سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

ہڈی کا کینسر اسباب اور بچنے کا آسان طریقہ -✍️حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی

حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحبزادہ ماہر نباض مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی رحیمی شفا خانہ بنگلور

جسم کے کسی بھی حصے میں خلیوں کی خلاف معمولی افزائش کینسر کو جنم دے سکتی ہے،اس لیے ہڈیوں میں کینسر ہوسکتا ہے لیکن اس قسم کا کینسر جس کا آغاز ہڈیوں سے ہی ہو، کم دیکھنے میں آتا ہے، جسم میں موجود کوئی بھی ہڈی کینسر سے متاثر ہوسکتی ہے تاہم زیادہ تر بازوؤں اور ٹانگوں کی لمبی ہڈیاں اس کا شکار ہوتی ہیں۔ ہڈیوں کے سرطان کی مختلف قسمیں ہیں ۔ اس قسم کے کچھ کینسر بچوں میں جبکہ بعض بالغ افراد میں دیکھے جاتے ہیں۔

یہاں یہ بات واضح ہوجانی چاہیے کہ ہڈی کے سرطان سے مراد وہ کینسر نہیں ہیں جو جسم کے کسی اور حصے میں شروع ہوں اور پھر پھیل کر ہڈیوں کو اپنی گرفت میں لے لیں۔ ایک عضو سے دوسرے عضو تک کینسر کے پھیلاؤ کو Metastasizeکہتے ہیں لہٰذا کینسر جس عضو سے شروع ہوتاہے اسے وہی نام دیا جاتا ہے۔ مثلاً چھاتی کا سرطان اگر پھیل کر ہڈیوں تک پہنچ گیا ہے تو اسے بریسٹ کینسر ہی کہیں گے۔

اس کے لئے ’’ بون کینسر‘‘ کی اصطلاح استعمال نہیں کی جائے گی۔ ہڈیوں کے سرطان میں خون کے خلیات کے سرطان مثلاًMyeloma Multipleاور Leukemiaکو بھی شامل نہیں کیا جاتا جو در اصل ہڈیوں کے گودے میں ہوتا ہے جہاں خون کے خلیات تشکیل پاتے ہیں۔

علامتیں: ہڈیوں کے سرطان کی علامتوں میں =ہڈیوں میں درد ہونا=  متاثرہ حصے کے آس پاس کی جگہ کا سوج جانا، نرم ہوجانا=ہڈیوں کا اتنا کمزور ہونا کہ وہ ٹوٹ جائیں =بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کرنا =کسی سبب کے بغیر وزن کم ہونا شامل ہیں۔

اسباب :  یہ بات واضح نہیں ہے کہ زیادہ تر ہڈیوں کے سرطان کیوں ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر یہ سمجھتے ہیں کہ کسی خلیے کے ڈی این اے میں خرابی کے باعث ہڈی کینسر زدہ ہوجاتی ہے۔ ڈین این اے کی یہ خرابی خلیے کو بے قابو انداز میں بڑھنے اور تقسیم ہونے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ خلیات ایک مقررہ مدت کے بعد ختم ہونے کے بجائے زندہ رہتے ہیں اور بڑھتے جاتے ہیں۔ یہ تبدیل شدہ خلیات بعد میں رسولی کی صورت اختیار کرلیتے ہیں اور آس پاس کے حصوں پر بھی حملہ آور ہوتے ہیں یا جسم کے دیگر اعضاء تک پھیل جاتے ہیں۔

خطرے کو بڑھانے والے عوامل: اگر چہ معلوم نہیں ہے کہ ہڈیوں کے سرطان کا سبب کیا ہوتا ہے لیکن بعض عوامل ایسے ہیں جن کی موجودگی میں اس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ مثلاً بعض جنیاتی نقائص جو ایک خاندان کے افراد اپنے خاندان کے دیگر لوگوں تک منتقل کرتے ہیں۔ ہڈیوں کی ایک بیماری Pegetsجو عموماً بڑی عمر کے لوگوں کو ہوتی ہے، اس بیماری سے ہڈیوں کے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کینسر کے علاج کیلئے اگر بڑی مقدار میں تابکار لہروں (Radiation) کا سامنا ہوتا رہے تو مستقبل میں اس سے ہڈی کا سرطان بھی ہوسکتا ہے۔

