نئی دہلی،21مئی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)ایف آئی آر درج کیے جانے کے چند دن بعد، دہلی یونیورسٹی کے ہندو کالج کے ایک 50 سالہ ایسوسی ایٹ پروفیسر کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پروفیسر نے وارانسی کی گیان واپی مسجد میں مبینہ طور برآمد نام نہاد شیولنگ کے تعلق سے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پوسٹ کیاتھا۔پولیس کے مطابق پروفیسر رتن لال نے جو تاریخ پڑھاتے ہیں ،مبینہ طور پر ڈھانچہ کی تصویر پوسٹ کی تھی اور منگل کو قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔
ایک افسر نے بتایا کہ لال کو پہلے پوچھ گچھ کے لیے طلب کیا گیا اور بعد میں گرفتار کر لیا گیا۔ ڈی سی پی (نارتھ) ساگر سنگھ کلسی نے جمعہ کی رات گرفتاری کی تصدیق کی۔ گرفتاری کے بعد آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن سمیت کچھ طلبہ گروپوں نے کہا کہ وہ مورس نگر میں پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوکر احتجاج کیا۔سی کی دفعہ 153-اے (مذہب کی بنیاد پر مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا) اور 295-اے (مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کے لیے بدنیتی پر مبنی حرکتیں) کے تحت ایک سماجی کارکن کی شکایت پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ منگل کی دیر رات سائبر پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی۔



