سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

ٹن پیک کھانے اور ہماری زندگیاں

محفوظ بنائی گئی خوراک یا پراسیسڈ فوڈ سے پہلی بار میرا سامنا کینیڈا کے دیہات میں ہوا جہاں ہم سات ایکڑ کے فارم ہاؤس میں اپنی ضرورت کی نوے فیصد خوراک اگاتے تھے۔گرمیوں میں ہمارا زیادہ تر وقت بے فکری سے جگنوؤں اور مینڈکوں کو پکڑنے میں گذرتا لیکن اگست کی آمد کے ساتھ ہی آنے والے موسم سرما کی تیاریاں زور پکڑ لیتیں۔اونٹاریو کے مرطوب موسم گرما میں تمام مچھلی سے لے کر مکئی کے ابلے ہوئے دانوں تک اپنے کھیتوں میں پیدا ہونے والی ہر چیز کو کچن میں جمع کر کے اسے ایک عمل سے گزار کر محفوظ بنایا جاتا تھا تاکہ شدید سردیوں کے موسم میں اسے استعمال کیا جا سکے۔

آج کل پراسیسڈ فوڈ یا محفوظ بنائی گئی خوراک کا مفہوم بہت ہی منفی ہے۔ جب بھی پراسیسڈ فوڈ کا ذکر آئے تو ذہن میں پلاسٹک میں لپیٹے ہوئے پنیر کا خاکہ ابھرتا ہے یا ’صرف پانی ملائیں اور کھائیں‘ والے کھانے ذہن میں آتے ہیں۔کیا تمام پراسیسڈ فوڈز کو ایک ہی زاویہ نگاہ سے دیکھنا مناسب ہے؟ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ خوراک کو محفوظ بنانے کے طریقے میں جدت آنے کی وجہ اس کی غذائیت میں بھی بہتری آئی ہے، خوراک کا ضیاع بھی کم ہوا اور انسان کو آسائش کے لمحات بھی میسر آئے ہیں۔صرف یہ کہہ دینا کہ تمام پراسیسڈ کھانے صحت کے لئے مضر ہیں ٹھیک نہیں ہے۔ بات اس سے زیادہ پیچیدہ ہے۔سالم اناج، پھلیاں اور دیگر ’پراسیسڈ غذائیں‘ جو آپ کی صحت کے لئے مفید ہیں

وہ محرّکات جنھوں نے ہمارے آباؤ اجداد کو خوراک کو محفوظ بنانے کے طریقے اپنانے کی طرف مائل کیا، وہی محرّکات اب بھی موجود ہیں۔ انسان نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے خوراک کو لمحوں میں فریز کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے غذا کے تمام اجزا کو اس وقت تک محفوظ کیا جا سکتا ہے جب تک مہینوں بعد ہزاروں میل دور کسی چولہے پر رکھ اسے پگھلایا نہ جائے۔خوراک کو محفوظ بنانے کی وجوہات میں کچھ اور عوامل بھی ہیں جس نے انسان کو خوراک کو محفوظ بنانے کے لئے جدت کی راہ پر گامزن کیا۔

جب نپولین کے دور کی جنگوں کے دوران فوجی جنگ سے زیادہ خوراک کی کمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے تو خوراک کو ڈبوں میں بند کرنے کا رجحان سامنے آیا۔جب 1912 میں برطانیہ میں ایک ایسا قانون منظور کیا گیا جس کے تحت امیر خاندانوں کو اپنے گھریلو ملازموں کو ہفتے میں آدھے دن کی چھٹی دینے کا پابند بنایا گیا تو تیار شدہ کھانے کا رجحان پروان چڑھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بیگمات کو ہر ہفتے کی ایک شام کا کھانا بنانا پڑتا تھا۔

سبزیوں کے اچار

فریزروں کی آمد سے پہلے سبزیوں کو مختلف طریقوں سے محفوظ بنایا جاتا تھا، دوسری عالمی جنگ میں چین سے ٹین کی سپلائی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں جس سے خوراک کو ڈبوں میں بند کرنے کا عمل رک گیا۔ تب فریج اور فریزر کا ظہور ہوا۔ ٹرکی پرندوں کی ضرورت سے زیادہ پیدوار سے ٹی وی ڈنر کے تصور کی ایجاد ہوئی۔

کیلیفورنیا کے ایک کاشتکار نے ہر سال 360 ٹن گاجروں کو ضائع ہوتے دیکھ کر ایک ایسی ایجاد کی جس نے امریکہ میں ایک چھوٹے سے گاجر انقلاب کو جنم دیا۔ کیلیفورنیا کے کاشتکار نے گاجروں کو چھیلنے والا ایک آلہ تیار کیا جس سے گاجر کو چھیل کر اسے دو انچ کے ٹکڑوں میں کاٹ کر ٹین کے ڈبوں میں پیک کرنے کا آغاز کیا۔ اس ایجاد سے امریکہ میں گاجر کی کھپت میں 33 فیصد اضافہ ہو گیا۔

جنگوں، خوراک کی طلب و رسد اور خوراک کے ضیاع نے انسان کو خوراک کی مسلسل فراہمی اور اس کی حفاظت کے لئے نئے طریقے استعمال کرنے پر مائل کیا۔جدید معاشرے میں خوراک کو محفوظ بنانے کی کوششوں کی ایک وجہ سہولت ہے۔ صرف چھ عشرے پہلے یعنی 60 برس پہلے تک شام کا کھانا تیار کرنے میں اوسطاً ڈیڑھ گھنٹہ صرف ہوتا تھا جو اب کم ہو کر آدھا گھنٹہ رہ چکا ہے۔پچھلے ساٹھ برسوں میں خاندانوں میں بڑی تبدیلی واقع ہوئی ہیں۔ اب پہلے کی نسبت بہت زیادہ خواتین گھروں سے باہر کام کرتی ہیں اور تنہا والدین کی تعداد تین گنا ہو چکی ہے۔

یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اب لوگ دن بھر کے کام کاج سے گھر لوٹ کر کھانا بنانے کے لئے کچن میں ڈیڑھ گھنٹہ نہیں گذارتے وہ بھی جب بھوکے بچے ان کا پیچھا کر رہے ہوں۔لیکن اب عام گھرانہ ٹی وی دیکھنے کے لئے اوسطاً چار گھنٹے کا وقت نکال لیتا ہے۔ کورونا کی وبا کے دوران ٹی وی دیکھنے کا وقت اوسطاً چھ گھنٹے ہو چکا ہے۔ شاید ہمیں ایمانداری سے یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہمارے پاس خوراک کی تیاری کے لئے وقت ہے یا نہیں اور کیا ہم اپنا وقت دوسرے کاموں پر صرف نہیں کر رہے؟

صرف یہ بات ہی اہم نہیں ہے کہ ہم خوراک کو محفوظ بنانے کے لئے اس میں تبدیلیاں کر رہے ہیں بلکہ وقت بدلنے کے ساتھ ہم جس انداز میں تبدیلیاں کر رہے ہیں یہ بھی اہمیت کا حامل ہے۔پنیر کی تیاری اس کی بہترین مثال ہے۔ انسان 10 ہزار سال سے پنیر تیار کر رہا ہے۔ پینر کی تیاری کا پہلا واقعہ شاید ایک حادثے کی وجہ سے ہوا۔ جانوروں کی کھال سے تیار مشک میں ڈالا گیا دودھ جب گرم ہوا تو اس کی ساخت بدلنے لگی اور اس سے دہی بن گیا اور پھر کسی دلیر انسان نے اس کو چکھنے کا فیصلہ کیا۔نئے نئے کھانوں کو چکھنے والے باہمت افراد نے محسوس کیا ہو گا کہ دہی کے انسانی جسم پر اثرات دودھ سے کم منفی ہوں گے۔

اس وقت کے لوگوں میں شاید لیکٹوز عدم برداشت اتنی نہیں تھی جتنی آج ہے۔ڈیری خوراک انسان کی پروٹین کی ضرورت کا سب سے بڑا ذریعہ بن گیا۔ صرف 8700 سال پہلے تک پنیر کی 700 مختلف قسمیں سامنے آ چکی تھیں اور یہ پوری دنیا میں تیار کیا جا رہا تھا۔

فیکٹریوں میں تیار کھانا

فیکٹریوں میں تیار کیے گئے کھانوں کی آمد سے شام کو کھانا تیار کرنے پر صرف ہونے والے وقت میں بہت کمی واقع ہو چکی ہے۔گذشتہ 200 برس میں انسان نے خوراک کی تیاری میں تنوع کو ناگواری میں بدل کر رکھ دیا ہے۔ فیکٹریوں میں اصلی خوراک کے قریب کی چیزیں تیار کی جاری ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مختلف فارمز سے دودھ کو اکٹھا کر کے اس سے پنیر تیاری کی جاتی ہے۔ اس عمل سے پنیر میں مختلف موسموں اور علاقوں کے ذائقے ختم ہو گئے ہیں۔
خوراک کو تیار کرنے والوں کی کوشش ہے کہ وہ تھوڑی لاگت اور تھوڑے وقت میں ایک جیسے ذائقے والا پنیر تیار کر سکیں۔ وہ دودھ سے ملائی اتار کر اسے زیادہ مہنگی اشیا بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

جب ملائی اتارے جانے کے بعد پنیر کا زرد رنگ ختم ہونے لگا تو پھر زرد رنگ کی کمی کو پورا کرنے کے لئے گاجروں کے جوس اور گیندے کے پھولوں کا استعمال شروع کر دیا گیا۔ اسی طرح فیکٹریوں میں تیزی سے پنیر بنانے کے لئے دودھ میں کیمیائی خمیر کا استعمال شروع کر دیا گیا۔

پچاس کی دہائی میں انسان نے کسی بھی مرکب کو گیس میں بدلنے کی صلاحیت حاصل کر لی۔ پھر لیبارٹریوں میں ذائقوں کو الگ کر کے ان کی شناخت کو ممکن بنایا گیا جس سے ماہرین خوراک نے پنیر میں امینو ایسڈ جیسے اجزا کو شامل کر کے بہت کم وقت میں نیا ذائقہ حاصل کر لیا۔سائنسی ترقی نے اینزائم یا کیمیائی خمیر کے استعمال سے ایسا پنیر تیار کر لیا ہے جو بہت سستا ہے اور اسے فیکٹریوں میں باآسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔اینزائمز کے استعمال سے پنیر میں دودھ کے کم سے کم استعمال سے ایسے ذائقہ حاصل کیے جا سکتے ہیں جو پہلے دودھ کے استعمال سے ہی ممکن تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ لیکن ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خوراک میں بہتری کی آڑ میں دھوکہ دہی تو نہیں ہو رہی، آخر کہاں لکیر کھینچی جائے؟

بطور صارف یہ ہمارا حق ہے کہ ہمیں بتایا جائے۔ ہمیں مینوفیکچرر کو اپنی قوتِ خرید سے یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے لئے کیا کچھ قابل قبول ہے اور وہ کہاں حدیں پار کر رہے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے خوراک کے عدم تحفظ، خوراک کے ضیاع اور اس سے ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے، یا پھر کھانے تیار کرنے والوں کی جیبوں کو مزید بھرا جا سکتا ہے۔

نیکولا ٹمپل کی کتاب سے ماخوذ

متعلقہ خبریں

Back to top button