سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

عید کیسے منائیں….؟

عنقریب رمضان المبارک کا مہینہ رخصت ہونے والا ہے،جس طرح اہل ایمان اس کی آمد کی خوشیاں منا رہے تھے آج وہی اہل ایمان اس کے رخصت ہونے پر غمزدہ اور مایو س نظر آرہے ہیں۔کیوں کہ یہ مہینہ اللہ کی طرف سے اللہ کے بہت سے انعاما ت لیکرمسلمانوں کیلئے حاضر ہوا تھا۔اس ماہ مقدس میں اللہ نے اپنی رحمتوں کے دروازے اپنے بندوں کیلئے کھول دئے تھے ،اللہ نے اپنی مغفرت کو اپنے بندوں کے واسطے عام فرمادیا تھا،اور جہنم نے کے دروازے ایمان والوں کیلئے اللہ نے بند کر دئے تھے۔اور اللہ نے اپنے مومن بندوں کے رزق میں خوب اضافہ فرمادیا تھا اپنی بے شمار نعمتوں کے ذریعہ ۔
بہرحال اللہ کا فیصلہ کہ ہر چیز کو آنے کے بعد جانا ہے اور باقی رہنے والی ذات صرف اللہ رب العزت کی ہے۔لیکن اللہ اس ماہ مقدس کے رخصت ہونے پر اپنے بندوں کوایک اور عظیم نعمت سے سر فرازفرماتا ہے اور وہ نعمت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں خوشی کی صورت میں حاصل ہوتی ہے ۔جس کو ہم عید الفطر کہتے ہیں۔اوراب چاروں طرف عیدالفطر کی آمد کا شور ہے۔اللہ کے نیک بندے حسب استطاعت ماہ رمضان کی رحمتیں وبرکتیں اپنے دامنوں میں سمیٹ چکے ہیں۔اور عید انہی نیک بندوں کیلئے انعام کا دن ہے۔کہ جو بندے نمازوں کی پابندی کے ساتھ روزے،نماز تراویح،اعتکاف،تلاوت قرآن اوردوسری صدقات و خیرات جیسی عبادات کرتے ہوئے نظرآئے۔عیدالفطر اللہ کی طرف سے ان نیک بندوں کیلئے اجروثواب کا دن ہے ۔
جیسا کہ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیںجب عید الفطر کی رات آتی ہے تو اس رات کو لیلتہ الجائزہ کہتے ہیں۔اور جب عید الفطر کا دن نکلتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو تمام شہروں میں پھیلا دیتا ہے۔وہ زمین کی طرف اترتے ہیںاور گلیوں کے کناروں پر کھڑے ہوکرایسی زور دار آواز سے پکارتے ہیں جس کو جنوں اور انسانوں کے علاوہ تمام مخلوق سنتی ہے،فرشتے کہتے ہیں کہ اے امت محمدیہ علیہ السلام!اپنے رحیم و کریم رب کی طرف نکلووہ زیادہ ثواب عطافرماتاہے اور بڑے گناہوں کو بخش دیتاہے۔
جب وہ (روزے دار)عید گاہ کی طرف جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتو!فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب ہم حاضر ہیں،اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ جب کوئی مزدور اپنی مزدوری پوری کرلے تو اس کی کیا مزدوری ہونی چاہئے؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار!اُس کو پورا اجر عطا فرما۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے میرے فرشتومیں تمہیں گواہ بناتا ہوں ،میں نے اپنے روزے دار بندوں کے روزوں اور قیام کاثواب اپنی رضا اور اپنی بخشش کی صورت میں عطا کیا۔
