قومی خبریں

مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر کارروائی کی درخواست پر  سپریم کورٹ 9 مئی کو سماعت کرے گا

نئی دہلی،02؍مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سپریم کورٹ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر کارروائی کی درخواست پر 9 مئی کو سماعت کرے گی۔ جمعیۃ علماء ہند کی عرضی پر دھرم سنسد کیس کے ساتھ اس معاملے کی بھی سماعت ہوگی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ متعلقہ معاملات ہیں، اس لیے 9 مئی کو سماعت کریں گے۔ درحقیقت سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی ہے جس میں عدالت کی نگرانی میں پیغمبر اسلام کی شخصیت پر مبینہ’متواتر حملوں‘ اور مختلف علاقوںمیں کچھ لوگوں کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر معاملے میں عدالت کی نگرانی میں تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید محمود اسعد مدنی کے توسط سے دائر کی گئی عرضی میں مرکز کو ہدایت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ نفرت انگیز تقاریر، خاص طور پر پیغمبر اسلام کی شخصیت کو نشانہ بنانے والے بیانات پر مختلف اداروں کی طرف سے کی گئی کارروائی پر رپورٹ طلب کی جائے۔
ایڈوکیٹ ایم آر شمشاد کی طرف سے دائر درخواست میں یہ بھی استدعا کی گئی ہے کہ ملک بھر میں نفرت انگیز تقاریر سے متعلق جرائم کے سلسلے میں کی گئی تمام شکایات کو شامل کرکے ایک آزاد انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی جائے۔ درخواست میں کہا گیا کہ پیغمبر اسلام کی توہین اسلام کی بنیاد پر حملہ کے مترادف ہے اور اس طرح یہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں نہ صرف مسلم کمیونٹی کے افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے بلکہ ان کے عقیدے کی بنیاد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
تنظیم نے کہا کہ اس نے یہ عرضی طویل انتظار کے بعد اور سرکاری افسران کو مناسب قدم اٹھانے کے لیے مناسب وقت دینے کے بعد دائر کی ہے۔ یہ عرضی گزشتہ سال دسمبر میں دائر کی گئی تھی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button