خون کے کینسر کا آسان اور مؤثر علاج ✍️حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی
حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی صاحبزادہ ماہر نباض مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی رحیمی شفا خانہ بنگلور
’’کینسر کا کامیاب علاج‘‘ کتاب میں میرے والد محترم بڑے حکیم حضرت مولانا ڈاکٹر حکیم محمد ادریس حبان رحیمی ایم ڈی حفظہ اللہ تحریر فرماتے ہیں کہ امریکی ریاست پنسلوانیا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے ابرام سن کینسر سینٹر کے سائنسدان گزشتہ 20 برس سے لیو کیمیا کے علاج کے حوالے سے تحقیق کر رہے ہیں۔
وہ اس کینسر سے متاثرہ مریض کے جسم سے خون کے خاص خلیے لے کر انہیں کینسر کے خلاف بطور علاج استعمال کرنے پر کام کرتے رہے ہیں۔ ان خاص خلیوں کوٹی سیل کا نام دیا گیا، جنہیں پہلے مریض کے جسم سے نکالا جاتا ہے اور بعد میں کینسر کے خلیوں کو تباہ کرنے کے لیے جسم میں دوبارہ داخل کیا جاتا ہے۔
خلیوں کی تبدیلی کا یہ عمل کینسر کے خلیوں کے خاتمے کے لیے اتنا کامیاب رہا کہ سائنسدانوں نے ان ٹی سیلز کو عادی قاتل کا نام دیا ہے۔ اس سلسلے میں جن تین مریضوں پر یہ تجربہ کیا گیا وہ خون کے کینسر کی آخری سٹیج پر تھے اور ان کے بچنے کی امید بہت کم تھی۔ جینیاتی خلیوں پر کام کرنے والے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ تجرباتی طور پر مریضوں کے جسموں میں ٹی سیلزر داخل کیے گئے۔ یہ ٹی سیلز چھ ماہ تک مریضوں کے جسموں میں مؤثر رہے اور چن چن کر کینسر کے خلیوں کو ختم کرتے رہے۔
بروس لیوائن بھی اس تحقیق میں شامل رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی دوا ہے جو دیر تک مؤثر رہتی ہے اور خون میں شامل مہلک خلیوں کا خاتمہ کرتی ہے۔ امریکہ میں کینسر کی روک تھام پر کام کرنے والی ایک تنظیم امریکن کینسر سوسائٹی اس تحقیق کو مفید قرار دے رہی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مزید تجربات کیے جانے چاہیں۔ جن تین مریضوں پر اس کا تجربہ کیا گیا تھا ان میں سے دو کینسر سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔
جب کہ تیسرے مریض میں گو ابھی بھی کینسر کے کچھ آثار باقی ہیں، مگر وہ بھی صحتیاب ہو رہے ہیں۔ دوسری طرف اس طریقہ علاج کے مضر اثرات بھی ہیں جیسا کہ تیز بخار، امراض قلب اور سانس کا پھول جانا وغیرہ۔ سائنس دان یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جو مریض اس طریقہِ علاج سے صحتیاب ہوئے ہیں ان کا اس مرض میں دوبارہ مبتلا ہونے کا کتنا امکان ہے۔اس کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن میرے آنیوالے مریضوں میں کم از کم دس مریض ایسے ہیں جو بارہ تیرہ چودہ پندرہ سالوں بلکہ اس سے بھی زیادہ عرصہ سے وہ نسخہ استعمال کر رہے ہیں اور بحمداللہ وہ صحت مند ہیں، سال یا چھ ماہ میں جب بھی وہ چیک اپ کراتے ہیں تو ان کی رپورٹ اطمینان بخش آتی ہے۔