پھر اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ اے میرے بندو!مجھ سے مانگوں  مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم !آج جو کچھ تم مجھ سے اپنی آخرت کیلئے اس جماعت میں مانگوگے تمہیں عطا کروں گا۔اور دنیا کیلئے (جائز طریقے سے)جو کچھ مانگوں گے وہ بھی عطا کروں گا۔اور مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم !میں تمہاری لغزشوں پر پردہ ڈال دوں گا جب تک کہ تم میرے احکام کی حفاظت کروگے۔میں تمہیں ان لوگوں کے درمیان ذلیل و رسوا نہیں کروں گاجن پر حد واجب ہوگئی۔بخشش حاصل کرتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس لوٹو تم نے مجھے راضی کیا اور میں تم سے راضی ہوا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس بات پر فرشتے خوش ہوتے ہیں اور اس بات کی خوشخبری دیتے ہیں جو اللہ نے اس امت کو (بھلائی )عطافرمائی۔عید منانے کا اسلامی طریقہ:ہرمذہب کے ماننے والے لوگوں کے کچھ تیوہار ہوا کرتے ہیں لیکن ان تیوہاروں کے منانے کا طریقہ الگ الگ ہوا کرتا ہے لیکن قربان جائیے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کی ذات گرامی پر کہ جو طریقہ حسن تیوہار منانے کا آپ نے مسلمانوں کو بتایا وہ طریقہ کسی اور مذہب میں نہیں ملتا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تمہیں کوئی خوشی ملے تو سب سے پہلے اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوے اللہ کو یاد کرو۔یوں تو ہماری زندگی میں ہمیں بہت سی خوشیاں ملتی ہیں لیکن کچھ خوشیاں کبھی اور خاص موقعوں پر حاصل ہوتی ہے اور وہ خاص موقع ہماری زندگی میں سال میں دوبار آیا کرتے ہیں ایک عید الفطر اور دوسرے عید الاضحی۔
ان دنوں میں ہر بندئہ مومن خوش ہوا کرتا ہے اور اگربندہ اپنی خوشی میں اپنے خالق ومالک اللہ کو شامل کرلے تو اس کی یہ خوشی دوگنی ہوجایا کرتی ہے عید کے دن ہر بندئہ مومن اپنی حیثیت کے مطابق اچھا لباس بناتا ہے عمدہ اور بہترین کھانوں کا انتظام کرتا ہے لیکن مذہب اسلام نے یہ خوشی اکیلے منانے کا حکم نہیں دیا ۔مذہب اسلام ہی صرف ایک ایسا سچامذہب ہے جس نے اپنے ماننے والو ں کو خوشی اور غم منانے کے تمام طور طریقے سکھائے ہیں۔
غم اور خوشی میں امیری اور غریبی کے فرق کو مٹا یا،اورحکم دیا ایک امت مسلمہ ہوکر اپنی خوشیوں کا اظہار کیا کرو۔اور ہم میں سے جو لوگ صاحب حیثیت ہیں اللہ نے ان کو مال و دولت سے نوازہ ہے ان کے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان پراپنے روزوں کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے کیونکہ جب وہ اپنے مال سے صدقہ فطر ادا کریں گے تو اللہ کے وہ بندے کہ جن کے پاس مال و دلت نہیں ہے،جن کے پاس عید کے دن اچھے کپڑے پہنے کو نہیں ہوتے اور اچھے کھانے ان کو غربت کی وجہ سے میسر نہیں ہوتے ۔
اللہ کے ان بندوں کو عید کے دن اپنی غریبی و غربت کا احساس نہ ہواس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اللہ رب العزت نے ہر امیر پرصدقہ فطر ادا کرنا واجب قرار دیا اور صدقہ فطر کا مقصد صرف یہی ہے کہ عید کے دن غریب اور بے سہارا لوگوں کو اس بات کا احساس نہ ہو کہ آج عید کے دن ہمارے پاس پہنے کو اچھے کپڑے اور کھانے کے واسطے بہترین کھانے ہمیں دستیاب نہیں ہیں۔اس لئے ہر صاب نصاب پر صدقہ فطر ادا کرنا لازمی ہے تاکہ وہ صدقہ فطر ادا کریں اور جن کو صدقہ فطر دیا جا رہا ہے وہ اس کے ذریعہ اپنی ضرورتوں کو پورا کر کے امیر اور غریب سب ایک ساتھ کھڑے ہوکر اپنے مالک حقیقی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوں۔
