تلنگانہ کی خبریں

تلنگانہ میں بی جے پی کو اقتدار ملنے پر مسلم تحفظات منسوخ کردئے جائیں گے : امیت شاہ

سقوط حیدرآباد کی تقاریب سرکاری طور پر منائی جائیں گی، کے سی آر دوسرے نظام۔ کار کی اسٹیرنگ اویسی کے ہاتھ میں ۔ تکو گوڑہ میں جلسہ سے خطاب

تلنگانہ/حیدرآباد ۔ 14 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مرکزی وزیرداخلہ امیت شاہ نے تلنگانہ میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہونے پر مسلم تحفظات منسوخ کرنے اور سقوط حیدرآباد کی سرکاری تقاریب منانے کا اعلان کیا۔ تلنگانہ حکومت کی اسٹیرنگ اویسی کے ہاتھ میں ہونے کا دعویٰ کیا۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کی دوسرے مرحلہ کی پرجاسنگرام یاترا کے اختتام پر تکوگوڑہ میں منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ تحریک کے دوران ٹی آر ایس نے پانی، فنڈز اور ملازمتوں کو موضوع بنایا۔ اقتدار کے 8 سال میں ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی۔ اگر تلنگانہ کے عوام بی جے پی کو حکومت کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں ‘

تلنگانہ میں ڈبل انجن کی سرکار بنتی ہے تو بی جے پی تلنگانہ کے عوام کو پانی، فنڈز اور روزگار فراہم کرے گی۔ امیت شاہ نے کہا کہ مجلس سے ڈر کر کے سی آر سرکاری طور پر یوم سقوط تقریب نہیں منارہے ہیں۔ اگر بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوگا تو سقوط حیدرآباد کی سرکاری تقاریب منائیں گے۔ تلنگانہ کے نوجوان ٹی آر ایس و مجلس کو اکھاڑ پھینکنے کیلئے کمربستہ ہوجائے۔ ایس یس، ایس ٹی اور بی سی طبقات کے تحفظات مسلمانوں کو دیئے گئے ہیں مگر بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو مسلم تحفظات کو منسوخ کرکے ایس سی، ایس ٹی اور بی سی تحفظات کو بڑھانے کا وعدہ کیا۔ مرکزی وزیرداخلہ نے کہا کہ 8 سال کے دوران مودی سرکار نے تلنگانہ کی ترقی کیلئے 2 لاکھ 52 ہزار 202 کروڑ روپئے دیئے ہیں۔

تمام حساب کتاب موجود ہے جس کی فہرست وہ تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے کو دے کر جارہے ہیں۔ وہ پریس کانفرنس کے ذریعہ اس کی تفصیلات پیش کریں گے۔ تلنگانہ میں بی جے پی کافی مضبوط و مستحکم ہوگئی ہے۔ جب بھی انتخابات ہوں گے بی جے پی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرے گی۔ وہ چیف منسٹر کے سی آر کو چیلنج کرتے ہیں وہ کل انتخابات کا اعلان کریں بی جے پی اس کا سامنا کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہے۔

انہوں نے تلنگانہ میں بی جے پی کارکنوں کے قتل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر تلنگانہ کو مغربی بنگال بنانا چاہتے ہیں۔ کشمیر سے آرٹیکل 370 ہٹانے پر کے سی آر نے اعتراض کیا جس سے کشمیر کے علاوہ ملک کے تمام عوام خوش ہیں۔ امیت شاہ نے کہا کہ بوائلڈ رائیس خریدنے کی ذمہ داری ریاستی حکومت کی ہے۔ اگر کے سی آر اس کیلئے تیار نہیں ہیں تو وہ مستعفی ہوجائیں۔ بی جے پی ہر ایک کیلو بوائلڈ رائیس خریدیگی۔

کے سی آر نے اپنی غلط پالیسیوں سے تلنگانہ کو قرض میں ڈبودیا ہے وہ اپنی پوری زندگی میں اس طرح کی نکمی اور بدعنوان حکومت نہیں دیکھی۔ ٹی آر ایس حکومت نے اپنے انتخابی وعدوں میں ایک وعدے کو بھی پورا نہیں کیا۔ بیروزگاری بھتہ کسی کو نہیں ملا۔ کسانوں کا قرض معاف نہیں ہوا۔ ڈبل بیڈروم مکانات نہیں ملے۔ دلتوں کیلئے 50 ہزار کروڑ کا بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔

دلتوں کو تین ایکڑ اراضی نہیں ملی۔ چار سوپر اسپشالیٹی ہاسپٹلس تعمیر کرنے کا وعدہ کیا مگر عثمانیہ و گاندھی کی حالت خستہ کردی گئی۔ مرکز کی کئی پرکشش اسکیمات کو تلنگانہ نے نہیں اپنایا۔ مرکز کی بیشتر اسکیمات سے حاصل ہونے والے فنڈز کا ریاست میں نام تبدیل کرتے ہوئے بیٹا اور بیٹی کی تصویر لگا کر استعمال کیا جارہا ہے۔

سرپنچوں کو اختیارات نہیں ملے مگر کے سی آر کے فرزند اور دختر کو تمام اختیارات مل گئے۔ 2019ء کے لوک سبھا چناؤ میں عوام نے بی جے پی کو چار حلقوں پر کامیاب بنایا۔ جی ایچ ایم سی اور دو ضمنی انتخابات میں بی جے پی نے بہتر مظاہرہ کیا۔ آئندہ تلنگانہ میں بی جے پی کی حکومت قائم ہوگی۔

متعلقہ خبریں

Back to top button