سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

تاریخی شخصیات پر مبنی سیاست✍️ایڈوکیٹ شیخ شاہد عرفان، ممبئی

بھارت میں سیاست کا رنگ تاریخی شخصیات کے گرد گردش کرتا رہا ہے، تقسیم ہند سے قبل یا تقسیم ہند کے بعد بھارت کی سیاست میں تاریخی شخصیات نے اہم کردار ادا کیا ہے اور مسلسل کرتے چلے جارہے ہیں، سیاست میں مغلوں کے بادشاہ و شہنشاہ نیز اس دور کے ایسے شخصیات جن کا براہ راست ٹکراؤ مغلوں سے رہا آج بھی بھارت کی سیاست میں یہی شخصیات نمایاں کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔

انگریزوں کے ظلم و ستم، جلیانوالہ باغ ہو یا بھگت سنگھ کو پھانسی، گاندھی جی و نہرو کی قید ہو یا انقلاب کا نعرہ یہ سبھی اہم آذادی کے پہلو پس پشت کردیے گئے، آج بھارت کی سیاست اورنگزیب و شیواجی مہاراج، مسجد و مندر تک محدود کردی گئی، عوام کے جذبات کو تاریخی شخصیات کی کردار کشی کرکے طیش میں لایا جاتا ہے۔نوبت یہاں تک پہونچ گئی مہاراشٹر میں ایک مقامی لیڈر نے اعلان کردیا اورنگزیب کی قبر کو نست ونابود کرنا یہی ان کا عزم ہے، ایسی سیاست جس میں صدیوں پرانی قبر پر تبصرہ نیز اسے بے حرمتی کرکے مسمار کرنا شامل ہو محض اس لیے کیا جارہا ہے تانکہ اکثریت طبقہ کے عوام کو یہ پیغام پہنچے ہندوتوا کے یہی نام نہاد محافظ ہے، اس طرح کے اعلانیہ سے لوگوں کے جذبات کو پرکھا جارہا ہے۔

اقلیت کا کس طرح کا ردعمل آتا ہے، منظم طریقہ کار کا استعمال عوام میں خلیج پیدا کرنے کے لئے کیا جانے لگا ہے، شیواجی مہاراج اپنے دور میں عزم کے ساتھ مغلوں سے محاذ آرا تھے، تاریخ یہی بتاتی ہے، بہر کیف اورنگزیب نے بھارت پر کم وبیش پچاس سال تک حکومت کی یہ بھی تاریخ ہمیں بتاتی ہے، اکبر بادشاہ نے بھی پچاس سال بھارت پر حکومت کی، یہ بھی تاریخ ہی ہمیں بتاتی چلی آرہی ہے۔

یہ دونوں بادشاہوں کے مزار دہلی اور اورنگ آباد میں موجود ہے نیز ان کے مزار پر تختی نصب ہے جو ازخود بیان کرتی ہے ان کے دور اقتدار کے تعلق سے نیز یہ واضح ہو جاتا ہے ان دو بادشاہوں نے بھارت پر سو سال تک حکمرانی کی، ملک میں بشمار تاریخی عمارتیں تعمیر کی جو آج بھی قائم ودائم ہے، بہر کیف آج وقت و حالات تبدیل ہوچکے ہیں، تاریخ تو یہاں تک بتاتی ہے شیواجی مہاراج کی جنگجو افواج میں مسلمان فوجی بھی شامل تھے، نیز اورنگزیب کی فوج میں ہندو فوجی یقینا شامل رہے ہونگے۔

یہ معرکہ خالصتاً سیاسی رہا ہوگا، اب صورتحال دیگر ہے، اورنگ زیب و شیواجی مہاراج کے مابین معرکہ آج مذہبی پراہین میں عوام کے روبرو پیش کیا جا رہا ہے، حتیٰ کہ شیواجی مہاراج کے نام سے ١٩٦٦ میں محترم بالا صاحب ٹھاکرے نے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی،شیو سینا آج شیواجی مہاراج کے نام ان کے بتائے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے حکومت سازی کرنے میں مہاراشٹر میں کامیاب ہو گئی، محترم ادھو ٹھاکرے کی قیادت میں مہاراشٹر آج امن و امان میں ہے، بہر کیف آج بھی شیواجی مہاراج بھارت کی سیاست کا حصہ ہے، اس کے برخلاف اورنگزیب بادشاہ مجرموں کے صف میں کھڑے نظر آتے ہیں،