اسی لئے علماء کرام فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ہی ادا کردینا چاہئے تاکہ جس کو صدقہ فطر دیا جا رہا ہے وہ بھی تمہارے ساتھ عید گاہ میں دورکعت نماز عید الفطر خوشی خوشی ادا کرسکے ۔یہاں سے ہمیں اس بات کی بھی نصیحت ملتی ہے کہ اللہ کے نزدیک امیری اور غریبی کو ئی معنی نہیں رکھتی ہے بلکہ جس طرح ایک امیر انسان اللہ کو یاد کرنے کاحق رکھتا ہے اسی طریقے سے وہ حق ایک غریب انسان کو بھی حاصل ہے اور امیر لوگ غریبوں کو گری ہوئی نظر سے نہ دیکھیںاس لئے ان پر صدقہ فطر ادا کرنا واجب قراردیا۔اور اگر صدقہ فطر ادا نہیں کیا تو ان کے روزے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آسمان اور زمین کے درمیان لٹکے رہیں گے ۔
او مذہب اسلام نے اپنے ماننے والوں کو حکم دیا کہ جب عید کے دن عید گاہ کیلئے اپنے گھروں سے نکلو تو کوئی میٹھی چیز کھاکر نکلو چاہے کھجور ہی کیوں نہ ہواور اللہ کی حمد وثناء اور اس کی بڑھائی بیان کرتے ہوئے نکلو اور عید گاہ میں داخل ہوکر بھی دورکعت نماز کے ذریعہ اپنے رب کی حمدوثنااور اس کا ذکرکرو۔پھر دوکعت نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے لگ کر امیری اور غریبی کے فرق کا مٹاتے ہوئے اپنی خوشیوں کا اظہار کرو۔پھر جب عید گاہ سے اپنے گھروں کوواپسی کرو تب بھی تمہاری زبانوں پر اللہ کا ذکر ہونا چاہئے ۔مذہب اسلام ہمیں درس دیتا ہے کہ اچھا لباس پہنے ،عمدہ کھانے،خوبصورت عورتوں سے مصافحہ کرنے،سنیما ہالوں میں جانا ،بائک ریس کرنا،اور دوسری تمام خرفات کے ساتھ لذت و شہوت سے نفع اندوزی کا نام عید نہیں ہے۔
بلکہ مو من کامل کی عید یہ ہے کہ اس کی عبادت قبول ہونے کی علامات ظاہر ہوں،گناہ اور خطائیں مٹ جائیں ،برائیاں نیکیوں سے بدل جائیں ،بلندئی درجات کے اشارات اللہ کی طرف سے حاصل ہوں،قوت و یقین کے ذریعہ دل کوسکون عطا ہوجائے۔اور مومن کی عیدصرف اللہ کی رضا حاصل کرنے کیلئے ہوتی ہے۔جب بندئہ مومن عید کی نماز کیلئے جاتا ہے تو اس کے سر پررشدو ہدایت کا تاج اور آنکھوں سے تدبروعبرت کی علامات ظاہر ہو تی ہیں۔اس کے کان حق سنتے ہیںاور اس کی زبان سے توحید الٰہی کی صدائیں گونجتی ہیں۔اس کا معبود تمام مخلوق کا رب ہے پھر وہ اس کے سامنے گڑگڑاتااور سوال کرتا ہے۔
تو اللہ کی طرف سے قبولیت اور عطا کی صورت میں جواب ملتا ہے۔کہ اے میرے بندے تونے مجھے راضی کیا میں تجھ سے راضی ہو گیااور میں نے تجھے اپنی بخشش و مغفرت سے نواز دیا۔کہاگیا ہے کہ عید کے دن ایک شخص حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضرہوادیکھا کہ آپ خشک روٹی تناول فرمارہے تھے اُس شخص نے حضرت علیؓ سے کہا کہ آج عید کا دن ہے اور آپ خشک روٹی تناول فرما رہے ہیں؟آپ نے فرمایا آج عید اس کی ہے کہ جس کے روزے قبول ہوئے،محنت مشکور ہوئی ،اور گناہ بخش دئے گئے۔آج کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہے اور کل کا دن بھی ہمارے لئے عید کا دن ہوگااور ہر وہ دن جس دن ہم اللہ کی نافرمانی نہ کریں وہ دن ہمارے لئے عید کا دن ہے۔
