مخالفین نے عیسی علیہ السلام کو سولی پر چڑھا دیا، بہر کیف اللہ نے عیسی علیہ السلام کو بہ جسم وجان صحیح سلامت اٹھا لیا قرآن کریم نے اس صداقت کو بیان کردیا۔
تاہم جب سے کرہ ارض پر بنی آدم نے حکومت سازی کی ابتدا کی حق و باطل کا معرکہ اسی اثناء سے جاری وساری رہا، آج بھی کسی نہ کسی طرح سے معاشرے اس حق و باطل کے معرکہ سے دوبدو ہوتے ہوئے نظر آتا ہیں۔
بھارت میں مختلف مذاہب کے پیروکار صدیوں سے بستے چلے آرہے ہیں، ہر فرد کسی نہ کسی مذہب کو مانتے ہوئے یہاں زندگی گذر بسر کرتا ہے، کروڑں کی تعداد میں بت کدے نیز لاکھوں کی تعداد میں مسجدیں، گرجا گھر، گردوارے بھارت میں تعمیر کیے گئے ہیں جس میں ماننے والے عقیدت مند اپنی عبادت کرتے ہیں، بھارت کی مجموعی آبادی ایک سو تیس کروڑ سے تجاوز کرگئی۔
اتنی کثیر آ بادی میں اقلیت طبقہ بالخصوص مسلمانوں کی تعداد کم وبیش بایٔس سے پچیس کروڑ کے درمیان ہوگی یا ہوسکتی ہے، سو کروڑ سے زائد آبادی ایک اللہ کو ماننے سے انکاری بنے بیٹھے ہیں، قصہ مختصر جو معرکہ نمرود و ابراہیم علیہ السلام، فرعون و موسیٰ علیہ السلام، یہود و عیسی علیہ السلام، کفر و رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے مابین جاری تھا، وہی صورتحال آج بھی اسی طرح قائم ودائم ہے، انسانی ترقی و جدید ٹیکنالوجی نےاس معرکہ کی شکل کو تبدیل کر دیا ہے، جدید ہتھیاروں نے تلواریں و بھالے کی جگہ لے لی، بختر بند جنگی گاڑیوں نے گھوڑے، اونٹ و ہاتھیوں کی جگہ لے لی، مزید میزایل، ڈرون و جوہری ہتھیاروں نے اس میں اضافہ کیا ہے۔
بھارت میں دہاہیوں پر مشتمل سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والی آر ایس ایس جماعت نے انتہائی منظم طریقہ کار سے اکثریتی طبقہ پر کام کیا ان کی ذہین سازی کی، اکثریت طبقہ کو یکجا کیا، مقصد صرف ہندؤوں کا ہندوستان یہی منصوبہ دہاہیوں سے اکثریتی طبقے کو دیکھایا گیا، اس تخریبی منصوبہ نے ملک کو انتشار کی نظر کردیا۔
یہی ایک واحد حربہ ہے جس کے نتیجے میں حکومت سازی تک رسائی حاصل ہوجاتی ہے، حکومت میں شامل افراد ملک میں رہنے والے اقلیتوں کے تہی نفرت کو سرعام اجاگر کرتے ہیں، صدیوں سے بھارت میں رہنے والا مسلمان ملک کے لئے وفادار رہا ہے جنگ آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والا مسلمان آج اس بھارت میں بے یار و مددگار ہو کر رہ گیا ہے۔
ہر سیاسی جماعت نے مسلمانوں کا استحصال کیا، موجودہ حکومت ہر طور پر کمر بستہ ہیں مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لئے انہیں گھر سے بے گھر کرنا جھوٹے و فرضی مقدمات کے ذریعے انہیں سزائے دنیا، سرکاری ملازمت کے دروازے ان پر بند کر دینا وغیرہ وغیرہ حکومت کا لائحہ عمل و تیار شدہ منصوبے ہے۔
کرہ ارض پر بسنے والے تمام ممالک نیز ان کی حکومتوں کی اولین ترجیح ملک میں بسے ہر شہری ہر باشندے کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنا ہوتی ہے، تاہم بھارت کی صورتحال اس سے مختلف و دیگر ہے، ملک میں اقلیتوں کے گھروں کو نشانہ بنا کر ان پر بلڈوذر چلانا، اب حکمران کا دلچسپ مشغلہ بنا ہوا ہے۔
بے گھر بھارتی شہری کو سہارا دینا ان بے گھر شہریوں کی باز آباد کاری کرنا ان شہریوں کے جان و مال کی حفاظت کرنے کی بجائے ان غریب خستہ حال افراد کو ہراساں کرکے ان کے اپنے نظروں کے سامنے گھروں پر بلڈوذر چلا کر منہدم کرکے خوش ہونا یہی حکمرانوں کی ترجیح اول بنی ہوئی ہے۔
کھرگون سے جاری مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوذر کا استعمال نیز انہیں بے سہارا بے گھر کرنے کا سفر اب دہلی کے جھانگیر پوری تک رسائی کر چکا ہے، ملک کے دیگر صوبائی حکومت بھی اسی طرح کے حربے استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو ہراساں کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔
کہیں مساجد میں اذان لاؤڈ اسپیکر پر نہ دینے پر حالات خراب کیے جارہے ہیں، تو کہیں ایسے فرمان جاری کیے جاتے ہیں جس کے تحت مسلمانوں کو غیر مسلم دوکان سے غذائی ضروریات واجناس کو فروخت نہ کرنا شامل ہے، یہ صورتحال ویسے ہی ہیں جسے قران میں نمرود، فرعون کے تعلق سے فرمایا گیا ہے۔
تاہم فتح کس کے حصہ میں آئی اسے بھی قرآن کریم نے بیان کردیا، بہر کیف یہ شرر کو ہوا دینے جیسا ہے، ہر شرر بلآخر شعلہ بنتا ہے جس کی لو میں ظالم جلھس کر اجڑ جائے گا۔
وماعالینا الاالبلاغ المبین



