نئی دہلی، 19 مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) سماج وادی پارٹی (ایس پی) لیڈر اعظم خان کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت ملنے کی خبر مل رہی ہے۔ عدالت نے ان کی زمین پر قبضے اور دھوکہ دہی کے مقدمے میں عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ ضمانت آرٹیکل 142 کے تحت استحقاق کا استعمال کرتے ہوئے دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ٹرائل کورٹ میں دو ہفتوں میں باقاعدہ ضمانت کی درخواست دائر کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ ریگولر ضمانت پر فیصلہ آنے تک عبوری ضمانت جاری رہے گی۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ کیس کے عجیب و غریب حقائق کے پیش نظر عبوری ضمانت دی جارہی ہے۔ واضح ہو کہ اعظم خان فروری 2020 سے سیتا پور جیل میں بند ہیں۔ اس سے قبل منگل کو سپریم کورٹ نے ایس پی لیڈر کی عبوری ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ یوپی حکومت کے وکیل نے عدالت سے کہا تھا درخواست گزار کے معاملہ کے تفتیشی افسر کو بھی دھمکی دی گئی تھی۔ جب اعظم خان کا بیان ریکارڈ کیا جا رہا تھا،
تب بھی تفتیشی افسر کو دھمکی دی گئی تھی، میں ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں، وہ لینڈ مافیا اور عادی مجرم ہیں۔ دوسری جانب ارنب کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت میں کہا گیا کہ اس کیس میں بھی ایسے ہی کیسز تھے، لیکن اعظم خان کے خلاف مختلف کیسز میں ایف آئی آر درج ہیں۔ نیز اعظم خان کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ اعظم خان پچھلے دو سال سے جیل میں ہیں، تو دھمکی کی بات کہاں آتی ہے۔ یوپی حکومت اپنے مؤکل کو سیاسی بددیانتی کا شکار بنا رہی ہے۔ پچھلی سماعت میں عدالت نے حیرت کا اظہار کیا تھا کہ جب تمام مقدمات میں ضمانت ہو گئی ،تواعظم خان کے خلاف نیا مقدمہ کیسے درج کر لیا گیا۔
کیا یہ محض اتفاق ہے یا کچھ اور؟
یوپی حکومت کو اس پر جواب داخل کرنا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے ایس پی لیڈر اعظم خان کی ضمانت پر فیصلے کی عدم تعمیل پر بھی برہمی کا اظہار کیا تھا۔ اس سے قبل سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ اعظم خان کو 87 میں سے 86 مقدمات میں ضمانت مل چکی ہے۔ 137 دن گزر گئے، ایک کیس کا فیصلہ نہیں ہوا۔ یہ انصاف کا مذاق ہے۔ ہائی کورٹ نے فیصلہ نہ کیا تو ہم مداخلت کریں گے۔ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گاوائی کی بنچ نے یہ سماعت کی۔یوپی حکومت کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ الہ آباد ہائی کورٹ میں شام 6.30 بجے تک سماعت ہوئی۔
ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے اس لیے عدالت کو فی الوقت اسے نہیں سنانا چاہیے۔ سپریم کورٹ اس وقت سابق ایس پی وزیر اعظم خان کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔ قبل ازیں عدالت اعظم خان کی ضمانت پر سماعت کے لیے رضامند ہوگئی تھی۔درخواست کا ذکر اعظم کی جانب سے کپل سبل نے کیا تھا۔ خیال رہے کہ2017 سے اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد اعظم خان پر شکنجہ کسا گیا ہے ۔
2019 میں رام پور سے لوک سبھا کے رکن منتخب ہونے کے بعد ان کے خلاف 87 مقدمات درج کیے گئے تھے۔ اس کے بعد اسے فروری 2020 میں سیتا پور جیل بھیج دیا گیا۔طویل قانونی جنگ کے بعد اعظم خان کو 86 مقدمات میں ضمانت مل گئی ،لیکن جائیداد سے متعلق ایک کیس میں عدالت کا فیصلہ آنا باقی تھا۔ گزشتہ سال 4 دسمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ اس کے چار ماہ بعد اعظم خان نے عبوری ضمانت کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔اعظم خان نے الزام لگایا کہ یوپی حکومت سیاسی انتقام کی وجہ سے جان بوجھ کر تاخیر کر رہی ہے۔