جانچ اور تشخیص:  ڈاکٹر، مریض کی کیفیت دیکھنے کے بعد اسے مختلف ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دے سکتا ہے جن میں = بون اسکین =سی ٹی اسکین = ایم آرائی= پوسیٹرون ایمیسن ٹومو گرامی (PET) اور ایکسرے شامل ہیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ متعلقہ رسولی سے ٹشو کا ایک نمونہ بایوپسی کے ذریعے حاصل کرکے لیباریٹری میں ٹیسٹ کے لیے بھیجا جائے۔ اس ٹیسٹ سے یہ معلوم ہوجائے کہ ٹشو کینسر زدہ ہے یا نہیں اور اگر ہے تو یہ کس قسم کا کینسر ہے اور کس حدتک جارح ہے۔ اکر ہڈی کے سرطان کی تشخیص ہوجائے تو پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ یہ کینسر کس مرحلے میں ہے۔ اس تعین سے علاج میں آسانی رہتی ہے۔ ہڈی کے سرطان کے چار مرحلے درج ذیل ہوتے ہیں:

پہلا اسٹیج: اس مرحلے میں ہڈی کا کینسر صرف ہڈی تک محدود رہتا ہے اور ابھی جسم کے دوسرے حصے تک پھیلا ہوتا ہے۔ بایوپسی ٹیسٹنگ کے بعد اس مرحلے کے کینسر کو کم درجے کا اور زیادہ جارح قسم کا نہیں سمجھا جاتا ۔

دوسرا اسٹیج : بون کینسر کا یہ مرحلہ بھی ہڈی تک محدود رہتا ہے اور جسم کے دوسرے حصوں تک اس کی رسائی نہیں ہوتی لیکن بایوپسی ٹیسٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ سرطان اونچے درجے کا ہے اور اس انداز جارحانہ ہے۔

چوتھا اسٹیج: ہڈی کے سرطان کا یہ مرحلہ ظاہر کرتا ہے کہ کینسر ہڈی سے نکل کر جسم کے دوسرے حصوں مثلاً دماغ، جگر اور پھیپھڑے تک پھیل چکا ہے۔وہ کینسر جو ہڈی سے باہر نہیں پھیلا ہے، اس کا علاج سرجری کے ذریعے ہوسکتا ہے لیکن ممکن ہے کہ کیموتھراپی کی ضرورت پیش نہ آئے جو کینسر دیگر حصوں تک پھیل چکا ہے، اس کے علاج میں دشواری ہوسکتی ہے اور اس کے لئے سرجری کے ساتھ کیموتھراپی کی بھی سفارش کی جاسکتی ہے۔

عمومی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہڈی کے سرطان کی اگر ابتدائی مرحلے میں تشخیص ہوجائے تو سرجری کے ذریعے شفایابی کی توقع کی جاسکتی ہے۔ابتدائی مرحلے کے دو تہائی مرض شفایاب ہوسکتے ہیں لیکن اگر کینسر پرانا ہے یا زیادہ حصوں تک پھیل چکا ہے تو علاج بہت زیادہ سود مند ثابت نہیں ہوتا۔ اس کا معالجین سے رابطے میں رہنا ضروری ہے۔

میرے والد محترم بڑے حکیم حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی حفظہ اللہ لکھتے ہیں کہ ہڈی کے کینسر کیلئے قوتِ مدافعت پیدا کرنے والی ادویات مریض کو دی جائیں۔ اور عرق منڈی یا عرق شاہترہ یا عرق دار ہلد صبح شام سو سو گرام مریض کو پلایا جائے اور دار چینی کی چائے پلائی جائے۔ نیز دار چینی کا سفوف شہد میں ملا کر دو گرام روزانہ دیا جائے۔ اس کے بہت بہترین نتائج آپ کے سامنے ہوں گے اور کسی بھی اچھے معالج سے رجوع کریں۔

کینسر سے بچنے کا آسان طریقہ: بہت سے احباب رحیمی شفاخانہ میں معلوم کرتے ہیں کہ کوئی ایسی دوا تجویز کریں جس سے کینسر لاحق نہ ہو اس لئے کہ ہمارے خاندان میں کئی مریض اس مرض میں مبتلا ہیں، ان کے لئے والد محترم غذا میں ہلدی اور دارچینی کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں اور روزانہ رات کو ایک چمچ روغن ہلدی دودھ میں ڈال کر پی لیں تمام قسم کے موذی امراض سے بچاتا ہے بہترین دوا اور غذا ہے۔ روغن ہلدی رحیمی شفاخانہ سے حاصل کیا جاسکتا ہے جو سو گرام کی پیکنگ میں دستیاب ہے۔

Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039Phone : 080-23180000/23397836 Mobile no 9343712908 

متعلقہ خبریں

Back to top button