✍️ ڈاکٹر حکیم محمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور
(کھوپرا) ناریل جس کو مختلف کھانوں اور حلوئوں میں ڈالا جاتا ہے۔ لوگ پان میں ڈال کر بھی کھاتے ہیں۔ خشک میوں میں اس کا شمار ہوتا ہے ۔ سارے خشک میوں میں سب سے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے درخت کھجور یا تاڑ سے ملتے جلتے ہوتے ہیں۔ سمندر کے ساحلی علاقوں میں یہ درخت زیادہ پایا جاتا ہے اور خصوصیت کے ساتھ کیرلا کرناٹک میں بہت ہوتا ہے۔ بنگال میں بھی کثرت سے ہوتاہے۔
خربوزے کے برابر پھل لگتے ہیں جن کے اندر سے سفید اور میٹھی گری نکلتی ہے۔ یہ گری مغز ناریل یا صرف کھوپرا کہلاتی ہے۔ تازہ اور کچے کھوپرے میں کسی قدر میٹھا اور سفید پانی کافی مقدار میں بھرا رہتا ہے۔ جس کو کھوپرے کا دودھ بھی کہتے ہیں ۔ خشک کھوپرے سے تیل نکالا جاتا ہے۔
جو کھانے میں گھی کے بجائے استعمال کیا جاتا ہے اور کیرلا میں تقریباً کھانوں میں صرف یہی تیل استعمال ہوتا ہے۔ اور دوسرے کاموں میں بھی آتا ہے۔کھوپرے میں غذائی اجزا کافی مقدار میں ہوتے ہیں۔ کھوپرا عورتوں اور مردوں دونوں کے لئے یکسا ںمفید ہے۔ اسی لئے اس کو مٹھائیوں میں ڈال کر کھاتے ہیں۔ یہ اعلی درجے کی غذا بھی ہے اور دوا بھی۔ یہ معجونوں اور پاک (حلوے) میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔
ناریل کے فوائد
کھوپرا پیٹ کے بچے پر اچھا اثر ڈالتا ہے اسی لئے حمل کے دنوں میں کھوپرا اور مصری کھانے سے حاملہ کی عام جسمانی کمزوری دور ہوتی ہے اور بچہ خوبصورت اور تندرست پیدا ہوتا ہے۔ کھوپرا کھانے سے چیچک نہیں نکلتی۔ اگر چیچک کے زمانے میں بچے کی ماں روزانہ تیس گرام کھوپرا کھائے او رجب بچہ دودھ پینا چھوڑدے تو اس کو روزانہ ایک ٹکڑا سوکھا ناریل کھلائے تو بچہ چیچک سے محفوظ رہے گا۔ جلد طاقتور اور موٹا بھی ہوگا۔ بڑی عمر کے دبلے پتلے لوگ بھی اگر کھوپرا زیادہ کھائیں تو ان کو بھی طاقتور اور موٹا کرتا ہے۔
1: ناریل دماغ اور آنکھوں کے لئے بڑی مفید چیز ہے ۔ بینائی کو تیز کرتا ہے اور گردوں کو طاقت دیتا ہے۔ اس فائدے کے لئے اسے مصری کے ساتھ کھایا جاتا ہے۔
2: ناریل پیٹ کے پیڑوں کو مارتا ہے ۔ اگر کھوپرے کو باریک چند بار کے کھلانے سے کیڑے مرکر نکل جائیں گے۔
3: ناریل کا تیل گھی کی جگہ کھانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بدن میں قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ نیم گرم مالش کرنے سے دردوں کو آرام ملتا ہے اور سر میں لگانے سے بالوں کو بڑھاتا اور ان کو نرم اور چمکیلا بناتا ہے۔
4: ناریل کا تازہ تیل کالی کھانسی کیلئے اچھی دوا ہے۔ اگر بچے کی عمر ایک سال ہو تو ناریل کا خالص تیل 2 گرام گرم پانی میں دن میں تین بار پلائیں۔ اور دس بارہ روز تک بلاناغہ پلاتے رہیں تو کالی کھانسی کودور کردیتا ہے۔ ناریل کا تیل پلانے سے پیٹ کے کیڑے بھی مرجاتے ہیں۔
5: پرانے کھوپرے کو باریک کوٹیں اور اس میں چوتھائی حصہ ہلدی ملاکر پوٹلی باند ھ لیں۔ اور اسی کو گرم کرکے چھوٹ کی جگہ سینکیں ۔ اوپر سے اسی کو ہلکا گرم کرکے باندھ دیں۔ تو چوٹ کا درد اور سوجن دور ہوجائے گی۔
6: ناریل کے اوپر جو ریشہ دار چھلکا ہے اس کو جلا کر راکھ بنالیں۔ اور اس کے برابر وزن میں کھانڈ (کچی شکر) ملاکر 10 گرام تین دن تک پانی کے ساتھ پھانکیں تو بواسیر کا خون بند ہوجائے گا۔ اگر کسی اور جگہ سے خون آتا ہو تو اس کے کھلانے سے وہ بھی رک جاتا ہے۔ مگر یہ نسخہ شگر کے مریض استعمال نہ کریں!
