سوانح حیات فلمی و اسپوریٹس

معروف غزل مغنی جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی داستانِ ِ محبت ! ✍️ڈاکٹر جی۔ایم پٹیل ۔پونہ

جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ کی داستانِ محبت سے پہلے جگجیت سنگھ کی انفرادی زندگی بطور غزل مغنی اور کامیاب موسیقار کی مختصر تفصیلات پیش ہیں۔جگجیت سنگھ نے خاؒلصہ اسکول اور بعد میں سری گنگانگر کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔ لیکن موسیقی کے شوق و دلچسپی نے تمام علمی عزائم کو خاک میں ملا دیا۔اپنی موسیقی کی تعلیم کے جنون میں’ ڈی اے وی‘ کالیج جالندھر چلے گئے جہاں جگجیت نے آل انڈیا ریڈیو پہنچ کر اپنی قابلیت کواجاگر کرنے ،ظاہر کرنے کچھ موسیقی پروگرام نشر کئے اور اس وقت موسیقی کی کچھ معروف ہستیوں کے رابطہ میں آئے ۔

حالانکہ ایک تربیت یافتہ گلو کار ہونے کے باوجود اداسی، رنجیدگی کا احساس ان کے لئے ایک معمہ بن گیا،اسی اداسی کے احساس نے انہیں ’’بول پردھان گائیکی‘‘ تک لے گیااور ’’ راگ بھیروی ‘‘ میں گہری دلچسپی رہی ۔ جگجیت نے راگ ’’ للیت ‘‘ میں گائی’’ گلزار ‘ ، سعید راہی کی ذیل دو غزلوں کو شائقین نے بھی پسند کیا۔

۱ع؎  کوئی پاس آیا سویرے ،سویرے ، مجھے آزمایا سویرے سویرے ـ میری داستاں کو ذرا سا بدل کر ، مجھے ہی سنایا سویرے سویرے

جو کہتا تھا کل شب سنبھلنا سنبھلنا ،

وہی لڑ کھڑا یا سویرے سویرے کٹی رات ساری مری میکدے میں ،

خدا یاد آیا سویرے سویرے

۲ع؎  سہما سہما ڈراسا رہتا ہے ، جانے کیوں جی بھرا سا رہتاہے

کائی سی جم گئی ہے آنکھوں پر ، سارا منظر ہراسا رہتا ہے
ایک پل دیکھ لوں تو اٹھتا ہوں ، جل گیا گھر ذرا سا رہتا ہے

سر میں جنبش خیال کی بھی نہیں، زانوؤں پر دھرا سا رہتا ہے

غزل کا انتخاب اسکا مرکزی خیال جگجیت کی ذہنی کیفیت کا مظہر ہے۔شاید جگجیت نے اپنی کمزوری کو پڑھ لیااور فیصلہ کر لیا اور’’ کروکشیتر ‘‘ یونیورسٹی ،کروکشیتر ہریانہ ‘ میں داخلہ لے لیا جہاں انہوں نے اپنے اندر پنہا ں اصلی فنکار کو ایک شناخت دی اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہر سمت سے اپنے فن اور کلام کے انتخاب میں سارے مداح جیت لئے اور تشریف فرما غزل شائقین کو اپنی آواز ،سُر تال سے ان کا دل کو جیت لیا اور شایقین کے ذہنوں پر اپنی فتح کا سکہ ثبت کردیا۔

لیکن اپنے والد صاحب جن کی دلی خواہش تھی کہ جگجیت ’’آئی اے ایس ‘‘ افسر بنے وہ تمنا ، بس تمنا ہی رہ گئی۔قسمت کی آزمائش اور بمبئی کی شان و شوکت میں خود کا موسیقی مقام پانے منطقی طور پر بمبئی کی راہوں پر ایک سرآبی دنیا کا راستہ اختیار کیا اور آخر کار ۱۹۶۵ء میں بمبئی کا الوداع کہا اور واپس اپنے شہر پہنچ گئے ا ور سال ۱۹۶۱ء میں’ اسکاؤٹنگ مشن‘ پر اس شہر کا احساس ہوا۔

