فیس باز ادائیگی کی رقومات کی تین سال سے عدم اجرائی ۔ طلبا و طالبات کو شدید مشکلات کا سامنا
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے چلائی جانے والی اسکیمات کے ٹھپ ہونے کیلئے ذمہ دار کون ہے ! حکومت تلنگانہ تمام طبقات کی یکساں ترقی اور سیکولر ازم کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو گذشتہ تین برسوں کے دوران ریاست میں مسلم طلبہ جو کالجس میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ ترک تعلیم پر مجبور ہو رہے ہیں یا سلسلہ تعلیم کو بہتر بنانے سے قاصر ہیں کیونکہ انہیں کالجس کی جانب سے فیس کی ادائیگی کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگا ہے اوربیشتر طلبہ ‘ والدین یا سرپرست کالجس کے بقایاجات ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے طلبہ کیلئے فیس باز ادائیگی اسکیم کی رقومات کی گذشتہ تین برسوں سے اجرائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کالج انتظامیہ بلکہ طلباء اور طالبات کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
کالجس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پچھلے دو برسوں کے دوران کورونا وباء کے سبب معاشی حالت ابتر ہے اور وہ مزید برداشت کے موقف میں نہیں ہیں اسی طرح جن طلبہ نے ڈگری مکمل کرلی ہے ان کے اسنادات کالج انتظامیہ کے پاس جمع ہیں اور وہ ان اسنادات کی اجرائی نہیں کر رہے ہیں کیونکہ طلبہ کے طویل مدتی بقایاجات وصول طلب ہیں۔ جن طلبہ نے ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملازمت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے پاس اسنادات موجود نہ ہونے کے سبب ملازمت کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
حکومت نے اقلیتی طلبہ کی فیس بازادائیگی اسکیم کو اقلیتی کمشنریٹ کے حوالہ کیا ہے اور اقلیتی کمشنریٹ میں کوئی عہدیدار اسکیم کی رقومات کی اجرائی پر جواب دینے کے موقف میں نہیں ہے ۔ ضلع اقلیتی ویلفیر آفیسرس سے دریافت کرنے پر کہہ رہے ہیں کہ کالجس کے بقایاجات کے متعلق وہ عہدیداروں کو واقف کرواچکے ہیں اور طلبہ کو درپیش مسائل اور کالجس کی جانب سے فیس بازادائیگی کی رقومات وصول نہ ہونے کے سبب اسنادات حوالہ نہ کئے جانے کے متعلق بھی عہدیدار واقف ہیں لیکن ان کا کہناہے کہ کالجس پر دباؤ ڈال کر طلبہ کے اسنادات دلوائے جائیں لیکن کوئی حکومت پر دباؤ ڈال کر فیس کی رقومات کی اجرائی کو یقینی بنانے کی بات نہیں کر رہا ہے۔
ریاستی وزیر اقلیتی بہبود اس معاملہ سے مکمل لاعلم ہیں کیونکہ انہیں محکمہ اقلیتی بہبود کی بنیادی اسکیمات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور نہ ہی عہدیدارانہیں محکمہ کے مسائل سے واقف کروانے میں کامیاب ہورہے ہیں۔ فیس باز ادائیگی پر عدم عمل آوری سے اقلیتی طلبہ بالخصوص مسلم طلبہ نہ تعلیم جاری رکھ پا رہے ہیں اور نہ ملازمت حاصل کر پا رہے ہیں ۔ حکام کی نظر میں یہ ان کی معمولی لا پرواہی ہے لیکن تین برسوں سے فیس باز ادائیگی کی عدم اجرائی مسلمانوں میں تعلیمی و معاشی پسماندگی کا سبب بن رہی ہے۔



