گردوں کی اہمیت اور گردے فیل ہونے کا مؤثر یونانی علاج
✍️حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحبزادہ ماہر نباض مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی رحیمی شفا خانہ بنگلور
امراض گردہ عام بیماریوں کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور ہرچوتھا مریض گردہ کے کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہے۔ میرے والد محترم بڑے حکیم حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی حفظہ اللہ اپنی کتاب ’’گردوں کا مکمل علاج‘‘ میں ڈاکٹر نفیس احمد قاسمی چرتھاؤلی چیف میڈیکل سنٹرل گور نمنٹ ہیلتھ اسکیم بنگلور کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں کہ مرض گردہ ایک ایسا مرض ہے کہ جو چپ چاپ آہستہ آہستہ ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔
بسرعت تشخیص اور علاج نہ صرف یہ کہ یقینی ہلاکت کو ٹال سکتا ہے۔ بلکہ مرض کے بارے میں صحیح معلومات مرض کے آنے کے سلسلے کی رو ک تھام کرسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں معاشرہ میں موجود امراض گردہ کی بسرعت تشخیص اور درست علاج، گردوں کی اہمیت اور ان کی صحت کے بارے میں حفظ ما تقدم طریقے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔
زہریلے مواد سے گردے خراب: میونسپلٹی کے صفائی کرم چاریوں کے ذریعہ پیدا کردہ کوڑے کچرے کے ڈھیر کو صاف نہ کئے جانے کی وجہ سے (دو یا تین دن کی اسٹرائٹک) کس طرح ہمارے چاروں طرف بدبو، کوڑے کے انبار او رغیر صحت مند ماحول پیدا کردیتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح اگر ہمارے گردے ہمارے جسم کے اندر موجود زہریلے مواد کو صاف نہ کرسکیں تو نہ صرف یہ کہ گردے خود بیمار ہوجائیں گے۔ بلکہ دیگر اعضاء بھی متاثر ہوکر اپنا فعل روک دیں گے، اس لئے اس زمانہ میں ضرورت اس بات کی ہے کہ بحالت صحت ہم اپنے گردوں کی دیکھ بھال ٹھیک طرح سے کریں اور ان کی صحت مند حالت کو اچھا اور بہتر بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔
حاد مرض گردہ کا اہم سبب: حاد مرض گردہ (AKI) کے زیادہ تر کیس ہاسپٹل کے ماحول میں انفکشن اور قوت مدافعت کی کمی کی وجہ سے اچانک نمودار ہوتے ہیں بچوں میں حاد امراض گردہ کا سب سے بڑا سبب جسم سے اچانک کافی مقدار میں پانی کا نکل جانا تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں ہم بے بسی کے ساتھ اقرار کرتے ہیں کہ چاند پر جانے کے باوجود آج بھی ہم معمولی امراض ہاضمہ اور دست وپچیش کو مکمل قابو میں نہیں کرسکے ہیں جس کی وجہ سے بچوں میں ڈیہائڈریشن اورگردوں کے اوپر شدید دبائو آجاتا ہے اور وہ اپنا طبعی فعل قائم نہیں رکھ پاتے ۔ ایسی حالت میں فوراً مشین کے ذریعے خون کی صفائی (Dialysis) کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
یورین کلچر چک اپ: بچوں میں خصوصاً لڑکیوں میں یورینری ٹریکٹ انفکشن (UTI) بہت ہی عام ہیں خصوصاً جب کہ تعدیہ اوائل عمر (ابتدائی دو سال میں) میںنمودار ہوکر گردوں کے لئے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اس لئے ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تعدیہ کے بارے میں معلومات فراہم کریں او رہائی فیور کی صورت میں بچوں کو فوراً اسپتال لائیں جہاں یورین کلچر کرکے مناسب علاج کرتے ہیں۔ عام طور سے اس علاج کو کرنے میں ۱۵ دن لگتے ہیںجب کہ بڑوں کے اس تعدیہ میں ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات واضح ہو کہ اگر بغیر کسی ظاہری وجہ کے بچہ کی نشوونما برابر نہیں ہورہی ہے تو پھر معالج کاذہن گردوں کے امرا ض کی طرف جانا چاہئے ۔