جگجیت سنگھ نے متعدد زبانوں میں کمپوز کیا اور گایا ۔ غزل کی احیا اور مقبولیت کا سہرہ ،ایک ہندوستانی کلاسیکی فن کی شکل ہے،جو عوام کے لئے موزوں شاعری کا انتخاب کر کے اور انکی تشکیل کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ ایک ایسا طریقہ جس میں الفاظ کے معنی اور ان کے ذریعہ پیدہ کردہ راگ پر زیادہ زور دیا ۔ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لیحاظ سے ان کی موسیقی کی اس ترتیب کو مغنی کے انداز کو’’ بول پردھان‘‘ سمجھا جاتا ہے۔

چترا سنگھ اور جگجیت سنگھ دونوں نے مل کر کچھ ناقابلِ یقین موسیقی تخلیق کی۔،جگجیت سنگھ ’’ غزل کے باد شاہ ‘‘ اور چترا سنگھ غزل کی’’ ملکہ ‘‘ کا اعزاز حاصل ہوا اور اپنے پیار کو سفر کو کامیاب بنایا۔دونوں نے بے شک ایک ناقابلِ فراموش ازدواجی زندگی کا سکون و سلامتی حاصل کی۔

جگجیت اور چترا کی داستانِ عشق کا آغاز کچھ اس طرح ہوا۔دراصل چترا سنگھ کے رہائیش پر ایک ریکارڈنگ اسٹوڈیو تھا اور اس اسٹوڈیو کو’ مہندر جیت سنگھ‘ نے نئے گلوکاروں سے ایک البم بناے کی غرض سے اسے بُک کیا تھا، چترا سنکھ ایک گلوکارہ اور میز بان بھی تھیں۔غزل مغنی جگجیت سنگھ بھی ریکارڈنگ کے لئے مدعو تھے۔جگجیت سنگھ وعدہ کے مطابق چترا سنگھ کی رہائیش پر پہنچے ۔

مہندر جیت سنگھ نے جگجیت کو دیکھا اور آواز دی ’’ ارے للو ۔۔ اندر آجاؤ ‘‘ للو مطلب جگجیت سنگھ اندر تشریف لے آئے ۔چترا سنگھ وہیں تشریف فرما تھیں، سلام کلام کے بعد دونوں چترا اور جگجیت متعارف ہوئے۔ اس انوکھے انداز میں جگجیت سنگھ اور چترا سنگھ پہلی ملاقات کے کچھ یادگار لمحے تھے ۔چترا سنگھ ،جگجیت سنگھ کی آواز سے بخوبی واقف تھیں ،

چترا سنگھ نے فوراََ یہ کہہ کر اپنا گانا ریکارڈنگ کرنے سے ٹال دیا کہ ’’ میں نہیں گاؤں گی جگجیت کے ساتھ۔ میری آواز پتلی اور اونچی ہے جبکہ جگجیت کی آواز بھاری باس کی آواز ہے‘‘ اس دن جگجیت سنگھ نے اکیلے ہی اپنا نغمہ ریکا رڈ کیا گیا۔ جگجیت سنگھ کچھ صدمہ ضرور پہنچا لیکن انہوں نے اس چوٹ کو ایک فنکار کی حیثیت سے برداشت کرلیا۔

لیکن چترا جگجیت سے کافی متاثر ہوئیں،کچھ شرمندگی کا احساس بھی ہوا ۔کچھ عرصہ بعد ایک اور موقعہ اس داستانِ محبت کو اور واضح کرتا ہے۔ جگجیت اور چترا کے نغموں کی ریکارڈنگ ایک ہی اسٹوڈیو پر طئے تھی،دونوں نے اپنی ریکارڈنگ مکمل کرلی اب واپسی کے وقت چترا نے جگجیت کو اپنی کار سے لفٹ کی پیش کش کی ، اس مختصر سفر کے دروان چترا نے دل کی خلش کو مٹانے اپنے گھر چائے کے لئے جگجیت کو دعوت دی ۔

جگجیت نے دعوت قبول کی اور چترا سنگھ کی رہائش پر پہنچے اور جب چترا چائے کی تیاری میں لگ گئیں جگجیت نے چائے آنے سے پہلے اپنی غزل گانی شروع کردی اور چترا سنگھ نے چائے بناتے ہوئے اس غزل کو سے محظوظ ہوتی رہیں ۔کچھ دیر بعد چترا چائے لے آئی اور اس غزل کی کچھ تفتیش کی تو جگجیت سنگھ نے کہا’’ یہ

