یہ سال بھی آخرکار بیت گیا۔۔31 دسمبر کی رات – غفلت یا نصیحت؟✍️شیخ فاطمہ بشیر (ممبرا)
نئے سال کا جشن یا گناہوں کی دلدل؟
نئے سال کا جشن یا گناہوں کی دلدل؟
31 دسمبر کی رات ظاہری طور پر روشنی سے جگمگا رہی ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں یہ معصیت اور گناہوں میں ڈوبی تاریک شب ہوتی ہے۔ نوجوان، بوڑھے، بچے، مرد و خواتین سبھی اس جشن میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ انہیں اپنی اصل شناخت کا بھی خیال نہیں رہتا۔ شراب نوشی، رقص و سرور کی محفلیں، بے حیائی اور وقت کی بربادی جیسے گناہ عام ہو جاتے ہیں۔ افسوس کہ مسلمان نوجوان بھی اس مغربی تہذیب کی اندھی تقلید میں اپنی روایات بھلا چکے ہیں۔
🎭 جشنِ سالِ نو اور حقیقتِ زندگی
نئے سال کے آغاز پر ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ یہ ہماری زندگی میں کیا تبدیلیاں لائے گا۔ ہر گزرتا سال ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔ ایسے کئی لوگ تھے جو پچھلے سال جشن مناتے ہوئے حادثات کا شکار ہوئے یا اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ موت ایک اٹل حقیقت ہے اور دنیاوی خوشیوں میں کھو کر اسے بھول جانا حماقت ہے۔
📜 تاریخ اور نئے سال کی تقریبات
تاریخی اعتبار سے 1 جنوری 1600 میں اسکاٹ لینڈ میں پہلی بار نئے سال کا جشن منایا گیا، اور وقت کے ساتھ یہ دنیا بھر میں ایک روایت بن گئی۔ مسلمانوں نے بھی غیر محسوس طریقے سے مغربی ثقافت کو اپنا لیا اور اپنے دین و تہذیب کو پس پشت ڈال دیا۔ آج شیطان گمراہی کو خوشحالی اور بربادی کو ترقی کے روپ میں پیش کر رہا ہے، اور ہم اس کے جال میں آ چکے ہیں۔
📖 قرآن کا پیغام اور دنیاوی زندگی کی حقیقت
قرآن کہتا ہے: "دنیا کی زندگی تو بس کھیل و تماشا ہے اور آخرت کا گھر بہتر ہے اُن کے لیے جو تقویٰ رکھتے ہیں” (سورۃ الانعام : 32)۔ دنیا کی چمک دمک عارضی ہے، اور یہ محض ایک امتحان ہے جس کا اصل نتیجہ آخرت میں معلوم ہوگا۔ "کہو، کیا میں تم کو بتاؤں کہ سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں؟ وہ جن کی کوشش دنیا میں اکارت ہو گئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں” (سورہ الکہف : 103-104)۔
🔍 احتساب کا وقت: کیا ہم آخرت کے لیے تیار ہیں؟
سال کے اختتام پر ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے کہ ہم نے کس حد تک اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا۔ کیا ہم اپنی آخرت کے لیے تیاری کر رہے ہیں یا محض دنیاوی خوشیوں میں کھو چکے ہیں؟ اللہ نے جنت کی نعمتوں کو یوں بیان کیا: "خدا سے ڈرنے والے امن کی جگہ میں ہوں گے، باغوں اور چشموں میں، باریک اور دبیز ریشم کا لباس پہنے ہوں گے” (سورۃ الدخان : 51-56)۔
🕌 دعا: نیا سال برکت اور ہدایت کا ذریعہ بنے
اے اللہ! ہمیں معافی، ہدایت، رحمت اور کامیابی عطا کر۔ اس نئے سال کو خیر و برکت کا سال بنا، ہمیں مغربی خرافات سے محفوظ رکھ اور دین کی سربلندی کے لیے ہمیں مضبوط بنا۔ ہمیں ایسا بنا کہ جب قیامت کے دن ہمارا حساب ہو تو ہم "یا ایتھا النفس المطمئنۃ” (اے اطمینان والی روح) کے زمرے میں شامل ہوں۔



