گو کہ کہنے کو ہم آزاد ملک کے باشندے ہیں، تاہم آج تک کسی بھی ملک کے شہری نے یہ کہاں سوچا کہ آزادی ہمیں کسی شے کی عطا کی گئی ہے، انفرادی طور پر ہر شخص کو مختصر سی آزادی اس آزاد ملک نے میسر کی ہے، ہم آذاد ہیں اس ذمن میں کہ ہم کسی مذہب کو اسے مان کر اختیار کر سکتے ہیں یہ حق ملک کے ہر شہری کو آئین نے عطا کیا ہے، بشرط یہ کہ اس عطا کردہ مزہبی آزادی کا دائرہ حکومت کی عطا کردہ مرہون منت و حدود کے اندر ہو، بہر کیف اس عطا کردہ آئینی حقوق کو اب لپیٹ دیا گیا ہے۔
مذہب انفرادی طور پر ماننے والوں کے اپنے دلوں میں اور اجتماعی طور پر مسجد، مندر گرجا گھر، گردوارہ، سینے گوگ تک ہی محدود ہے، ایسی آذادی جس میں سیاست کے بڑے بڑے راز پناہ ہے۔تاہم دنیا پوری میں سیاست کو مزہب سے علحیدہ کر دیا گیا، دورء حاظر میں کسی بھی مذہب کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں رہا، سیاست خالصتاً عوام کے ذریعے منتخب شدہ نمایندے ایوانِ بالا و اسمبلی میں قانون سازی کرتے ہیں، ان منتخب شدہ اراکین کے ذریعے قانون کی تشکیل ہوتی ہے، جس کا مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔
عوام پر یہ قوانین کا اطلاق لازم کردیا جاتاہے، یہی وہ عظیم فتنہ ہے جس کے اطلاق سے انسان اللہ سے دور ہو جاتا ہے، اللہ نے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ کے ذریعے قرآن کریم میں تمام احکامات نیز قوانین کو بنی نوع انسان کے لیے تفصیل سے بیان کیا ہے، تاہم انسان نے اسے درگزر کر دیا نیز خود اپنے طور پر قانون سازی کرنے لگا، مزید اللہ کے عطا کردہ نظام سے منہ پھیر لیا بلکہ ازخود اللہ کے مدمقابل اپنے نظام کو لا کھڑا کیا۔
جس کے مذر اثرات معاشرے میں نظر آتے ہیں، کرہ ارض پر جنگ و جدل، دھوکہ فریب، فتنہ نے غلبہ حاصل کر لیا، مسلمانوں کو نماز، روزہ، حج زکوٰۃ تک محدود کردیاگیا، تاہم اللہ کا دین ہر ایمان والوں سے کہتا ہے زمین اللہ کی ہے اور اس پر حکم بھی نظام بھی اللہ کا ہی رہے، ہر کلمہ گو پر یہ لازم ہے کہ وہ اللہ کے دین کو نافذ کرنے کے لئے کوشاں رہے یہاں تک کے اسے موت آجائے۔ بہر کیف کرہ ارض پر موجود ہر ملک نے دجالی نظام کو تسلیم کرچکا، اس ذمن میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام دنیا کے تمام ممالک پر نگرانی رکھی جاتی ہے۔
حکومت سازی کے لیے دھرم و مذہب کا بے جا استعمال بھارت کی سیاست میں دہانیوں سے ہوتا چلا آرہاہے، ١٩٢٥ میں آر ایس ایس کی تشکیل کی گئی، اس غیر سیاسی جماعت خود کو کہلانے والی جماعت کا بنیادی مقصد ہی ہندو دھرم کو فروغ اور اس کے ذریعے ہندوتوا کا نظام بھارت میں قائم کرنا ہے، اس ذمن میں آر ایس ایس نے ١٩٨٢ میں اپنی سیاسی جماعت بی جے پی کی تشکیل کی، جس کا نصب العین ہی بھارت میں دھرم کی سیاست کو بروئے کار لا کر اقتدار تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
بتیس سال کے مختصر عرصے میں بی جے پی نے ملک میں اکثریت کے ساتھ وفاقی حکومت قائم کرلی ١٩٨٢ سے ٢٠١٤ تک سیاسی سفر اس حکمران جماعت کا انتہائی ہولناک رہا ہے، ١٩٩٢ میں بابری مسجد انہیں کے رہنمائ میں شہید کر دی گئی، ملک بھر میں فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جس میں ہزاروں افراد قتل کر دیے گئے، ٢٠٠٢ میں گودھرا سانحہ وقوع پذیر ہوا، گجرات میں فسادات نے سیکڑوں افراد کو لقمہ اجل بنا دیا، ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو قتل کر دیا گیا یا انہیں زندہ نظر آتیش کیا گیا۔