آپ بھی اس نسخہ کو کام میں لائیں اور فائدہ اٹھا کر فقیر کو دعائیں دیں۔کینسر کی بیماری کیلئے مجرب نسخہ: یہ نسخہ سرطان کی بیماری کے لئے خاص ہے اللہ تعالیٰ ہر انسان کو کینسر کی بیماری اور تمام بیماریوں سے محفوظ رکھے آمین!ایک شخص کو دماغ کا کینسر ہوا تھا اور وہ بغرض علاج امریکہ گیا اور وہاں مختلف دواؤں سے اس کا علاج کیا گیا مگر اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ڈاکٹروں نے موت کا فیصلہ سنا یا اور وہ واپس آکر موت کا انتظار کر رہا تھا اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو مسیحا بنا کر بھیجا اور اس نے اس خاص نسخے سے علاج کیا الحمد للہ اس سے فائدہ ہوا۔
نسخہ: (شہد خالص، کالونجی، لہسن، ایلوا، حلتیت) اس مریض نے تین مہینے مسلسل استعمال کیا پھر امریکہ دو بارہ گیا اور وہاں ڈاکٹر سے ٹسٹ کروایا تمام ڈاکٹر حیران رہ گئے کہ کینسر کا ورم تحلیل ہوچکا تھا اور مریض صحت مند ہوگیا تھا۔رحیمی شفاء خانہ سے یہی نسخہ بلڈ کینسر والوں کو بھی دیا گیا بحمد اللہ تعالیٰ ایسے مایوس مریضوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے، یہ نسخہ رحیمی شفاء خانہ میں کم و بیش سولہ سالوں سے استعمال کرایا جا رہا ہے اللہ کے فضل سے بے شمار مریض سکون و اطمنان کی زندگی گزار رہے ہیں۔
اس مؤثر نسخہ سے ایک اور بیمار جس کو حلق کا کینسر ہوگیا تھا نہ وہ کھا سکتا تھا نہ پی سکتا تھا شدید تکلیف میں مبتلا ہوگیا تھا وہ بھی اس نسخہ سے شفا پاگیا، الحمد للہ پھر سے کھانے اور پینے کے لائق ہوگیا لہٰذا اللہ تعالیٰ کے حکم سے سرطان کے مریضوں کو شفاء پہنچانے والا یہ نسخہ عام کیا جاتا ہے تاکہ ان بیماریوں میںمبتلا ہونے والے مریض ( اللہ شافی کی شفاء سے) صحت مند ہوجائیں۔
نسخہ بنانے کا طریقہ:
1۔ آدھاکلو شہد خالص ۔
2 کلونجی اعلی قسم کا اچھی طرح پسا ہوا، ایک ٹیبل اسپون برابر۔
3۔ دیسی لہسن پاؤ بھر کچلا ہوا، ہلدی اصلی سفوف ایک ٹیبل اسپون کے برابر یہ سب شہد میں ملالیں اور شیشے میں بھر کر رکھ لیں ہر دن صبح سویرے نہار منہ ایک ٹی اسپون معجون کھالیں،
اس کے بعد ایلوے کا ایک چھوٹا ٹکڑا (جو کافی کے دانے کے برابر ہو) اور حلتیت (ہینگ) کا ایک چھوٹا ٹکڑا جو مسور کی دال کے برابر ہو، نگل لیا جائے پھر ٹھنڈا دودھ ایک کپ پی لیں یہ نسخہ تین ماہ تک استعمال کیا جائے درمیان میں دوائی ختم ہوجائے تو پھر بنا کر مکمل تین ماہ تک استعمال کریں۔ ان شاء اللہ فائدہ ہوگا اور مرض کا ازالہ ہوگا۔
پودینے سے سرطان کا علاج:
غذائی ماہرین نے طویل ریسرچ کے بعد یہ تجزیاتی رپورٹ پیش کی ہے کہ پودینے سے سرطان کے خلاف جنگ جیتی جاسکتی ہے، پودینے میں بڑی تعداد میں انزائم موجود ہوتے ہیں جو سرطان سے متاثرہ خلیوں کی غیر قدرتی تقسیم میں رکاوٹ پیدا کرنے لگتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مفید انزائم ہر پودے میں ضرور شامل ہوتے ہیں مگر پودینے میں ان کی مقدار کچھ زیادہ ہوتی ہے جو جان لیوا مرض سرطان سے تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
رحیمی شفا خانہ، بنگلور
پتہ:رحیمی شفا خانہ، 248، چھٹا کراس، گنگونڈنا ہلی مین روڈ،
نزد چندرا لے آؤٹ، میسور روڈ، بنگلور – 39
فون نمبر: 9343712908



