
ممبئی7مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ان دنوں ملک میں لاؤڈ اسپیکر اور ہنومان چالیسا کا تنازعہ ہے۔ سیاسی گلیاروں میں ہنومان چالیسا اور لاؤڈ سپیکر پر زبردست سیاست ہو رہی ہے۔ اس تنازعہ پر ہر کوئی اپنا اپنا موقف پیش کر رہا ہے۔ اب اس معاملے پر بالی ووڈ اداکار سونو سود نے بھی اپنا ردعمل دیا ہے۔بالی ووڈ اداکار سونو سود نے سب سے مل جل کر رہنے کی اپیل کی ہے۔ اپنی بات کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے کورونا کے دور کا ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لاؤڈ سپیکر اور ہنومان چالیسہ تنازعہ پر دکھ ہے اور یہ دیکھ کر میرا دل ٹوٹ جاتا ہے کہ لوگ اب جس طرح ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو کر زہر اگل رہے ہیں۔
پچھلے ڈھائی سالوں میں ہم سب نے مل کر کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑی۔سیاسی جماعتوں نے بھی اس وبا کا کندھے سے کندھا ملا کر مقابلہ کیا۔ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں جب تمام کورونا مریضوں کو آکسیجن کی ضرورت تھی، کسی نے مذہب کی پرواہ نہیں کی۔ کورونا کے خطرے نے ہمارے ملک کو متحد کر دیا تھا۔ ہمارے رشتے مذہب سے ہٹ کر ایک اٹوٹ بندھن میں بندھے ہوئے تھے۔تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہوئے، سونو سود نے کہاہے کہ یہ وہ وقت ہے جب ہمیں ایک بہتر ہندوستان کے لیے اکٹھا ہونا ہے۔
ہمیں مذہب اور ذات پات کی سرحدیں توڑنی ہوں گی۔ تاکہ ہم انسانی بنیادوں پر اپنا حصہ ڈال سکیں۔ ہم مذہب سے بالاتر ہو کر ساتھ کھڑے ہوں گے تو لاؤڈ سپیکر کا تنازع خود بخود ختم ہو جائے گا۔ معاشرے میں انسانیت، بھائی چارہ گونجے گا۔ سونو سود نے یہ بیان پونے میں دیاہے۔سونو سود نے ملک میں چل رہے لاؤڈ اسپیکر اور ہنومان چالیسا تنازعہ پر پہلی بار ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وہ کسی بھی سماجی اور سیاسی معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرنے سے نہیں گھبراتے۔ سونو سود نے کورونا کے دور میں غریبوں کی بہت مدد کی تھی۔ جس کی وجہ سے سونو سود کو مسیحا کا ٹیگ مل گیا۔ سونو سود اب بھی لوگوں کی مدد کرتے رہتے ہیں۔ لوگ ٹویٹ یا ذاتی پیغام کے ذریعے ان سے مدد کی درخواست کرتے ہیں۔