میری غزل ہے‘‘ ۔ چترا اب مطمئں ہوئیں۔اس طرح موقعہ در موقعہ جگجیت کی اور چترا کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا اور ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔وونوں کے دلوں میں ایک انجانی چاہ کی کیفیت نے گھر کر کرلیا ۔ جگجیت اور چترا دونوں میں عشق کا خمار اسقدر عروج پر تھا کہ وہ دونوں انقلاب پہ اتر آئے۔

اسی دوران چترا سنگھ  کے خاوند دیبو پرساد اور انکی شریک حیات چترا سنگھ میں آپسی رنجش کی وجہ سے دونوں میں دوریاں وسیع ہوتی چلی گئیں ۔بعد از ایں چترا اور دیبو دونوں نے اپنی رضا مندی سے طلاق لے لیا اور دیبو نے دوسری شادی بھی کرلی۔ اب چترا اور جگجیت کی شادی کا راستہ صاف ہو گیا۔شادی سے قبل از جگجیت نے اپنا اخلاقی و معاشری فرض نبھانے کی خاطر دیبو پرساد دت سے ملاقات کی اور بڑی بے تکلفانہ ،بے باک انداز میں دیبو سے کہا ’’ میں تمہاری بیوی چترا کو چاہتا ہوں اور ا س سے شادی کرنا چاہتا ہوں‘‘ اور دیبو سے اجازت ملنے کے بعد ۱۹۶۹ء میں جگجیت نے چترا سے شادی کرلی۔

جگجیت نے چترا کے ساتھ ساتھ ان کی لڑکی مونیکا کو بھی قبول کرلیا۔ لیکن یہ معاملہ یوں تو پہلے طلاق اور پھر طلاق کے بعد شادی،قریب رشتہ داروں اور خاندانوں کے لئے ایک صدمہ ضرور تھا ،ان تمام میں ناراضگی عروج پر تھی اس سے دونوں چترا اور جگجیت کافی ناراض رہے ۔ بس یہی دونوں شادی شدہ جگجیت اور چترا کی ازدواجی زندگی ایک بڑا مسئلہ بن گیا۔

دونوں جیسے تمام سماجی بندھنوں سے بیزار سے تھے اور اس قدر ٹوٹ گئے کہ اور اس قدر پریشان ہوئے کہ آخر کار تنگ آکر دونوں نے اپنے رشتہ داروں سے رابطہ ہی منقطع کرلیا اور اپنی گلو کاری میں خود کو مصروف کر رکھا اور کیوں کہ دونوں کے لئے یہ حادثہ انکے لئے ماضی تھا جسے بھولنا ہی بہتر سمجھا اور آگے بڑھتے رہے ۔ اپنی کامیاب ازدواجی زندگی میں چترا اور جگجیت نے ایک بیٹے ’ ’وویک ‘‘ کے ساتھ ولدیت قبول کر لی۔

بہر کیف چترا سنگھ اپنے خاوند جگجیت سنگھ کی مستقل مزاجی، باہمی افہام و تفحیم کی جھیل سی گہرائی سے بے حد مطمئن تھیں ۔ جگجیت چترا کے لئے ایک شخص نہیں ایک ادارہ تھا۔جگجیت کا ا نتخاب کلام اور پھر بہترین طرز، متاثر کن دھن لئے ،تال و سُر کے ساتھ اپنی بہترین موسیقی کے ساتھ جب وہ غزل ناظرین کے حوالے ہوجاتی تو ساری محفل جھوم اٹھتی۔جگجیت کی ابتدائی غزلیں رومانی تھیں۔

لیکن اگلے کچھ سالوں ان میں روحانیت شامل رہی ۔وہ ایک منفرد موسیقار تھے ۔چترا اور جگجیت دونوں نے نئی طور سے غزل گلوکاری میں اپنے ابتدائی سفر کے آغاز میں ان دونوں کے لئے غیر فلمی موسیقی کے لئے کوئی بنیادی پائیدار مارکیٹ موجود نہیں تھی۔اس لئے د ونوں نے فلمی دنیا کے چکر لگائے کچھ جگہ انکی کوششوں کو کامیابی ملی لیکن اسے انہوں نے اپنا مقدر نہیں مانا۔ دونوں نے غزل گائیکی پر توجہ مرکوز کرنے اور بازار کی وسعت دینے کا فیصلہ کرلیا۔