7: ناریل کے چھلکے کا اگر پتال جنتر سے تیل نکال لیا جائے تو وہ داد، خارش اور گنج کے لئے انتہائی مفید ہوتا ہے۔ یہ تیل دوا خانوں سے بھی دستیاب ہوسکتا ہے۔
8: تازہ اور کچے کھوپرے سے جو دودھ نکلتا ہے وہ جسم کو غذائیت پہنچاتا ہے اور پیاس کو بجھاتا ہے۔ بخار کی حالت میں بھی دے سکتے ہیں۔ بخار کی تیزی سے جو گھبراہٹ ہوتی ہے وہ اس کے پلانے سے فوراً دور ہوجاتی ہے۔ اس دودھ کو بھی پلانے سے پیٹ کے کیڑے مرجاتے ہیں۔
9:ناریل کا درخت بہت کار آمد ہے۔ ناریل کی داڑھی، یعنی اس کے اوپر کے ریشے رسی بنانے کے کام آتے ہیں جو بہت مضبوط ہوتی ہے۔ اس کے پتے بھی کام آتے ہیں۔ ان کے پنکھے اور جھاڑوںوغیرہ بنائی جاتی ہے۔ اس کی لکڑی شہتیر بنا کرکے کام میں لائی جاتی ہے۔
10 : ہیضہ اور دستوں میں کچے ناریل جس کو جنوب ہند میں یلیر کہتے ہیں بے حد مفید ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے ہیضہ کے مریض کو پلانے سے دست اور قے بند ہوجاتے ہیں۔
11: خونی پیچش میں بے حد مفید ہے، ناریل کا پانی ہر دو گھنٹے پر پینے سے پہلے روز سے ہی انشاء اللہ افاقہ ہوگا۔
12:حاملہ خواتین جو غذا نہیں کھاپاتی صبح وشام پئیں گی جسم میں توانائی کے ساتھ ساتھ انشاء اللہ ہونے والی اولاد صحت مند اور رنگ صاف ہوگا۔
13 : جو لوگ مستقل پیٹ کی خرابی پیٹ درد میں مبتلا رہتے ہیں چند ہفتے صبح نہار منھ ایک کچے ناریل کا پانی کے استعمال سے پیٹ کے امراض سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔
نقصانات
جو احباب دائمی نزلہ کے مریض یا ڈسٹ الرجی کے شکار ہوں وہ ناریل کے پانی یا ناریل کا استعمال نہ کریں۔ اس کے استعمال سے چھینکیں اور سینے میں گھٹن محسوس ہونے لگے گی۔ ناریل کا پانی فائبروس کے مریضوں کے لیے موزوں نہیں یہ ایک جینیاتی بیماری ہے جو پھیپھڑوں اور نظام انہضام کو متاثر کرتی ہے اور جسم میں نمک کی سطح کو کم کرتی ہے کیونکہ اس میں پوٹاشیم کی زیادہ مقدار ہوتی ہے۔
| Raheemi Shifa Khana(Ayurvedic & Unanic Clinic)#248, 6th Cross, Gangondanahalli Main Road,Near Chandra Layout, Bangalore-560039 Phone : 080-23180000/23397836 mobile no 9343712908 |



