قومی خبریں

کرشنا جنم بھومی کیس (متھرا شاہی عید گاہ مسجد): عدالت نے سماعت کیلئے عرضی منظورکرلی

متھرا، 19 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایک اور تنازع اب عدالت کی جانب چل پڑا ۔ متھرا میں ایک شاہی عید گاہ مسجد کو ہٹانے کا مطالبہ کرنے والی ایک عرضی کو اتر پردیش کی ایک عدالت نے منظوری دے دی ہے۔ جس میں مبینہ طو رپر کرشن جنم بھومی یا بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر تعمیر کرنے کا دعوی کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ ہندو تنظیموں کی طرف سے 17ویں صدی کی شاہی عیدگاہ مسجد کو کٹرا کیشو دیو مندر سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

جن کا دعویٰ ہے کہ یہ مسجد مبینہ طو رپر بھگوان کرشن کی جائے پیدائش پر بنائی گئی ہے۔درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ شاہی عیدگاہ مسجد، کرشن جنم بھومی کے قریب مغل بادشاہ اورنگ زیبؒ کے حکم پر 1669-70 میں تعمیر کی گئی تھی۔لکھنؤ کی رہنے والی رنجنا اگنی ہوتری نے کٹرا کیشو دیو مندر کے’بچے بھگوان کرشن کے دوست‘ کے طور پر مقدمہ دائر کیا تھا۔متھرا کی ضلع عدالت میں کرشنا جنم بھومی عیدگاہ مسجد تنازعہ کی سماعت 6 مئی کو مکمل ہوئی۔

تمام فریقین کو سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔درخواست میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ شری کرشن کی جائے پیدائش کی 13.37 ایکڑ زمین واپس دی جائے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً چار سو سال قبل مغل حکمراں اورنگ زیب عالمگیر کے حکم سے اس کے بڑے حصے پر مندر کو مسمار کرنے کے بعد کیشو دیو ٹیلا اور شاہی عیدگاہ مسجد زمین پر ناجائز قبضہ کرکے تعمیر کی گئی تھی۔

اس عرضی میں بھی پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ دھرم استھل اایکٹ (عبادت کے مقامات ایکٹ) 1991 کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ مذہبی مقامات کا نظم و نسق اور امن و امان ریاست کی فہرست میں شامل ہیں۔ ریاستی حکومتوں کو اس سلسلے میں قانون اور قواعد بنانے کا اختیار ہے۔ ایسے میں پارلیمنٹ نے یہ قانون بنا کر ریاستوں کے دائرہ اختیار میں مداخلت کی ہے۔ مرکز کا یہ قدم آئین کے وفاقی ڈھانچے کے نظام کو نقصان پہنچانے والا ہے ،لہٰذا عدالت اسے غیر قانونی قرار دے کر منسوخ کرے۔

کرشن جنم بھومی تنازعہ:شاہی عید گاہ تنازعہ کے پیش نظر یوپی کے 8 اضلاع میں الرٹ

کرشن جنم بھومی-شاہی عیدگاہ تنازعہ کو لے کر مختلف عدالتوں میں داخل عرضیوں کے مدنظر اتر پردیش پولیس نے آٹھ اضلاع میں اپنی یونٹس کو ہائی الرٹ پر رہنے کی ہدایت دے دی ہے۔ عرضی دہندگان نے شہر میں شری کرشن مندر احاطہ کے پاس واقع مسجد میں مسلمانوں کی موجودگی پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (آگرہ زون)، راجیو کرشن نے کہا کہ انھوں نے آگرہ زون کے 8 اضلاع، جس میں متھرا بھی شامل ہے، کو نہ صرف متنازعہ جگہ پر بلکہ دیگر مقامات پر بھی سیکورٹی یقینی کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

خصوصی طور سے حساس مقامات پر۔ اے ڈی جی نے کہا کہ علاقہ کے سبھی 8 اضلاع کے پولیس چیف کو غیر سماجی عناصر پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی مذہب کے نام پر خیرسگالی کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔متھرا کے سینئر پولیس سپرنٹنڈنٹ (ایس ایس پی) گورو گرووَر نے کہا کہ ضلع میں سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے اور امن برقرار رکھنے کی سبھی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

یہ ہدایت تب دی گئی ہے جب اکھل بھارتیہ ہندو مہاسبھا کے دنیش شرما کے ذریعہ بدھ کو سول جج (سینئر ڈویژن) کی عدالت میں ایک نئی عرضی داخل کی گئی، جس میں کہا گیا تھا کہ ایک ہندو ہونے کے ناطے انھیں عیدگاہ میں پوجا کرنے کا حق ہے کیونکہ یہ ایک قدیم مندر تھا۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ متھرا شاہی عیدگاہ سے متعلق اب تک مجموعی طور پر 11 معاملہ درج کیے جا چکے ہیں۔ ایک گروپ نے ہندو پوجا کے ثبوتوں کو حاصل کرنے کے لیے اس مسجد کا سروے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ ایک دیگر فریق نے مسلم نمازیوں کی اس مسجد میں رسائی پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button