ماہم ؍نئی دہلی، 24 مئی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ہریانہ کے ایک گلوکار کی لاش جو کچھ دن پہلے لاپتہ ہوگئی تھی، ہریانہ کے ماہم سے اس کی نعش ملی ہے۔ اس کے قتل کے الزام میں دو لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ پولیس نے منگل کو بتایا کہ سنگیتا عرف دیویا 11 مئی سے لاپتہ تھی اور اس کے اہل خانہ نے 14 مئی کو اس سلسلے میں شکایت درج کرائی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر تعزیرات ہند کی دفعہ 365 کے تحت جے پی کلاں پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ایک سینئر پولیس اہلکار نے بتایا کہ تفتیش کے دوران روی اور انیل کو ہفتہ کوماہم سے گرفتار کیا گیا۔
دونوں ملزمان نے انکشاف کیا کہ انہوں نے گلوکار ہ کے قتل کی سازش رچی تھی۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو اتوار کو سنگیتا کی نعش ملی تھی اور کیس میں قتل کی دفعات بھی شامل کی گئی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس شنکر چودھری نے کہا کہ ملزم نے میوزک ویڈیو بنانے کے بہانے ان سے رابطہ کیا تھا۔ اس نے بتایا کہ ایک شخص اسے دہلی سے اپنے ساتھ لے گیا، منشیات دی گئی اور پھر اسے قتل کر دیا گیا۔
چوہدری نے بتایا کہ ملزمان نے نعش کو تھانہ ماہم کے علاقے میں دفنایا تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے بعد خاتون کی لاش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ گلوکارہ کے رشتہ دار، بھیم آرمی کے کچھ مقامی رہنما اور دیگر لوگ گلوکارہ کی لاش کو جے پی کلاں پولیس اسٹیشن لے کر آئے اور ایک احتجاج کیا ،اور الزام لگایا کہ متاثرہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک زیادتی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔انہوں نے کہا کہ ملزمان پہلے خاتون کے دوست تھے ،اور گلوکارہ نے اس سے قبل روی کیخلاف عصمت دری کا مقدمہ درج کرایا تھا۔