اسی اثناء بی جے پی جماعت کو خوب تقویت ملتی چلی گئی، مزید مرکز میں ٢٠١٤ کے انتخابات نے اس جماعت کو اکثریت کے ساتھ حکومت سازی تک رسائی دی، ١٩٩٠ سے آج تک ریاست جموں کشمیر میں ایک لاکھ سے زائد افراد دہشت گردوں نے ہلاک کر دیے۔ بہر کیف اقتدار تک رسائی اسی وقت ممکن ہے جب اقلیت بلخصوص مسلمانوں کو ہراساں کرکے ان پر ظلم و تشدد کیا جائے، اقتدار حاصل ہونے پر اس حاصل شدہ اقتدار کو مسلسل برقرار رکھنا جوے شیر لانے سے کم نہیں لہذا ہر حربہ استعمال کیا جانے لگا جس سے اقلیتی طبقہ میں خوف وہراس بدستور قائم رہے۔
مسلمانوں پر ظلم و ستم تواتر سے جاری رکھنا یہی اقتدار میں بنے رہنے کی ضمانت ہے، سی اے اے، این آر سی، گو ہتھیا قانون، طلاق ثلاثہ، ایسے قوانین بنائے گئے جو انسانی نظریات کے ساتھ نہیں چل سکتے، نیز اللہ کے نظام میں بھی ایسے قانون کی کوئی حثیت یا جگہ نہیں حکمران جماعت کا سیاسی سفر انہیں عملیات پر ہے، عوامی فلاح وبہبود سے ان کا کوئی سروکار نہیں۔
نتیجہ گذشتہ دو سال سے جاری کویڈ ١٩ میں جاں بحق ہونے والوں کا سروے اقوام متحدہ براے صحت نے جاری کیا دنیا پوری میں کرونا وائرس سے ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد موت کی ابدی نیند سو چکے۔ حیرت انگیز طور پر بھارت صفحہ اول پر اس فہرست میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوا، سینتالیس لاکھ افراد کرونا وائرس سے بھارت میں جاں بحق ہوئے تاہم سرکاری اعداد و شمار محظ چار لاکھ ستر ہزار ہے۔
اقوام متحدہ براے صحت نے بھارت کے جاری کردہ چار لاکھ ستر ہزار کو تسلیم نہ کرتے ہوئے کہا اس سے دس گناہ زیادہ افراد جاں بحق ہوئے، انتہائی رسوائی کا مقام ہے ہم اس وبا کا مقابلہ نہ کرسکے وجہ ہماری سیاست میں ایسے کسی بھی قدرتی طور پر وقوع پذیر ہونے والے حالات سے نمٹنے کے لئے سہولیات نہیں ہے۔
٢٠١٩ اگست میں بھارت سرکار نے ریاست جموں و کشمیر کو بھارت میں زم کر لیا آرٹیکل ٣٧٠ اور ٣٥ (اے) کو کلعدم قرار دے دیا۔
گذشتہ ٢٨ ماہ سے ریاست جموں و کشمیر کے سیکورٹی انتظامات پر ٩ ہزار کروڑ کی خطیر رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ ملک کی آمدنی کا اتنا بڑا حصہ صرف سیکورٹی انتظامات پر خرچ کرنا احمقانہ و ملک کے اثاثوں کو ضائع کرنے کے زمرے میں لازماً آتا ہے۔ بہر کیف شر پسند عناصر کوئی موقع ضائع نہیں ہونے دیتے ملک میں گذشتہ کہی دنوں سے مسجد میں لگے لاؤڈ اسپیکر پر اذان دینے کو لے کر سیاست جاری ہے۔
لاؤڈ اسپیکر پر اذان تخریب کار عناصر کو نا قابل قبول بن گئی ہے، مساجد کے سامنے ہجوم کی شکل میں لوگوں کا مجمع نیز مساجد کی بے حرمتی انہی ہجوم میں شامل عوامل کرتے نظر آئے، شاید مسجد میں لاؤڈ اسپیکر پر اذان کی گونج سے ملک کے وزیراعظم کی آواز کہی کھو گئی، اسی تشویش کے باعث لاؤڈ اسپیکر کو ہٹانے کی مہم کارفرما ہے، بہر کیف دھرم و مزہب کے گرد گھومتی سیاست اسی طرح اس ملک میں چلتی رہی گی۔



