سرورقگوشہ خواتین و اطفال

مغربی تہذیب و ثقافت اور مسلمان خواتین✍️یرید احمد نعمانی

یہ بات اب طشت از بام ہوچکی ہے کہ ان این جی اوز کے پشت پناہ اقوام متحدہ، امریکہ اور صہیونی گماشتے ہیں، جن کا مطمح نظر اور مقصد حیات ہی اسلام کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھانا ہے۔تسلیم کہ ’’معاش‘‘ بعض مخصوص حالات وکیفیات میں کچھ خواتین کی اقتصادی مجبوری ہے۔ لیکن اس کے لئے حدود شرع کو پامال کرنا، اسلامی تعلیمات کا سرعام ’’عملی استہزا‘‘ کرنا اور مشرقی روایات واقدار کو پس پشت ڈالنا کہاں کی دانشمندی، روشن خیالی اور تہذیب یافتہ ہونے کی علامت ونشانی ہے؟

اسلام دین فطرت ہے۔ اس کی روشن، واضح اور غیر مبہم تعلیمات ہر دور وزمانہ میں چھوٹے سے لے کر بڑے تک، عورت سے لے کر مرد تک، بچہ سے لے کر بوڑھے تک، جاہل سے لے کر عالم تک، فقیر سے لے کر غنی تک غرض ہر ایک کے لئے یکساں قابل قبول وعمل تھیں، ہیں اور رہیں گی۔ کمی اور نقص انسان کی کمزوری اور خامی ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے مسلمان خواتین اپنی متاع عفت وایمان کی حفاظت، اہمیت اور ضرورت کو اسلام کی آفاقی تعلیمات کی روشنی میں جاننے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی سعی بلیغ کریں۔

سردست صاحب ایمان خاتون کا لباس اسلام کی نگاہ میں کیا اہمیت وحیثیت رکھتا ہے؟ اس سوال کا جواب ’’دین مبین‘‘ کی تعلیم کردہ ہدایات کے آئینے میں دیکھتے ہیں۔

٭ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’اللہ تعالیٰ ان عورتوں پر رحم فرمائے جنھوں نے اسلام کے ابتدائی دور میں (مکہ سے مدینہ) ہجرت کی۔ جب اللہ پاک نے ’’ولیضربن بخمرھنّ علی جیوبھنّ‘‘ کاحکم نازل فرمایا تو انھوں نے اپنی موٹی چادروں کو کاٹ کر دوپٹے بنالیئے۔‘‘ مفسرین لکھتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں مشرک عورتیں سرپردوپٹہ کرکے بقیہ حصہ کمر پر ڈال دیا کرتی تھیں۔ اس کے برعکس مسلمان عورتوں کو حکم ہوا کہ سرسمیت سینہ اور گلے پر بھی دوپٹہ ڈالیں۔

یہ حکم سن کر صحابیات نے موٹی چادروں کو کاٹ کر اپنے دوپٹے بنالئے، کیونکہ باریک کپڑے سے سر اور بدن کا پردہ نہ ہوسکتا تھا۔ ’’تحفہٴ خواتین‘‘ میں مولانا عاشق الٰہی رحمہ اللہ حدیث مذکور کے ذیل میں رقمطراز ہیں: ’’آج کل کی عورتیں سر چھپانے کو عیب سمجھتی ہیں اور ڈوپٹہ اوڑھتی بھی ہیں تو اس قدر باریک ہوتاہے کہ سرکے بال اور مواقع حسن وجمال اس سے پوشیدہ نہیں ہوتے، دوسرے اس قسم کا ڈوپٹہ بناتی ہیں کہ سرپر ٹھہرتا ہی نہیں چکناہٹ کی وجہ سے بار بار سرکتا ہے اور پردہ کے مقصد کو فوت کردیتا ہے۔‘‘

٭حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ پاک ایسے مرد پر لعنت فرماتے ہیں جو عورت کا لباس پہنے اور ایسی عورت بھی اللہ تعالیٰ کی لعنت کی سزاوار ٹھہرتی ہے جو مرد کا پہناوا زیب تن کرے۔‘‘ اس حدیث مبارک کی روشنی میں اپنے گرد وپیش پر نظر ڈالیے! فیشن پرستی کا ماحول، موسم اور فضا اباحیت پسندی، جنسی بے راہ روی، فحاشی وعریانی اور مادیت کی یورش ہر سوبپا کئے ہوئے ہے۔ نادانی خود فریبی اور نفس پرستی کا شکار مسلمان ’’غیروں‘‘ کی نقالی میں اس قدر منہمک ہوچکا ہے کہ مرد وزن کے ہیئت لباس، نوعیت کار اور پیدائشی فرق تک کو ختم کردینے پہ تلاہوا ہے۔

اب مسلماں میں بھی نکلے ہیں کچھ روشن خیال
جن کی نظروں میں حجات صنف نازک ہے وبال
چاہتے ہیں بیٹیوں، بہنوں کو عریاں دیکھنا
محفلیں آباد لیکن گھر کو ویراں دیکھنا

متعلقہ خبریں

Back to top button