لکھنؤ ، 24مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے بعد سماج وادی پارٹی میں اندرونی خلفشار کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ کبھی اکھلیش یادو اور شیو پال یادو کی نااتفاقی تو کبھی اکھلیش یادو اور اعظم خان کے فاصلوں پر بحث ہو رہی ہے۔ ایسے میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا ان پارٹیوں میں بے چینی پائی جا رہی ہے جنہوں نے یوپی انتخابات سے پہلے سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کیا تھا؟ ان جماعتوں میں سب سے نمایاں نام سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی کا ہے۔
پارٹی کے قومی صدر اوم پرکاش راج بھر نے تمام مسائل پر آواز اٹھائی ہے۔ وہ اکثر مختلف مسائل پر بیانات دیتے رہے ہیں۔ فی الحال انہوں نے جو بیان دیا ہے، اس سے اکھلیش یادو اور سماج وادی پارٹی پر سوال اٹھ رہے ہیں۔اوم پرکاش راج بھر نے کہا کہ ناکامی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کامیابی کے لیے کوشش پورے دل سے نہیں کی گئی، جس کے نتائج ہمیں بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ جو کمی رہ گئی ہے اسے ہم عوام کے پاس جا کر ہی دور کر سکتے ہیں۔ ہم ان سے (اکھلیش یادو سے) چار سے پانچ مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں۔
راج بھر نے کہا کہ ان کی پارٹی کے بہت سے لوگوں نے مجھ سے کہا ہے کہ ان سے کہیں کہ وہ گھر چھوڑ کر لوگوں سے ملاقات کریں۔ چار ماہ قبل جب ہم ان کے ساتھ آئے تھے تو ہم نے ان کے ساتھ اپنے علاقوں میں طاقت دکھائی تھی لیکن ان کے علاقوں میں ہی ہمیں شکست کا سامنا کرنا پڑا، تو ہم کیا کریں۔یوپی انتخابات کے بعد کئی بار ایسی خبریں سامنے آئیں کہ اوم پرکاش راج بھر سماج وادی پارٹی اور اکھلیش یادو کے کام کرنے کے انداز سے خوش نہیں ہیں اور بی جے پی میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔
تاہم راج بھر نے خود ہی ایسی خبروں کی تردید کی ہے لیکن اب انہوں نے جو بیان دیا ہے اس سے صاف ہے کہ راج بھر اکھلیش یادو کے کام کرنے کے انداز سے خوش نہیں ہیں۔ ایسے میں یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ کیا راج بھر اکھلیش یادو کو الوداع کہنے جا رہے ہیں؟۔



