امریکہ کی ایک نئی تحقیق میں متنبہ کیا گیا ہے کہ رات کو پانچ گھنٹے یا اس سے کم سونے سے ڈیمینشیا ہونے کا خطرہ دوگنا ہوجاتا ہے اور 9 گھنٹے سے زیادہ سونا بھی خطرناک ہے۔تفصیلات کے مطابق بوسٹن یونیورسٹی میں محققین نے 65 سال سے زیادہ عمر کے دو ہزار 812 امریکی بالغ افراد کے اعداد و شمار کا مطالعہ کیا، جس سے پتا چلا کہ ’بہت ہی مختصر‘ نیند کی مدت جو پانچ گھنٹے یا اس سے کم بیان کی گئی ڈیمینشیا کے خطرے کو دگنا کر دیتی ہے۔اس کے علاوہ یو ایس نیشنل ہیلتھ سروس نے تصدیق کی کہ زیادہ تر بالغ افراد کو ہر رات چھ سے نو گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
امریکن نیند فاؤنڈیشن 65 یا اس سے زیادہ عمر کے لوگوں کو رات میں سات سے آٹھ گھنٹے نیند لینے کا مشورہ دیتی ہے۔ اس تحقیق کے مرکزی محقق ڈاکٹر ریبکا روبنز کے مطابق ’ہماری تحقیقات خراب نیند اور ڈیمینشیا کے پیدا ہونے کے خطرے کے مابین تعلقات کو واضح کرتی ہیں اور اس کی تصدیق کرتی ہے۔‘وہ کہتی ہیں کہ عمررسیدہ افراد کو مناسب آرام حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے انہیں رات میں مکمل آرام کرنا چاہیے۔
الزائمر:محققین نے وضاحت کی ہے کہ ’نیند میں خلل اور نیند کی غیرمعمولی مدت اگرچہ اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے، الزائمر کی بیماری کی نشوونما کا سبب بن سکتی ہے۔‘حالیہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد جو اچھی نیند لیتے ہیں اور جاگنے کے بعد تازگی محسوس کرتے ہیں، وہ بہتر طور پر دماغی و علمی کام کرسکتے ہیں۔
موت کا خطرہ:پانچ سال کے عرصے میں جمع کردہ اعداد و شمار کے تجزیاتی مطالعے کے نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عام طور پر نیند میں خلل اور اس کی کمی اور ڈیمینشیا کے مابین ایک مضبوط رشتہ ہے۔اس کے علاوہ وقت کے ساتھ موت کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر چارلس چسلر نے کہا یہ اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیند دماغ کی صحت کے لئے اہم ہے۔ الزائمر کے مرض اور موت کے خطرے سے متعلق نیند کو بہتر بنانے اور نیند کے عارضوں کا علاج کرنے کی افادیت کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
نو گھنٹے سے زیادہ سونے کا خطرہ:دوسری طرف 2019 کے مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ رات میں نو یا اس سے زیادہ گھنٹے سوتے تھے ان کی میموری اور زبان کی مہارت میں نمایاں کمی آجاتی ہے اور ڈیمینشیا کی نشوونما کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
صبح جلدی جاگنے سے ڈپریشن کا خطرہ کم ہوجاتا ہے
امریکی سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ جو لوگ رات کو جلدی سوتے ہیں اور صبح جلدی جاگ جاتے ہیں، انہیں دیر سے سونے اور جاگنے والوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔یہ انکشاف تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ برطانوی افراد میں سونے جاگنے کے معمولات اور ڈپریشن کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔ان تمام افراد کے بارے میں سونے جاگنے سے متعلق اعداد و شمار دو ذرائع سے حاصل کیے گئے تھے۔
برطانوی بایوٹیکنالوجی کمپنی 23 اینڈمی اور ’’یوکے بایوبینک‘‘ جو برطانیہ کا بایومیڈیکل ڈیٹابیس ہے۔مطالعے میں دیکھا گیا کہ اگرچہ ان تمام افراد نے پوری نیند (7 سے 8 گھنٹے) لی تھی لیکن رات کو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھنے کے عادی لوگوں میں دیر سے سونے اور دیر سے جاگنے والوں کے مقابلے میں ڈپریشن کا خطرہ 23 فیصد کم تھا۔یہی نہیں بلکہ جن لوگوں نے اپنے سونے جاگنے کے معمولات میں تبدیلی کی اور جلدی سونے جاگنے کی عادت اپنائی، ان میں صرف ایک گھنٹے کے فرق سے بھی ڈپریشن کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوگیا۔آن لائن ریسرچ جرنل ’’جاما سائکیاٹری‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں اگرچہ دیر سے جاگنے کو ڈپریشن کی وجہ قرار نہیں دیا گیا، تاہم اتنا ضرور معلوم ہوا ہے کہ پوری نیند کے ساتھ ساتھ صبح جلدی اٹھنے کی عادت ہمارے سابقہ اندازوں سے زیادہ مفید ہے۔