۱۹۷۶ء ’’ نا فراموش ‘‘ اس البم نے غزل اور غیر موسیقی کا چہرہ بدل دیا اس کے معیار اور دلکشی نے نئے سامعین کو جیت لیا جو بگڑتی ہوئی فلمی موسیقی سے تنگ آچُکے تھے اس سے دور ہونا چاہتے تھے۔ ذیل میں معروف شعرا ’ کفیل آزر امروہی ، امیرؔ مینائی اور فراقؔ گورکھپوری کی غزلیں

۳ع؎  بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی ،

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے ،

یہ بھی پوچھیں گے کہ تم اتنی پریشاں کیوں ہو،

جگمگاتے ہوئے لمحوں سے گریزاں کیوں ہو
انگلیاں اُٹھیںگی ،سوکھے ہوئے بالوں کی طرف،

اک نظر دیکھیں گے، گزرے ہوئے سالوں کے طرف

۴ع؎  سرکتی جائے ہے رُخ سے نقاب آہستہ آہستہ ،

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ ۔

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے پردہ کرلیا،

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیر، ؔ اور میں کہوں ان سے،

حضور آہستہ آہستہ ، جناب آہستہ آہستہ

۵ع؎  بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں ،

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

مری نظریں بھی ایسے قاتلوں کا جان و ایماں ہیں ۔

نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایما ن لیتے ہیں

نگاہ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا ،

تری ہر بات لیکن احتیاطاََ چھان لیتے ہیں

 ان غزلوں نے پوری قوم کی توجہ دلائی اور اسے ایک مختلف مدار میں ڈال دیا ۔اب اس البم کے بعد انہوں نے پنجابی البم ’ ’ برہا د سلطان‘‘ Birha da Sultan‘ کے بعد’’ سنگ ِمیل‘‘ نے فروخت اور مقبولیت کے سارے ریکارڈ قائم کر دئے اور ’’ انڈیا ٹو ڈے‘‘ نے جگجیت اور چترا سنگھ کو اپنی ۵۰( پچاس )’’اہم شخصیات‘‘ کی فہرست میں شامل کر لیا اور یہاں سے جگجیت اور چترا کی زندگی کو بدل دیا۔یہ آپ کے سامعین ہیں جو ان پر منظوری یا دوسری صورت میں مہر لگا سکتے ہیں۔

فلمیں بھی اسی زمانے میں ہوئیں جب ’’پریم گیت‘‘، ’’ارتھ‘‘ اور ’’ ساتھ ساتھ‘‘ جیسی فلموں میں کو موسیقی سے سنوارا جنہیں بڑی پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ ’’ غیر میوزیکل مداخلت ‘‘ نے جگجیت اور چترا کو اپنی موسیقی کی شکل پر قائم کیا جہاں انہوں نے ایک نیا راستہ اختیار کیا ا ور بہت سے دوسرے فنکاروں کی پیروی کرنے کے لئے اور ناظرین کو موسیقی کی ایک نئی سوغات ’’مرزا غالب‘‘ اور ’’کہکشاں‘‘ جیسے مشہور ٹی وی سیریلس‘ کے لئے موسیقی ترتیب دی جو آج بھی ناظرین کے ذہنوں پر نقش ہے ۔دونوں نے ہمیشہ نئے فنکاروں کی ہمت افزائی کی۔ سدھا ملہوترا ‘ سکھویندر سنگھ ‘ گھنشیام واسوانی ‘ ونود سہگل‘ سیما شرما‘ اشوک کھوسلہ‘ دلراج کؤر‘ ایلا ارون ‘ ہری ہرن‘ کمار سانو ‘ طلعت عزیز ‘ ابھیجیت ‘ جیسے نئے فنکاروں کے ساتھ البم اور فلمی موسیقی بنائی ۔جگجیت اور چترا سنگھ نے امریکہ، کینڈا،برطانیہ، جنوبی افریقہ ،دوبئی، کوویت، یوروپ ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ کے ساتھ قریب۴۰ سے زائد ملکوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور سامعین کو مسحور کیا اور اپنی ایک پُختہ شناخت بنا لی ۔ جگجیت سنگھ بخوبی واقف تھے کہ غزل اُردو زبان کا شاہکار ہے،

