ممبئی ،13مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ممبئی کی ایک خصوصی عدالت نے جمعہ کو مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کو ایک پرائیویٹ ہسپتال میں کندھے کی سرجری کرانے کی اجازت دینے سے انکار کر تے ہوئے کہا کہ وہ شہر کے سرکاری زیر انتظام جے جے ہسپتال میں علاج کروا سکتے ہیں۔دیش مکھ نے عارضی طور پر اپنی پسند کے پرائیویٹ اسپتال میںجانے کی اجازت مانگی تھی تاکہ وہ ڈس لوکیشن سرجری اور علاج کے لیے ہوں۔ این سی پی لیڈر نے کہا تھا کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔
تاہم ای ڈی نے اس درخواست کی مخالفت کی اور کہا کہ جے جے اسپتال میں سرجری کرنے کے لیے با صلاحیت ڈاکٹر موجود ہیں۔ عدالت نے دیشمکھ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ جے جے ہسپتال میں سرجری اور علاج کروا سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ دیش مکھ منی لانڈرنگ کیس میں گزشتہ سال نومبر میں ای ڈی کے ذریعہ گرفتاری کے بعد سے عدالتی حراست میں ہیں۔دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کا معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سی بی آئی نے بدعنوانی کے ایک معاملہ میں ان کے خلاف مقدمہ درج کیا۔
ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ نے دیشمکھ پر جبراً بھتہ وصولی کا الزام لگایا تھا۔ اس کے بعدای ڈی نے دعویٰ کیا تھا کہ دیشمکھ نے اپنے سرکاری عہدے کا غلط استعمال کیا اور ممبئی کے مختلف شراب خانوں سے 4.70 کروڑ روپے جمع کروائے ہیں ۔ یہ رقم ناگپور میں واقع شری سائی شکچھا سنستھان کو دی گئی تھی، جو دیشمکھ خاندان کے ماتحت ایک تعلیمی ٹرسٹ ہے۔



