بلڈ پریشر کیوں ہوتا ہے؟
بلڈ پریشر یا فشار خون اس دباؤ کو کہتے ہیں جو خون، شریانوں کی دیواروں پر ڈالتا ہے۔ اگر یہ دباؤ معمول سے زیادہ یا کم ہو جائے تو یہ دل، گردوں اور دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
عمر بڑھنے کے ساتھ خون کی نالیاں سخت ہو جاتی ہیں، جس سے ان میں گاڑھا پن اور رکاوٹ پیدا ہوتی ہے، نتیجتاً بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے۔
کچھ افراد میں یہ مسئلہ موروثی طور پر پایا جاتا ہے جبکہ دیگر میں غلط طرزِ زندگی، نمک کا زیادہ استعمال، ذہنی دباؤ، نیند کی کمی، موٹاپا یا ذیابیطس جیسے عوامل اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر کے نقصانات
ہائی بلڈ پریشر کو اکثر “خاموش قاتل” کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی علامات واضح نہیں ہوتیں، لیکن یہ آہستہ آہستہ جسم کے اہم اعضا کو نقصان پہنچاتا ہے۔
اس کے طویل اثرات میں شامل ہیں:
- دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک
- دماغی فالج (اسٹروک)
- گردوں کی ناکامی
- ویسکولر ڈیمنشیا
- آنکھوں کی بینائی میں کمی
- شریانوں کی بندش
ڈاکٹرز کے مطابق اگر بلڈ پریشر مسلسل 140/90 یا اس سے اوپر رہے تو یہ ہائی بلڈ پریشر کہلاتا ہے اور فوری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
💧 لو بلڈ پریشر کی وجوہات
لو بلڈ پریشر کو عموماً خطرناک نہیں سمجھا جاتا، لیکن اگر یہ مستقل طور پر کم رہے تو یہ چکر آنا، کمزوری، اور بیہوشی جیسے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔یہ عام طور پر ڈی ہائیڈریشن، خون کی کمی، یا ہارمونل مسائل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ ایسے میں طبی مشورہ لینا ضروری ہے۔
بلڈ پریشر کنٹرول کرنے کے مؤثر طریقے
- نمک کا استعمال کم کریں — زیادہ نمک خون کا دباؤ بڑھاتا ہے۔
- ورزش کو معمول بنائیں — روزانہ 30 منٹ چہل قدمی مفید ہے۔
- وزن کو متوازن رکھیں — موٹاپا بی پی بڑھانے کی اہم وجہ ہے۔
- تناؤ کم کریں — ذہنی دباؤ بلڈ پریشر کو تیزی سے بڑھاتا ہے۔
- تمباکو نوشی اور الکحل سے پرہیز کریں۔
- پانی زیادہ پئیں — جسم میں پانی کی مناسب مقدار بلڈ پریشر کو متوازن رکھتی ہے۔
- نیند پوری لیں — نیند کی کمی دل پر دباؤ ڈالتی ہے۔
- ڈاکٹر سے باقاعدہ چیک اپ کرائیں — بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے کا سب سے محفوظ طریقہ۔
🩺 ڈاکٹر کا مشورہ ضروری کیوں؟
اکثر لوگ علامات نہ ہونے کی وجہ سے اپنا بلڈ پریشر وقت پر چیک نہیں کراتے۔ڈاکٹر نہ صرف صحیح علاج تجویز کرتے ہیں بلکہ غذا، طرزِ زندگی اور ادویات کے ذریعے بلڈ پریشر کنٹرول پلان بھی فراہم کرتے ہیں، جو لمبی مدت میں دل اور دماغ کی صحت کو محفوظ رکھتا ہے۔