ایک ایسی واحد صنفِ سخن ہے جو شاید ہی کسی اور زبان کو نصیب ہے ،جس نے آغاز ہی سے بلا لیحاظ ذات دھرم،قوم و ملت بین الاقوامی سطح پر بے انتہا مقبولیت حاصل کی جو صدیوں برقرار رہے گی ۔ غزل مغنی جگجیت سنگھ کی روح پرور آواز غزل شائقین کی دھڑکنوں میں بس گئی ہے۔ چترا اور جگجیت میاں بیوی نے بطور غزل مغنی شائقین کو دلوں کو فتح کر لیا اور دونوں اب بین الاقومی فاتح مغنی کے طور پر سارے جہاں کو اپنی موسیقی کی طاقت سے غزل شائقین کے دلوں پر اپنا قبضہ میں کر لیا۔

لیکن دونوں چترا اور جگجیت کی خوش حال زندگی کو پھر گہن لگ گیااور ایک درد ناک سانحہ نے دونوں کی زندگی تباہ کی، جب ۲۷ ء جولائی ۱۹۹۰ء کو ان کے لڑکے’’وویک‘‘ کا ایک کار حادثہ میں انتقال ہو گیا۔اس نا تلافی نقصان سے دونوں اس قدر ٹوٹ گئے کہ ان کے حواس باختہ تھے،دنگ و پریشان، مضطرب و بے چین اس قدر کی کسی پل چین و سکون نہیں تھا۔ چترا نے خود کو ایک خول میں خود کو ڈھانک لیا دنیا سے اپنے غزل شائقین سے پردہ کر لیا اور دونوں نے قریب ایک سال کے لئے موسیقی کی محفلوں کو ترک کردیا۔

جگجیت نے اپنے آپ کو غموں میں غرق کر دیا ،اپنے دکھوں کو موسیقی میں دفن کر دیا ،چترا جی نے روحانیت میں سکون پایا۔ زندگی اس المیہ میں زمانہ خاموش نہیں تھا ، ان کے مجروح زخموں پر نمک چھڑک کر ان کے درد و قرب سے لطف اندوز ہونا صدیوں پرانی روایت سی بن گئی ہے۔اس شدید تناؤ میں کسی طرح دونوں نے اپنی زندگیوں کو بہلا تے رہے ۔ لیکن ۲۹ مئی ۲۰۰۹ء چترا کی شادی شدہ دختر مونیکا نے خود کشی کر لی ،وویک کی موت کا غم ابھی بھلا نہ پائے تھے کہ مونیکا موت سے دونوں پوری طرح ٹوٹ گئی

اور اب بربادی کو ماتم منانے کی قوت بھی دونوں میں نہ رہی ،لیکن حالات سے پھر سمجھوتا کر لیا۔چترا اپنی بیٹی مونیکا کی خود کشی کے بارے میں ایک انٹریو میں کہا’’ میری بیٹی بہت خوبصورت اور مضبوط تھی،ہر ظلم و ستم اور تکلیف کو وہ خو اکیلی ہی سنبھال لیتی،لیکن بالآخر مونیکا نے بھی ہارمان لی،اب اس سے اور برداشت کرنا جیسے ناممکن سا تھا ،جینا مشکل تھا تو موت کا دامن تھام لیا۔لیکن خود کشی سے پہلے الصبح قریب ۳ بجے رابطہ کیا وہ مجھ سے بیحد ناراض تھی اور کہا ’’ میں بے حس ہوں ؟‘‘۔ شاید سچ ہو مجھے اسکی زیادہ حمایت اور مدد کرنی چاہئے تھی لیکن وہ مجھ سے ہو نہ پایا ۔

