صحت اور سائنس کی دنیا

زیادہ پانی پینے کی عادت دل کو مضبوط اور صحت مند بناتی ہے، امریکی تحقیق

زیادہ پانی پینے والے افراد کا دل زیادہ صحت مند

امریکہ میں 25 سال تک جاری رہنے والی ایک طویل تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ جن لوگوں کو زیادہ پانی پینے کی عادت ہوتی ہے، ان کا دل نہ صرف زیادہ محفوظ رہتا ہے بلکہ عمر بڑھنے کے باوجود صحت مند بھی رہتا ہے۔

یہ تحقیق نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے ماہرین نے کی، جس کے نتائج یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کی حالیہ کانگریس میں پیش کیے گئے۔

تحقیق کی سربراہ، ڈاکٹر نتالیا دمیتریوا کے مطابق خواتین کو روزانہ 1.6 سے 3.1 لیٹر جبکہ مردوں کو 2 سے 3 لیٹر پانی پینا چاہیے، لیکن عالمی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ بیشتر لوگ اس مقدار سے کہیں کم پانی پیتے ہیں۔


🫀 پانی اور دل کا تعلق — سیرم سوڈیم کا کردار

ڈاکٹر نتالیا نے وضاحت کی کہ جسم میں پانی کی کمی یا زیادتی کا اندازہ خون میں موجود نمک (سیرم سوڈیم) کی مقدار سے لگایا جاتا ہے۔

  • اگر سیرم سوڈیم کی مقدار زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے کہ جسم میں پانی کم ہے۔

  • جبکہ کم مقدار کا مطلب ہے کہ جسم کو زیادہ پانی مل رہا ہے۔

سیرم سوڈیم کی نارمل سطح 135 سے 145 ملی مول فی لیٹر (mmol/l) سمجھی جاتی ہے۔ اگر یہ حد اس سے زیادہ ہوجائے تو یہ دل کے لیے خطرناک علامت ہے۔


🔬 تحقیق کی تفصیلات

یہ مطالعہ 1990 کی دہائی میں شروع ہوا اور 15,792 امریکیوں پر کیا گیا، جن کی عمر مطالعے کے آغاز پر 44 سے 66 سال کے درمیان تھی۔
شرکاء کے خون میں سیرم سوڈیم کی مقدار پچیس سال کے دوران پانچ مختلف اوقات میں ناپی گئی اور ان کی دل کی صحت کا بار بار جائزہ لیا گیا۔

نتائج سے پتا چلا کہ جن لوگوں میں سیرم سوڈیم کی سطح زیادہ تھی، ان میں دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی، شریانوں کی سختی اور دل کی کمزوری کے امکانات نمایاں طور پر بڑھ گئے۔


⚠️ دل کی خرابی کا خطرہ 11 فیصد تک بڑھ سکتا ہے

ماہرین کے مطابق، سیرم سوڈیم میں صرف ایک ملی مول فی لیٹر اضافہ بھی دل کی دھڑکن کے اچانک بند ہونے کے خطرے کو 11 فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

ڈاکٹر نتالیا کا کہنا ہے کہ اگر درمیانی عمر میں کسی شخص کا سیرم سوڈیم 142 ملی مول فی لیٹر یا اس سے زیادہ ہو جائے، تو یہ دل کی بیماریوں کے لیے انتہائی خطرناک اشارہ ہے۔


💦 زیادہ پانی پینے کی عادت اپنائیں، لیکن مستقل بنیاد پر

یورپین سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے مطابق، زیادہ پانی پینے کی عادت صرف چند دن نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے اپنانی چاہیے۔ایک دو دن زیادہ پانی پینے سے دل پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا، البتہ مستقل عادت بنانے سے دل کی کارکردگی بہتر رہتی ہے، دورانِ خون بہتر ہوتا ہے اور امراضِ قلب کے خطرات کم ہوتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button