معلوم ہوا ظاہری خوشی کے حاصل ہونے کا نام عید نہیں ہے بلکہ اصل عید وہ ہے کہ جو ہم نے اللہ کی بارگاہ میںنیک اعمال کی پیش کئے ہیں وہ قبولیت کا مقام حاصل کرلیں یہی ہمارے لئے اصل عید ہو گی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عید کے دن اپنے بیٹے کو پرانے کپڑے پہنے ہوئے دیکھا تو بیٹے کی اس حالت کو دیکھ کر رونے لگے ،بیٹے نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے دیکھا تو عرض کی کہ اے والد محترم آپ کس لئے روتے ہیں ؟حضرت عمر نے ارشاد فرما کہ آج عید کا دن ہے جب تمہارے ساتھ کے لڑکے تمہیں پرانے کپڑوں میں دیکھیں گے تو تمہارا دل غمزدہ ہوکر ٹوٹ جائے گا۔
یہ الفاظ سن تے ہی بیٹے نے جواب دیا کہ اے ابا جان! دل اس کا ٹوٹے گا کہ جو اپنے رب کی رضا کو حاصل کرنے سے محروم رہا ہو ،اور آج کے دن غمزدہ وہ ہوگا کہ جس نے اپنے ماں باپ کی نافرمانی کی ہو ۔مجھے اپنے رب کی ذات پر بھروسہ ہے کہ آپ کی رضامندی کے طفیل میرارب بھی آج مجھ سے راضی ہوجائے گا بیٹے کی زبان سے یہ الفاظ سن کر حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسوں آگئے اور آپ کی زبان سے بیٹے کیلئے یہ دعائیہ الفاظ نکلے کہ فقر اور صبر دوکپڑے ہیں اور ان کے درمیان ایک دل ہے جس کو اُس کا مالک عید اور جمعوں میں دیکھتا ہے۔(مکاشفتہ القلوب)
معلوم ہوا کہ عید نام نئے کپڑوں اور اچھے کھانوں کا نہیں ہے۔لیکن اصل عید یہ ہے کہ ہمارے اعمال صالحہ بار گاہ الٰہی میں قبول ہوں ،ہم سے ہمارا رب راضی ہوجائے اور ہمارے والدین بھی ہم سے خوش ہوں حقو ق اللہ اور حقوق العباد کی ادائے گی ہماری زندگی مقصد ہو تو ہماری زندگی کا ہر دن عید ہے اور اگر ہم نے ظاہری پوشاک پر نظر رکھی اچھے کھانوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا حقو ق اللہ اور حقو ق العباد سے ہم غافل رہے تو نئے لباس کو زیب تن کرنے کے بعد خوشیوں کا اظہار کرنا یہ مذہب اسلام کے خلاف ہے اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے۔
عید کے دن ہمیں اپنے مرحومین کو بھی یاد رکھنا چاہئے حضورؐ فرماتے ہیں کہ جو شخص عید کے دن تین سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمد ہ پڑھتاہے اور اس کا ثواب اپنے مرحومین کو پہنچاتا ہے تو ہرمسلمان کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل ہوتے ہیں اور جب یہ انسان دنیا سے رخصت ہوگا تو اللہ اس کی قبر میں بھی ایک ہزار انوار دخل فرمائے گا۔(مکاشفتہ القلوب)اللہ رب العزت ہماری ماہ رمضان کی تمام طرح کی نیک عبادات کومحبوب کے وسیلے قبول فرماکر آخرت میں نجات کا سامان بنائے،اور دین اسلام کے مطابق عید الفطر کی خوشی کا اظہار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

متعلقہ خبریں

Back to top button