اب محسوس کرتی ہوں کہ شاید مونیکا کی خود کشی کی ذمہ دار می،قصور وار میں ہی ہوں ! ‘‘جگجیت بھی مونیکا کی موت سے ہل گئے تھے۔انہوں نے مونیکا کو جب وہ پانچ سال کی تھی تب دیکھا تھا، اور تب سے ہی وہ اسے اپنی بیٹی ہی مانتے تھے۔جب اس نے خود کشی کی اسکی خبر جگجیت کو اس وقت ملی جب وہ امریکہ کے دورے پر تھے۔جگجیت نے اپنے تمام طئے شدہ پروگرام منسوخ کردئے اور دو دن لگارتا ہوائی سفر کے بعد گھر پہنچ گئے۔

وہ ہر طرح تباہ حال تھے مگر انہوں نے کبھی اس کا اظہار نہیں کیا۔لیکن جگجیت کی خاموش موجودگی ،ا نکی خاموش حمایت چترا کے لئے کافی تھی۔ لیکن جینے کا ایک اور خوشگوار موقعہ عطاہ ہوا۔ مونیکا کے دو بچے ’’ عمیر ‘ اور ارمان ’’ دونوں چترا کی پناہ میں ،ایک نانی جان کی شفیق آغوش میں ، ان کی گھر کے چھت کے سائے میں آگئے اور چترا کو ایک نئی زندگی او ر جینے کا سہارا مل گیا۔اور اس دفعہ چترا نے عہد کرلیا کہ اب وہ ان بچوں کو شکایت کا کوئی موقعہ نہیں دیںگی۔وہ انکی ہر ضرورت کا احترام کرتی ر ہیںاور بچوں نے بھی اپنی نانی جان چترا کے نیک جذبات کو سمجھا اور اسکی پرواہ کرتے ہیں۔ ہمیشہ ایک گیت ماحول میں گونجتا رہتا ہے اور ماضی کی یادوں کو تازہ کرتا

۶ع؎  چٹھی نہ کوئی سندیس، جانے وہ کونسا دیس، جہاں تم چلے گئے ،

اس دل پہ لگا کے ٹھیس، جانے و ہ کون سا دیس ِ ، جہا ں تم چلے گئے

ایک آہ بھری ہوگی، ہم نے نہ سنی ہوگی ،

جاتے جاتے تم نے ، آواز تو دی ہوگی ۔ ہر وقت ہے یہ غم ، اس وقت کہاں تھے ہم ؟ کہاں تم چلے گئے

ہر چیز پہ اشکوں سے ، لکھا ہے تمہارا نام ،

یہ رستے گھر گلیاں ، تمہیں کر نہ سکے سلام ،

ہائے دل میں رہ گئی بات، جلدی سے چھڑا کر ہاتھ، کہاں تم چلے گئے

اب یادوں کے یہ کانٹے، دل میں چُبھتے ہیں،

نہ درد ٹھہرتا ہے ، نہ آنسو رُکتے ہیں، تمہیں ڈھونڈ رہا ہے پیار ،

ہم کیسے کریں اقرار ، کہاں تم چلے گئے

جگجیت سنگھ فروری ۲۰۱۱ء میں ۷۰ سال کے ہوئے۔اپنی ۷۰ ویں سالگرہ کے لئے انہوںنے دُنیا کے مختلف حصوں میں ، برطانیہ، سنگاپور، ماریشس میں ۷۰ موسیقی محفلیں و مجالس کا انعقاد کیااور مسلسل ان ممالگ کا سفر کرتے رہے ۔ ۲۰۱۱ء میں الم نشرح غزل مغنی غلام علی کے ساتھ بمبئی میں غزل کے ایک عظیم و شان تقریب کی تیاریوں میں بے حد مصروف رہے ۔

لیکن ۲۳ ستمبر ۲۰۱۱ء کو دماغی نکسیر ،دماغ کی نسیں پھٹ گئیں اور قریب دو ہفتے سے زیادہ طویل بے ہوشی کے عالم میں بمبئی کے لیلہ وتی اسپتال میں داخل رہے اور۱۰ ؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء انکا انتقال ہوا ۔اگلے ہی دن میرین لائنز کے قریب چندنواڑی قبرستان میں انکی آخری رسوماتب ادا کی گئیں۔

چترا سنگھ ابھی زندہ ہیں اور اپنی زندگی آخری ایّام اپنے نواسوں ’ ارمان ‘ اور’ عمیر ‘کے ساتھ بتا رہی ہیں۔

ڈاکٹر جی۔ایم پٹیل

٭٭٭

متعلقہ خبریں

Back to top button