سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

ہم سے نہ ہوسکا کیونکہ منصف ہی قاتل بن بیٹھے✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

۱۹۲۵ء میں آر ایس ایس کی بنیاد ڈالی گئی، انگریزوں کے دور اقتدار میں، اس وقت یہ طے ہو چکا تھا بھارت کا مستقبل کس نظریات میں ڈھلا جاے گا، خالصتاً ہندوتوا کی نظریات پر آر ایس ایس کا قیام اسی نظریات کے تحت یہ جماعت گذشتہ ۹۸؍ سالوں سے کام کرتی چلی آرہی ہے، سارا کچھ ظاہری طور پر نمایاں ہے کوئی خفیہ تدبیریں نہیں جو نظریات آر ایس ایس کے ابتداء سے رہے ہیں، وہی نظریات آج بھی قائم ہے، اس نظریات کا واحد مقصد ہے ہندؤ کا ہندوستان، جس میں کسی دوسرے مزاہب کے پیروکار کا کوئی حصہ نہیں یہی اس جماعت کا نصب العین رہا ہے، آر ایس ایس نے یہ اعلانیہ اپنے قیام کے وقت ہی ظاہر کر دیا تھا۔

اس جماعت کا موقوف بڑا واضح ہے، شاید ایک یہی وجہ رہی ہوگی ملک کے تقسیم کی ، ملک تین ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا، بھارت چونکہ رقبہ کے لحاظ سے بڑا تھا آبادی کے لحاظ سے بھی یہ بڑا ملک تھا نیز بھارت نے سیکولرازم کی راہ اختیار کی، ۷۳؍ سالہ سیکولرازم اب بھارت میں اپنی آخری سانسیں یا اپنے آخری ایام کو پورا کر رہا ہے، نہ جانے کب اس کی روح پرواز کر جائے نہایت خوبصورت چالاکی سے آر ایس ایس نظریات کے حامی کارکنان سیکولر لبادہ پہن کر بھارت کے سیکولر نظام میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے نیز ایسی فضاء آر ایس ایس کو فراہم کرتے رہے جس سے سیکولرازم کے ڈھانچے کو بتدریج ایذا پہنچتی گئی، بابری مسجد شہید کر دی گئی۔

سیکولر نظام حکومت اسے تحفظ فراہم نہ کر سکی بابری مسجد کے مقدمے میں عدلیہ نے فیصلہ صادر کر کے سیکولرازم کے خستہ دیوار میں شگاف کر دیا اب یہ دیوار ڈھنے کے بلکل قریب ہے، آر ایس ایس تنظیم کی سیاہ بھیڑیں سیکولرازم کے پیراہن میں حکومت میں شامل تھی جنکے نظریات آر ایس ایس کے تھے وہی کامیاب ہوتے رہے متعدد ایسے فیصلے عدلیہ نے دیے جسے متنازع کہا جاسکتا ہے، عدالتوں کا استعمال بڑی خوبی سے کیا گیا، کوئی کہے تو کیا کہے عدالت کا فیصلہ ہے ورنہ توہین عدالت کی سزا اس پر مسلط کر دی جاتی زبانیں خاموش، آنکھیں نم دل بے حرکت، یہی ہوتا چلا آرہا ہے منصف ہی قاتل بن‌ بیٹھے۔

بہر کیف بھارت میں بنتے ماحول سے بخوبی یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ہندوتوا کا نظریہ ہر شعبے ہر ادارے کو اپنی ذد میں لے چکا، نیز یہ کہ سکتے ہیں بھارت ہندوتوا کو اختیار کر چکا حکومتی سطح پر مہز چند علامتی خانہ پری کرنا باقی رہ گئی ہے اس کے بعد اعلانیہ طور پر ظاہر کر دیا جائے گا کہ اب اس ملک میں دستور تبدیل ہوچکا سیکولرازم کی معیاد پوری ہوچکی لہٰذا اسے ختم کر دیا گیا، یہ سارا کچھ آنے والے وقت میں نمایاں طورپر نظر آئے گا، محض سو سال کے عرصے میں ایک تحریک نے اپنے نظریات کو اکثریتی طبقہ کے لوگوں میں غالب کر کے حکومت سازی کرلی ملک اب اسی طرز نظام کی طرف تیز رفتاری سے گامزن ہے، اس کے برخلاف دین اسلام ۱۴۴۳ء سالوں سے کرہ ارض پر اپنی موجودگی درج کر چکا۔

تاہم دین اسلام دور ء حاضر میں انتہائی پسپائی سے گذر رہا ہے، اسلام کے پیروکاروں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے، مسجدوں ، درسگاہوں میں قید دین اسلام اب اپنی اصلی شباہت چاہتا ہے، جو اسے رسول سعیدی محمد مصطفیٰ ﷺ نے عطا کی تھی، اسلام کے پیروکاروں نے اسلامی نظریات کو پس پشت ڈال دیا، مزہب کو ترجیح دی نیز اسے ہی خالص دین سمجھا جس میں نماز روزہ حج زکوٰۃ شامل ہیں، تاہم نظام محمد مصطفیٰ ﷺ کو بالائے طاق رکھ دیا، ۱۴۴۳ء سالوں میں بھی دنیا پوری اس بہترین اسلامی نظریات سے مستفیض نہ ہو سکی، غفلت نے اسلام کے پیروکاروں کو مذہب تک محدود رکھا، مسلمان اپنے اخلاقی، معاشی، اقتصادی، معاشرتی نظام کو عام نہ کر سکا گذشتہ سو سال سے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان کرہ ارض کے کسی کونے کسی ملک میں نظام محمد مصطفیٰ ﷺ قائم نہ کرسکے دین کا پیغام بے دینوں تک پہنچا نہ سکے بہر کیف اللہ قران میں فرماتے ہیں۔

سورہ توبہ آیت نمبر ۳۳؍ ترجمہ ” وہ اللہ ایسا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین عنایت فرما کر بھیجا ہے تانکہ اس کو کل دینوں پر غالب کر دے گو مشرک نہ پسند کریں ” نیز سورہ فتح آیت نمبر ٢٨ ترجمہ ” وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت کی اور دین حق دے کر بھیجا تانکہ اس کو تمام دینوں پر غلبہ عطا کریں اور اللہ گواہ کافی ہے ” مزید سورہ الصف آیت نمبر ٩ ترجمہ” وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ وہ اس کو سب دینوں پر غالب کر دے خواہ مشرکین نہ پسند کریں” ایک جیسی تین آیت تاہم سورہ الگ ان آیات کا مفہوم واضح ہے، اللہ کا دین ہی تمام دینوں پر غالب ہو کر رہے گا، افسوس کہ اللہ نے دین حق کے غلبے میں ہمیں حصہ دار نہ بنایا ہماری غفلتوں کی یہی سزا ہے۔

وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button