بین ریاستی خبریں

لالو یادو کے گھر اور متعلقہ ٹھکانوں پر سی بی آئی کا چھاپہ، نیا مقدمہ درج

پٹنہ،20مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)چارہ گھوٹالہ کیس میں ضمانت پر باہر آنے والے بہار کے سابق وزیر اعلیٰ لالو پرسال یادو کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ان کے ساتھ ان کی بیٹی بھی سی بی آئی کی کارروائی کی زد میں آ گئی ہے۔ درحقیقت سی بی آئی نے لالو اور ان کی بیٹی کے خلاف ان کے دور حکومت میں بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کا تازہ مقدمہ درج کیا ہے۔ بدعنوانی کے اس معاملے میں کارروائی کرتے ہوئے سی بی آئی کی ٹیم 15 مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے جس میں پٹنہ میں لالو کی رہائش گاہ (موجودہ رابڑی) شامل ہے۔

پٹنہ میں سی بی آئی کے تین افسران کی دو ٹیمیں رابڑی دیوی اور بڑے بیٹے تیج پرتاپ یادو سے پوچھ گچھ کر رہی ہیں۔ دہلی میں میسا بھارتی کی رہائش گاہ پر لالو یادو سے سی بی آئی کے ایس پی اور ڈی ایس پی سطح کے افسران پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔لالو سے بھرتی سے متعلق فائلوں کے بارے میں جانکاری مانگی جا رہی ہے۔ دوسری طرف آر جے ڈی کے کارکنوں نے سی بی آئی کی کاروائی کے خلاف پٹنہ میں احتجاج کیا ہے ۔ آر جے ڈی کارکنوں نے چھاپے کو سیاسی محرک بتایا۔ چھاپے کی شروعات میں افسران نے لالو کے بڑے بیٹے تیج پرتاپ کو ایک درخت کے نیچے بٹھا یاگیا

۔پٹنہ میں سی بی آئی کی 8 رکنی ٹیم 10 سرکلر روڈ پر واقع رابڑی کی رہائش گاہ پہنچی۔ ٹیم میں مرد اور خواتین دونوں افسران شامل ہیں۔ اس دوران کسی کے گھر میں داخلے پر پابندی عائد نہیں کی گئی ہے۔ ٹیم دستاویزات کی جانچ کر رہی ہے۔ سابق سی ایم اور لالو یادو کی بیوی رابڑی دیوی سے بھی پوچھ گچھ کی خبر ہے۔دراصل یہ معاملہ ریلوے بھرتی گھوٹالہ سے جڑا ہوا ہے۔

الزام ہے کہ 2004 سے 2009 کے درمیان جب لالو ریلوے کے وزیر تھے، نوکری دلانے کے بدلے زمین اور پلاٹ لیے گئے۔ سی بی آئی نے اسی معاملہ میں تحقیقات کے بعد لالو اور ان کی بیٹی کے خلاف نیا مقدمہ درج کیا ہے۔یہاں کارروائی کی اطلاع ملتے ہی رابڑی کی رہائش گاہ کے باہر کارکنوں کی بھیڑ لگ گئی۔ کارکنوں نے مرکزی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ طاقت کا غلط ا ور بیجا استعمال ہے۔ بی جے پی قانون ساز کونسل میں حاصل کامیابی سے خوفزدہ ہے۔ جس کی وجہ سے یہ چھاپہ مارا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button