لمحۂ فکریہ: ضروری جانچ کے ذریعے مرض پر قابو: وہ لوگ جو ضغط الدم (High Blood Presure) یا ذیابطیس سے متاثر ہیں اس کے علاوہ وہ لوگ جن کو بار بار گردوں کی پتھریا ہوتی ہیں یاوہ حضرات جن کو بار مجاری بول کا تعدیہ (UTI) ہوتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ شدید موٹاپے سے متاثر افراد وغیرہ ہر چھ ماہ بعد اپنے گردوں کی تحفظی جانچ کراتے رہیں جس میں سیرم یوریا، یورک ایسڈ، سیرم کریٹنین او رپیشاب کی عام جسمانی اور خوردبینی جانچ شامل ہے۔ ایسا کرنے سے مناسب وقت پر احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گردوں کو فیل ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔ ایک الٹراسائونڈ کے ذریعہ گردے اور اس کے متعلق اعضاء کی مختلف طرح کی بیماری کو معلوم کرکے بسرعت علاج کرکے عوارضات کوروکا جاسکتا ہے۔
فوراً طبیب سے رجوع کریں: گرمیوں میں پانی کا استعمال پانچ سے چھ لیٹر اور سردیوں میں 2-3 لیٹر کریں، بخار کی حالت میں پانی کا استعمال زیادہ کریں، دستوں کی حالت میں پانی کی پورتی کرتے رہیں اور ضرورت ہو تو ڈراپ کے ذریعہ پانی کی کمی کو پورا کریں۔ تیز بخار کپکپی اور جاڑے کے ساتھ ، پیشاب میں شدید جلن گردے اور مثانہ پر بھاری پن، جلد جلد پیشاب کی آمد ،پیشاب میں خون کی آمد اور پیشاب میں رکاوٹ ،پیشاب کی کثرت ،قوت باہ میں اچانک کمی ،پیشاب کی رنگت میں نمایاں فرق ایسی علامات ہیں جن کو معمولی حالات میں نظر انداز نہ کریں اور فوراً طبیب سے رجوع فرمائیں۔
خصوصی علامات: ہاتھوں پیروں میں سوجن، آنکھوں کے پپوٹوں کے آس پاس بھاری پن ،پنڈلیوں کے سامنے کی طرف سوجن وغیرہ ایسی علامات ہیں جن کا تعلق امراض گردہ سے ہوسکتا ہے۔ ان علامات کو نظر انداز نہ کریں۔ کوئی بھی دواء بغیر طبیب یا ڈاکٹر کے مشورہ کے نہ لیں بہت سی ادویہ خصوصاً درد، بخار اور تیزاب مار ادویہ گردہ کو فاسد وباطل کرسکتی ہیں۔ پچاس او رساٹھ سال کی عمر کے درمیان وسٹیٹ غدہ میں تبدیلیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ اس عمر میں سال میں ایک بار امتحان کرانے سے امراض گردہ اور اس کے عوارضات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔
صحت اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے: صحت اللہ کی عطا کردہ نعمت ہے اس کی حفاظت آپ کی ذمہ داری ہے اس لئے حفظ ما تقدم کے طو رپر ہمیشہ مناسب معتدل غذا کے علاوہ پرہیز اور ورزش کا خاص دھیان رکھیں آپ کی بیلٹ یا پیٹ کا سائز 36؍انچ سے زیادہ ہوا تو صحت پر توجہ کی ضرورت ہے عام اصول صحت اپنا کر امراض گردہ سے محفوظ رہیں۔شراب نوشی ، سگریٹ اور منشی ادویہ گردے کے افعال کو باطل کرنے میں اہم رول ادا کرتی ہیں۔
نوٹ: گردہ فیلر اور کریٹین بڑھا ہوا مریض رحیمی شفاخانہ سے رجوع کرسکتے ہیں، امراض گردہ میں گردوں کو فعال بنانے میں یونانی ادویات مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔
| Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039 Phone : 080-23180000/23397836 Mobile no 9343712908 |



