اترپردیش میں اسرائیل کی بلڈوزر پالیسی پر عمل جاری-مسلمانوں کو خوفزدہ اور اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کی کوشش
یو پی میں جے این یو طالبہ آفرین فاطمہ کے مکان پر بلڈوزر کارروائی پر ویلفیر پارٹی کا شدید ردعمل
حیدرآباد:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) ملک میں لاقانونیت کو پھیلنے دینا تباہی کو دعوت دینا ہے اور اترپردیش کے جنگل راج کے خلاف قانونی اور سیاسی لڑائی ضروری ہے۔ صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیا قاسم رسول الیاس نے آفرین فاطمہ کے مکان کے انہدام پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہو ں نے بتایا کہ بلڈوزر کے ذریعہ دو پیغام دینے کی کوشش کی جار ہی ہے جس میں ایک پیغام مسلمانوں کے لئے دیا جا رہاہے کہ تم اپنی حد میں رہواور اگر حد سے تجاوز کروگے تو تمہارے مکان منہدم کردیئے جائیں گے اور تمہیں بے گھر کردیا جائے گا۔ دوسرا پیغام اکثریتی طبقہ کے لئے دیا جا رہاہے کہ یہ انہدامی کاروائی مسلمانو ںکو قابو میں رکھنے اور غیر مسلموں کے دبدبہ کی برقراری کیلئے کی جا رہی ہے۔
قاسم رسول الیاس نے کہا کہ مسلمانوں کے گھروں کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں منہدم کیا جانا دراصل انہیں خوف میں مبتلاء کرنے کی کوشش ہے لیکن ان غیر قانونی کوششوں پر اختیار کی جانے والی خاموشی انتہائی مشکل حالات کے پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جاوید محمد کے مکان کے نام پر جس عمارت کو منہدم کیا گیا ہے وہ دراصل ان کی اہلیہ کا مکان ہے اور یہ مکان ان کی اہلیہ کے والد کا دیا ہوا ہے۔ صدر ویلفیر پارٹی آف انڈیانے بتایا کہ اترپردیش ‘ مدھیہ پردیش اور جہاں کہیں بلڈوزر کے ذریعہ مسلمانوں کے مکانات منہدم کئے جا رہے ہیں وہ لاقانونیت کی بدترین مثال ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سنگباری کا الزام عائد کرتے ہوئے مکانات کو منہدم کیا جانا کوئی انصاف نہیں ہے بلکہ ظلم کے مترادف ہے۔
سنگباری کا الزام عائد کرتے ہوئے کی جانے والی ان کاروائیوں کے خلاف اگر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قانونی کاروائی نہیں کی جاتی ہے اور انسانیت کی علمبردار سیاسی جماعتیں لاقانونیت کے اس رویہ کے خلاف اٹھ کھڑی نہیں ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں کل اپوزیشن قائدین کے گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ جاوید محمد کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ سی اے اے اور این آر سی کے خلاف جدوجہد کے دوران سرگرم رہے علاوہ ازیں ان کی دختر آفرین فاطمہ جے این یو کی طالبہ اور متحرک طلبہ تنظیم سے وابستہ ہے۔
ایس کیو آر الیاس نے کہا کہ اگر کسی احتجاج کے دوران کوئی سنگباری کا واقعہ پیش آیا بھی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پتھر کے جواب میں گولی داغ دی جائے یا پتھر مارنے والوں کے گھروں کو منہدم کردیا جائے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر گشت کرر ہے نظریہ پر کہ حکومت ہند ‘اسرائیلی پالیسی پر عمل پیرا ہے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جو کوئی یہ کہہ رہے ہیں وہ درست ہے کیونکہ اسرائیل میں بھی مسلمانوں کے گھروں کو صرف اسی بنیاد پر نشانہ بنایا اور منہدم کیاجاتا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی فورسس پر پتھراؤ کرتے ہیں۔انہو ںنے بتایا کہ ویلفیر پارٹی آف انڈیا ریاستی حکومتوں کی جانب سے کی جانے والی اس طرح کی غیر قانونی انہدامی کاروائیوں کے خلاف سیاسی مہم کے علاوہ قانونی چارہ جوئی کا آغاز کرے گی۔



