
یکے بعد دیگرے تمام اسلامی آثار فسطائیوں کے نشانے پر
متھرا ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)متھرا میں درخواست گزار منیش یادو کی درخواست متھرا کورٹ میں دائر کی گئی ہے جس میں کمشنر کے ذریعہ شری کرشن جنم بھومی مندر سے متصل عیدگاہ مسجد کا سروے کرانے کی مانگ کی گئی ہے۔ مدعی منیش یادو، مہندر پرتاپ سنگھ اور دنیش شرما نے الگ الگ اسی طرح کی ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں عدالتی کمشنر کی تقرری کے ذریعہ عیدگاہ مسجد کی ویڈیو گرافی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس معاملہ میں سماعت کے لیے تمام فریقین کو یکم جولائی کی تاریخ دی ہے۔
اب یکم جولائی کو عدالت فیصلہ کرے گی کہ درخواست کو قبول کیا جائے گا یا مسترد کیا جائے گا۔مہندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اس نے سب سے پہلے شری کرشنا جنم استھان اور عیدگاہ مسجد کیس میں 24 فروری 2021 کو ایک درخواست دی تھی، جس میں ویڈیو گرافی اور کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ایک بار پھر 9 مئی 2022 کو درخواست دی گئی۔خیال رہے کہ کہ متھرا کی شری کرشن جنم بھومی اور شاہی عیدگاہ مسجد تنازعہ کے معاملات کو جلد نمٹانے کی عرضی پر جمعرات کو الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔
ہائی کورٹ نے متھرا کی عدالت کو زیادہ سے زیادہ چار ماہ کے اندر تمام درخواستوں کو نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ اگر سنی وقف بورڈ اور دیگر فریق سماعت میں حاضر نہیں ہوتے ہیں تو ایک فریقی حکم جاری کیا جائے۔یہ عرضی نارائنی سینا کے قومی صدر منیش یادو کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔ اس میں عرضی گزار نے متھرا میں جاری کیس کی سماعت روزانہ اور جلد از جلد نمٹانے کی اپیل کی تھی۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا کہ اس کیس سے متعلق تمام مقدمات متھرا کی عدالت میں زیر التوا ہیں، انہیں جلد از جلد نمٹا دیا جائے۔ سماعت کے دوران اگر مخالف فریق پیش نہ ہوا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور یکطرفہ حکم دیا جائے۔



