گوشہ خواتین و اطفال

سبھی دیوانے جہیز کے✍️حبیبہ اکرام…ممبئی

(افسانہ )

اسکا نام یاسمین تھا ۔جیسا خوبصورت نام ویسی خوبصورت اسکی شخصیت تھی۔ناز و ادا سے لبریز اسکی خوشحال زندگی گو یا طلوع ہوتے ہوئے آفتاب سے ہم کلام تھی۔ کہ تیری روشنی میرے خوب صورت وجود کے آگے کچھ بھی نہیں چاند سے کہہ رہی تھی تیری چاندنی کی بساط میرے آگے کچھ بھی نہیں اور پھر یاسمین جیسے خوبصورت گوہر نایاب کو ایک خریدار مل ہی گیا اور اس کی شادی اس کے شہر میں ہو گئی یاسمین حیرت زدہ تھی کہ وہ ابھی تو زندگی کو ٹھیک سے دیکھ بھی نہیں پائی تھی۔

اور اچانک اسکی شادی کیسے۔۔۔؟؟

لیکِن یاسمین جتنی خوبصورت تھی ساتھ ہی ساتھ ماں باپ کی اتنی فرما بردار بھی تھی۔۔خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ اسے خوب سیرت ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔شاید یہی وجہ تھی کہ یاسمین آج کی موڈ ن لڑکی ہونے کے باوجود بھی ماں باپ سے افف تک نا کہہ پائی اور ہنسی خوشی سے مان گئ۔یاسمین کی امی نے اپنی پیاری بیٹی کے لیے سنہرے خواب دیکھنے شروع کر دیے تھے۔۔اور شادی کے لیے ہر وہ چیز جوڑنی شروع کر دی تھی جو بیٹی کو دی جاتی ہے

اور پھر سگائ کی رسم بڑی آب و تاب سے منائی گئی۔۔۔

اسکے بعد رفتہ رفتہ لڑکے والوں کی فرمائشیں چھپکلی کی دم کی طرح بڑھتی جا رہی تھی ۔
جتنا فرمائش پوری کر کر کے یاسمین کے والد اس دم کو کاٹنے کی کوشش کرتے وہ دن بہ دن بڑھتی جاتی۔۔۔
اور پھر شادی کا وقت عنقریب آگیا۔۔
پھر لڑکے والوں کی ایک نئی فرمائش اُبھری کہ ہمارا لڑکا آفس میں بس سے اور آٹو سے جاتا ہے اسے بائک چاہیے۔۔۔
آنے جانے کے لیے گاڑی کی ضرورت ہے۔۔
بس لڑکے والوں کے منہ سے نکلنا ہی تھا کہ ہلدی کی شام کو ہی لڑکے کے گھر نئی ہونڈا موٹر سائیکل کھڑی کر دی گئی۔۔۔
اور پھر اگلے ہی دن شادی بڑی دھوم دھام سے انجام پائی۔۔
لیکِن اس شادی کا معیار و وقار کیسے قائم رہتا جس شادی کی گاڑی کے پہیے جہیز کے بنے ہوئے۔۔۔؟؟
اور ہوا بھی وہی۔۔۔
یاسمین کی شادی کی گاڑی بہ مشکل جہیز کے کمزور پہیوں پر محض صرف پانچ دن ہی چل سکی۔۔۔۔
اور یہ گاڑی دو لاکھ کیش کی فرمائش کے ساتھ وہی رک گئی۔۔۔۔
یاسمین اپنی قسمت پر زار و قطار رو رہی تھی۔۔اسکے گرتے آنسو ں ہمارے اس جہیز کے دیوانے سماج سے انصاف کا مطالبہ کر رہے تھے۔۔۔
کہ۔۔۔۔کیا ہمارا سماج اور ہمارے سماج میں شادی جیسے مقدس بندھن کی خوبصورت گاڑی کو چلانے کے لیے جہیز کے پہیوں کی اتنی ضرورت ہے۔۔؟؟
کیا ہماری یہ شادی کی گاڑی اتنی کمزور ہے۔۔۔؟
کہ بنا جہیز کے پہیوں کے چل نہیں سکتی ۔۔
یاسمین اپنی بے بسی پر آنسوں بہا رہی تھی ۔۔۔

متعلقہ خبریں

Back to top button