حالات اس قدر شدت اختیار کر رہے ہیں، اب اعلان کیا جارہا ہے اورنگ زیب کی قبر کو مسمار کرنا ہے، بہر کیف انسان میں جب تک روح ہے انسان ذندہ و جاوید رہتا ہے اس کی روح پرواز کرنے پر انسان کا حقیقی جسمانی تعلق دنیا سے منقطع ہو جاتا ہے، نہ تو فوت شخص کسی کو زر پہنچا سکتا ہے نہ فاہدہ، تاہم زندہ انسان فوت شدہ انسان کو بخشنے کے لئے بھی راضی نہیں، یہ سیاست نہیں تخریب کاری ہے، جو عوام کو مزہبی بنیاد پر دو حصوں میں تقسیم کررہی ہے۔

صدیوں پر محیط گنگا جمنا تہذیب کا گہوارہ بھارت اب آندھیوں کے زد میں ہیں، یوں تو کہنے کو سیکولرازم ملک میں رائج ہیں، تاہم سیکولر جماعت کوئی سیاست میں اب باقی نہیں رہی، مزہبوں کا آپس میں ٹکراؤ عوام میں بے چینی کا سبب بنتا جارہا ہے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد عدالت نے فیصلہ مندر کے حق میں صادر کر دیا، یہ عدالت اعظمٰی کا فیصلہ نومبر ٢٠١٩ میں آیا، عدالت اعظمٰی کے فیصلے کے چند مہینوں بعد دنیا پوری کویڈ ١٩ کی ذد میں آگیٔ تقریباً دو سال تک انسان اپنی بقاء کی جنگ اس مہلک وباء کے خلاف لڑتا رہا۔

بلاآخر اللہ نے اس وباء میں تخفیف کی دنیا پوری میں دوبارہ زندگی معمول پر آنے لگی اسی اثناء دوبارہ سے تخریبی ذہنوں نے گردش لی اپنے اعزام کو عملی جامہ پہنانے کی، نیز مکمل طور پر کمر کس لی بابری مسجد کے بعد اپنا اگلا ہدف گیان واپی مسجد کو بنایا آنافانا عدالت سے عبوری راحت حاصل کرلی یہ جواز پیش کرکے مسجد میں شیو لنگ ملا ہے، ۔

گیان واپی مسجد بھی بابری مسجد کی راہ پر گامزن ہے، بصورت دیگر گیان واپی مسجد کا فیصلہ بھی تقریباً طے ہو چکا ہے صرف مناسب وقت کا انتظار ہے، تخریب کار عناصر یک کے بعد دیگر مسجدوں کو اپنا ہدف بنا رہے ہیں، گویا ملک میں یہ تصور پیش کر رہے ہیں ملک کی بیشتر مساجد کسی مندر کی ہی شکل تھی، سیکولر افراد نیز سیکولرازم نظام حکومت خاموش تماشہ بی بنی ہوئی ہے۔

یہ سیکولرازم کے ڈھانچے میں چھپے مزہبی جنونی افراد اپنے ہم خیال عناصر کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں، اورنگزیب، شیواجی مہاراج سے لیکر مسجد مندر تک کہ تمام معاملے محض گذشتہ چند ماہ سے مسلسل اٹھاے جارہے ہیں، مقصد صرف اقتدار تک رسائی حاصل کرنا ہے، اس اقتدار کی دوڑ میں اقلیت نشانے پر ہیں، گذشتہ ٧٠ سالوں سے اقلیتوں پر مظالم و ہر صورت ہراساں کرنے کا عمل حکومتی سطح پر جاری وساری رہا، تاریخ میں گذرے نامور شخصیات میں کسی کو عروج بخشا جارہا ہے، نیز کسی کو پسپا کیا جارہا ہے، یہ تخریب کاروں کی حکمت عملی ہے اور اللہ کی اپنی حکمت و منصوبہ ہے بہر کیف اللہ کا ہی منصوبہ غالب ہو کر رہے گا۔

وماعالینا الاالبلاغ المبین

متعلقہ خبریں

Back to top button