نئی دہلی، 19 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) گیان واپی مسجد معاملہ کی سپریم کورٹ میں آج کوئی سماعت نہیں ہوگی۔ عدالت جمعہ کو سہ پہر 3 بجے سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ نچلی عدالت کو آج کوئی حکم نہیں دینا چاہیے۔ ہندو فریق کے وکیل وشنو جین نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ اس معاملے کی سماعت کل کی جائے۔ جبکہ یوپی کے وکیل تشار مہتا نے جلد از جلد سماعت کی درخواست کی تھی۔ اس پر جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی کل سماعت کر سکتے ہیں۔ لیکن کل پہلے ہی 50 کیسز ہیں۔ مجھے اپنے ساتھی ججوں سے بات کرنے دو۔ اس کے بعد ججوں نے آپس میں بات کی اور جمعہ کو سماعت کرنے کو کہا۔
سپریم کورٹ میں جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس پی ایس نرسمہا کی بنچ میں سماعت شروع ہوئی۔ عدالت میں ہندو فریق نے کہا کہ ہم نے ابھی بیان حلفی داخل نہیں کیا، اس لیے مزید وقت دیا جائے، جس پر عدالت نے مسلم فریق سے پوچھا کہ آپ کو کوئی مسئلہ ہے؟ اس پر مسلم فریق کے وکیل حذیفہ احمدی نے کہا کہ کوئی حرج نہیں، صرف نچلی عدالت میں دیوار ٹوٹنے اور وضو خانہ کے حوالے سے سماعت ہونی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے کہا کہ ہم حکم جاری کر رہے ہیں کہ وارانسی لوئر کورٹ سے کوئی کارروائی نہ کی جائے۔
وارانسی کی عدالت نے دہلی کی رہنے والی راکھی سنگھ اور بنارس کی رہنے والی لکشمی دیوی، سیتا ساہو، منجو ویاس اور ریکھا پاٹھک کی درخواستوں پر 16 اپریل کو سروے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس سروے کے لیے کورٹ کمشنر بھی مقرر کیا تھا۔ 18 اگست 2021 کو، چار خواتین نے ایک درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا کہ گیانواپی کمپلیکس میں ہندو دیوتاؤں کی جگہ ہے۔ ایسے میں گیانواپی کیمپس میں ماں شرنگر گوری کے باقاعدہ درشن کی اجازت ہونی چاہیے۔
اجے مشرا کی پیش کی گئی سروے رپورٹ بے بنیاد، مسلم فریق کے وکیل کا دعویٰ
گیان واپی مسجد کی سروے رپورٹ آج ایڈوکیٹ کمشنر وشال سنگھ اور اجے پرتاپ سنگھ نے عدالت میں پیش کر دی اور معاملہ کی سماعت کل تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ دریں اثنا مسلم فریق کے وکیل ابھے ناتھ یادو نے کہا کہ ایڈوکیٹ کمشنر اجے مشرا کو عدالت نے برطرف کر دیا ہے، جبکہ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے بدھ کی شام اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عدالت نے انہیں برطرف کر دیا ہے تو انہیں رپورٹ پیش کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ابھے ناتھ یادو نے مزید کہا کہ عدالت نے 17 مئی کے اپنے حکم میں واضح کیا ہے کہ جو رپورٹ پیش کی جائے گی وہ وشال سنگھ اور اجے پرتاپ سنگھ پیش کریں گے۔
قانونی نقطہ نظر سے جس شخص کو ہٹایا گیا ہے وہ رپورٹ پیش نہیں کر سکتا۔ انہوں نے 17 تاریخ کے بعد اپنی رپورٹ پیش کی ہے۔ جب 17 کے بعد وہ ایڈوکیٹ کمشنر رہے ہی نہیں، لہٰذا رپورٹ کا کوئی جواز نہیں ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایڈوکیٹ کمشنر کی جانب سے رپورٹ پیش کئے جانے کے بعد عدالت دونوں فریقین سے اعتراضات طلب کرے گی اور اعتراض پیش کئے جانے کے بعد معاملہ پر سماعت کی جائے گی
۔سماعت کے بعد عدالت اس ایڈوکیٹ کمیشن کی رپورٹ کو قبول یا مسترد کر سکتی ہے۔میڈیا میں تمام ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی دکھائی جا رہی ہے، اگر تمام چینلز اور پرنٹ میڈیا پر چلائی جا رہی ویڈیو صحیح ہیں تو ایڈوکیٹ کمشنر کی رپورٹ درست نہیں ہے۔ پورے کمیشن کی کارروائی مشکوک ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں عدالت میں تمام کارروائی کروں گا اور قانونی جنگ لڑوں گا۔ میں افواہوں میں نہیں جاؤں گا، یہ فوارہ ہے یا شیولنگ ہے، اس کا فیصلہ کوئی ماہر کرے گا۔ نہ یہ میں کر سکتا ہوں اور نہ ہی دوسرے فریق کے وکیل، یہ فیصلہ ثبوت کی بنا پر کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ عدالت کی جانب سے مقرر کئے گئے دونوں اسسٹنٹ کمشنروں نے آج اپنی سروے رپورٹ عدالت کے سپرد کر دی ہے۔ جبکہ سابق ایڈوکیٹ کمشنر اجے مشرا نے کل شام اپنی رپورٹ پیش کی تھی۔اسسٹنٹ کمشنر وشال سنگھ نے کہا کہ رپورٹ بغیر کسی تعصب کے تیار کی گئی ہے اور اسے تیار کرنے کے دوران گزشتہ تین دنوں سے وہ سوئے نہیں۔ رپورٹ روی کمار دیواکر کی عدالت میں پیش کی گئی۔



