قومی خبریں

سہارنپور میں جمعہ کی نماز کے بعد پولیس کے ساتھ نوک جھونک

سہارنپور ،29اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اترپردیش کے سہارنپور میں نوجوانوں نے جمعہ کی نماز کے بعد شہر کے مرکزی فوارہ چوک پر واقع جامع مسجد کے پاس ہنگامہ آرائی کی ۔ سڑک پر نماز پڑھنے سے روکے جانے پر مشتعل نوجوانوں نے تقریباً آدھے گھنٹے تک ہنگامہ آرائی کی۔اطلاعات کے مطابق شہر کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے لیے لوگ جمع تھے۔ نماز کے بعد کچھ نوجوانوں نے ہنگامہ آرائی کی ۔اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچی اور نوجوانوں سے بات کی۔

اس دوران کچھ نوجوانوں کی پولس سے ہاتھا پائی بھی ہوئی۔نگر کوتوالی کے علاوہ آر اے ایف اور پی اے سی کے دستے بھی موقع پر تعینات تھے۔ اطلاع ملتے ہی قریبی تھانوں کی پولیس کو بھی موقع پر بلایا گیا۔ تقریباً آدھے گھنٹے تک ہنگامہ آرائی جاری رہی۔

اس کے بعد پولیس نے نوجوانوں کو وہاں سے ہٹایا پھر وہ چوکی سرائے کی طرف گئے اور وہاں بھی ہنگامہ آرائی کی ۔اطلاع ملتے ہی ڈی ایم اکھلیش سنگھ اور ایس ایس پی آکاش تومر بھی موقع پر پہنچ گئے۔ پولس انتظامی افسران نے نوجوانوں کو ہنگامہ آرائی کی سمجھایا اور معاملہ ٹھنڈا کرایا۔وہیں جامع مسجد کے منیجر مولانا مولوی فرید کا کہنا ہے کہ کچھ نوجوانوں نے ہنگامہ برپا کیا تھا۔

 جمعہ کی نماز بحفاظت ادا کی گئی۔ انہوں نے سب سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کی۔بتایا گیا کہ جیسے ہی جامع مسجد کے باہر نوجوانوں کو ہنگامہ آرائی کا علم ہوا، پورے شہر میں بحث کا بازار گرم ہوگیا اور آس پاس کے تاجروں میں بھی خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوگیا۔شہر میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ جامع مسجد کے باہر تشدد ہوا ہے ۔

جس کے باعث بازاروں سے لوگ اپنے گھروں کو لوٹنے لگے۔وہیں آس پاس کی کچھ دکانیں بھی بند ہونے لگیں۔ حکام نے موقع پر پہنچ کر ہنگامہ کرنے والے لوگوں کو سمجھایا۔ علاقے میں امن و امان ہے، گمراہ کن اور افواہ پر مبنی سوالات اٹھانے والے میڈیا والوں سے بھی وضاحت طلب کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button